*بری، بحری، فضائی افواج اور محفوظ پاکستان*
تحریر
*کیپٹن ر غلام شبیر منہاس*
دنیا میں وقت، حالات، چیلنجز اور وسائل پہ مختلف ادوار میں مخلتف آراء آتی رہیں، تجزیہ کاروں کے مقالات و خیالات بدلتے رہے مگر پوری دنیا اس پہ متفق ہے کہ کسی بھی ملک کی بقاء اور اس کی جغرافیائی حدود کی پاسداری و تقدس برقرار رکھنے کیلئے ایک مضبوط و منظم فوج کا ہونا لازمی امر یے۔ تاریخ اپنے اندر ایسے کئی ابواب رکھتی ہے کہ بظاہر وسائل سے مالامال ملک اگر فوج جیسے بنیادی ڈھانچے سے محروم تھے تو وہ حملہ آوروں کیلئے ترنوالہ ثابت ہوئے۔ اور بنا کسی مزاحمت کے خس و خاشاک کیطرح بہہ گئے۔ اس پہ دوسری کوئی رائے تو پہلے بھی نہیں تھی۔ مگر حالیہ بھاک بھارت جنگ نے اس فلسفہ پر وہ مہر ثبت کی ہے کہ جس کو قیامت تک جھٹلانا ممکن نہیں رہا۔ کئی گنا بڑے ملک، بڑی معیشت اور بڑی فوج کو جس طرح ان کے مدمقابل ایک چھوٹے ملک کی منظم فوج نے ناکوں چنے چبوائے اور ان کے غرور و تکبر کو خاک میں ملایا تو اس پہ ایک بار پھر پوری دنیا کو احساس ہوا کہ ملکوں کی بقاء کیلئے ایک مضبوط و منظم فوج کس قدر ضروری ہوا کرتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کو تین اطراف سے خطرہ ہوتا یے۔ اس لیئے تین اقسام کی افواج ہوا کرتی ہیں۔ ہمارا آج کا موضوع تحریر چونکہ پاکستان سے متعلق ہے سو ہم اسی پہ بات کریں گے۔
پاکستان کی مسلح افواج تین طرح کی ہیں۔ بری، بحری اور ہوائی، انکا مختصر تعارف کچھ یوں ہو گا۔
بری فوج (آرمی)
بری فوج زمینی کارروائیوں کیلئے مختص ہوا کرتی ہے۔ اسکا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع ہوتا ہے۔ آرٹلری( توپیں) اور آرمڈ ( ٹینک) جیسے کئی شعبے اسی فوج کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور یہ مل کر ایسی مربوط چین بناتے ہیں جس سے نہ صرف ملکی سرحدوں کا دفاع ممکن ہو سکے بلکہ یہ دشمن کی سرحدوں کے اندر تک بھی گھس کر قابض ہو جاتے ہیں۔
بحری فوج( بحریہ یا نیوی )
بحریہ سمندری علاقوں اور ساحلوں کی حفاظت پہ مامور ہوا کرتی ہے۔ اور بڑی آبی گزرگاہوں کیطرف سے آنے والے سرحدی راستوں کو محفوظ بناتی ہے۔ یہ بحری جہازوں اور آبدوزوں کیساتھ نہ صرف اپنے علاقوں کی موثر نگرانی کو یقینی بناتی ہے بلکہ بوقت ضرورت دشمن کے پانیوں میں اندر تک جا کر کاروائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
ہوائی فوج ( فضائیہ یا ایئرفورس )
ملکی فضاوں کی حفاظت پہ مامور ہوا کرتی ہے۔ ہوائی جنگوں اور کارروائیوں کیلئے مختص ہے۔ اور اپنے ملک کی زمین و پانی کے اوپر کھڑے آسمان کی نگرانی کرتی ہے۔
اس کے علاوہ رینجرز، ایف سی اور سپیشل سروسز گروپ یعنی ایس ایس جی سمیت کئی شعبہ جات ہیں جو اسی نظم کے تحت اپنی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
ان تینوں فورسز کا اگر مختصر سا احاطہ کیا جائے تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان کی شاندار اور ناقابل فراموش تاریخ رہی ہے۔ متحدہ ہندوستان کی تقسیم کیوقت عسکری اعتبار سے دیئے گئے وسائل بھی آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ اور ہماری ان تینوں فورسسز کو بھی باقی ماندہ محکموں کیطرح زیرو سے اپنی شروعات کرنا پڑیں۔ مگر بہت جلد انہوں نے نہ صرف خود کو سنبھالا، پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھیں بلکہ خود کو منظم و مربوط کرنے کے ایک ایسے سفر کا آغاز کیا جسکی گواہی آج پوری دنیا ببانگ دہل دیتی نظر آتی ہے۔
تعداد اور ذمہ داریوں کے اعتبار سے فورسسز میں بری فوج سب سے اہم ہے۔ اور اسی کے ذمہ ہے کہ ایسا مربوط نظام وضع کیا جائے کہ ملک کو جنگ کے خطرات اور بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم وفاقی حکومت کیطرف سے اندرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ بری فوج نے قیام پاکستان کے بعد نہ صرف 65ء اور 71ء کی جنگوں میں اپنا بھرپور کردار نبھایا بلکہ سیاچن افغانستان کیساتھ ڈیورنڈ لائن پر عرصہ سے دراندازی روکنے اور شدت پسندوں سے نمٹ میں مصروف عمل ہیں۔اسی طرح بلوچستان کے وسیع و عریض علاقہ میں بھی بیرونی طاقتوں کے آلہ کاروں سے نبرد آزما ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت دنیا بھر میں امن مشن قائم کرنے کے حوالہ سے بھی بری فوج کا ایک قابل تحسین کردار ہے جس سے دنیا انتہائی احترام سے دیکھتی ہے۔مسلح فوج کا یہ شعبہ نہ صرف ہنگامی حالات سے نمٹتا ہے۔۔قدرتی آفات میں قوم کی خدمت کیلئے سربکف ہے بلکہ سیاچن گلیشئر کے برف پوش پہاڑوں سے بدین کے بے آب و گیاہ ریگستانوں تک وطن کے چپے چپے کا پوری مستعدی سے دفاع کر رہا ہے اور اپنی آغوش میں سوار محمد حسین شہید سے لے کر حوالدار لالک جان کے ان گنت بیٹے سموئے بیٹھا ہے۔
پاک بحریہ نے 1947ء سے اپنے عسکری سفر کو زیرو سے شروع کیا مگر 65ء تک دن رات ایک کر کے خود کو منظم کر لیا۔ یکم جون 1964ء کا دن بحریہ کی تاریخ کا ایک یادگار دن تھا جب اس نے اپنی پہلی آبدوز “غازی” کو بحری بیڑے میں شامل کیا۔ اس آبدوز کی شمولیت سے نہ صرف سمندری دفاع ناقابل تسخیر ہوا بلکہ دشمن پہ اس نام یعنی غازی کی ایسی دھاک بیٹھی کہ اس نے 65ء کی جنگ میں سمندری حدود کو بہت محتاط طریقے سے استعمال کیا۔ اور اپنے سب سے بڑے بحری بیڑے “وکرانت” کو غازی کے ڈر اور خوف سے سات سو کلومیٹر دور جزائر اندامان میں لے جا کر چھپا دیا۔ بحریہ نہ صرف پاک بھارت جنگوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے حوالہ سے صف اول میں رہی بلکہ اپنی روز مرہ ذمہ داریوں یعنی پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت، سمندری تجارت اور جہازرانی کے راستوں کو محفوظ بنانے، تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت اور بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت کو اپنے علاقے تک محدود کرنے کو بطریق احسن نبھائے چلی جا رہی ہے۔
پاک فضائیہ جس کے بطن سے راشد منہاس اور ایم ایم عالم جیسے شاہینوں نے جنم لیا۔ آج پوری دنیا میں توجہ کا مرکز و محور بنی ہوئی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر تادم تحریر اس ملک پہ جب بھی کوئی آزمائش آئی تو ہمارے یہ شاہین آسمانوں کا کلیجہ پھاڑتے ہوئے پہلی صف میں کھڑے نظر آئے۔ اور ایم ایم عالم کے ان روحانی بیٹوں نے نہ صرف ابی نندن تک یہ روایت برقرار رکھی بلکہ حالیہ پاک بھارت میں جب دنیا کی جہازوں کی سب سے بڑی جنگ ہوئی تو اس میں بھی وہ یوں سرفراز ہوئے کہ آج دنیا کے عسکری ماہرین ان شاہینوں پر اپنی سٹڈی کر رہے ہیں۔ اور رفال جیسے ناقابل شکست سمجھے جانے والے جنگی جہاز کو اپنے ایئر چیف کی فرمائش پر گرائے جانے کو دنیا عسکری نصابوں کا حصہ بنانے جا رہی ہے۔
یہ بات روز روشن کیطرح عیاں ہے کہ اگر آپکی فورسسز منظم و مضبوط ہوں تو دنیا میں آپکو بطور بہادر قوم کے جانا جاتا ہے۔ آپکا احترام کیا جاتا ہے اور آپکا ملک ہمیشہ ناقابل شکست رہا کرتا ہے۔ اور الحمداللہ ہمیں یہ نعمت حاصل ہے۔ جبکہ باوجود وقتی تکالیف کے یپ حقیقت ہے کہ اس عظیم نعمت کا کوئی متبادل نہیں۔ خدائے بزرگ و برتر نہ صرف ہماری اس ارض پاک کو سلامت رکھے بلکہ اپنی عظیم فورسسز کی قدر کرنے کی توفیق بھی دیتا رہے۔آمین