جب عوام کا غصہ آتش فشاں بن کر پھٹتا ہے/تحریر/ عابد محمود عزام نیپال کے حالات سے سب بخوبی آگاہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر عوام کے ہاتھوں حکمرانوں کی رسوائی کی وہ ویڈیوز دنیا بھر نے دیکھیں جو تاریخ کے اوراق پر ایک کالی لکیر کی طرح ثبت ہو چکی ہیں۔ کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف بھڑکنے والی عوامی بغاوت نے اقتدار کے ایوانوں کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ مشتعل ہجوم نے وزیراعظم اور وزرا کے گھروں کو آگ کے شعلوں میں لپیٹ دیا۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ بھی نذرِ آتش کر دی گئی، جہاں ان کی اہلیہ شعلوں کی لپیٹ میں آ کر جان کی بازی ہار گئیں۔ سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ، جبکہ وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور وزیر توانائی بھی عوامی تشدد سے نہ بچ سکے۔ صورتحال اس نہج تک بگڑ چکی ہے کہ موجودہ اور سابق وزرائے اعظم سمیت کابینہ کے کئی ارکان کو فوجی بیرکوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، لیکن مشتعل عوام ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ پارلیمنٹ سمیت کئی وزرا کے گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ فوج اور پولیس کے سخت اقدامات کے باوجود عوام کرفیو روندتے ہوئے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کے پی شرما اولی سمیت اہم رہنما اور متعدد وزرا پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر عائد پابندی بھی اٹھالی گئی ہے، مگر عوامی غیظ و غضب کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ مناظر صرف نیپال کے نہیں، بلکہ خطے کے ہر اس ملک کے عوام کے دل کی آواز ہیں، جہاں حکمران طبقے نے ریاست کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ پاکستان میں بھی لوگ نیپال کے حالات کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: “یہی اصل علاج ہے اس اشرافیہ کا، جو ملک کو نوچ کھا گئی ہے۔” کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان حالات پر خوش ہونا عوام کی ناپختہ سوچ ہے اور بعض کا خیال ہے کہ مخصوص سیاسی نظریات رکھنے والے افراد اس بغاوت سے خوش ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اشرافیہ نے عوام کو صدیوں سے محکوم بنا رکھا ہے۔ دولت، وسائل اور طاقت پر قابض یہ طبقہ ہمیشہ اپنی عیاشیوں اور مفادات کے لیے غریب عوام کے خون پسینے کو نچوڑتا آیا ہے۔ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر ان کا استحصال کیا گیا، ان کے حقوق غصب کیے گئے اور ان کی زندگیوں کو پاؤں تلے روند دیا گیا، لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب یہ حد پار ہو جائے تو قومیں بیدار ہو کر اپنے حقوق چھیننے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، چاہے اس جدوجہد میں جانوں کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ اگرچہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کوئی بھی ملک ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس سوچ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا نظریے سے جوڑنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ عوام اب مجموعی طور پر اشرافیہ سے نجات چاہتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ نیپال کی سڑکوں پر جلتے ہوئے ایوان، دہکتے ہوئے محلات اور بھاگتے ہوئے وزرا دراصل دنیا کے تمام مظلوم عوام کی آہوں کی ترجمانی ہیں۔ اس انجام تک پہنچانے والی خود اشرافیہ ہے۔ یہ ایک کھلا پیغام ہے کہ جب ظلم اپنی انتہا کو چھو لیتا ہے تو عوام کا غصہ آتش فشاں بن کر پھٹتا ہے، جو تخت و تاج کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے 0

جب عوام کا غصہ آتش فشاں بن کر پھٹتا ہے/تحریر/ عابد محمود عزام

جب عوام کا غصہ آتش فشاں بن کر پھٹتا ہے/تحریر/
عابد محمود عزام

نیپال کے حالات سے سب بخوبی آگاہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر عوام کے ہاتھوں حکمرانوں کی رسوائی کی وہ ویڈیوز دنیا بھر نے دیکھیں جو تاریخ کے اوراق پر ایک کالی لکیر کی طرح ثبت ہو چکی ہیں۔ کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف بھڑکنے والی عوامی بغاوت نے اقتدار کے ایوانوں کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ مشتعل ہجوم نے وزیراعظم اور وزرا کے گھروں کو آگ کے شعلوں میں لپیٹ دیا۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ بھی نذرِ آتش کر دی گئی، جہاں ان کی اہلیہ شعلوں کی لپیٹ میں آ کر جان کی بازی ہار گئیں۔ سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ، جبکہ وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور وزیر توانائی بھی عوامی تشدد سے نہ بچ سکے۔ صورتحال اس نہج تک بگڑ چکی ہے کہ موجودہ اور سابق وزرائے اعظم سمیت کابینہ کے کئی ارکان کو فوجی بیرکوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، لیکن مشتعل عوام ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ پارلیمنٹ سمیت کئی وزرا کے گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ فوج اور پولیس کے سخت اقدامات کے باوجود عوام کرفیو روندتے ہوئے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کے پی شرما اولی سمیت اہم رہنما اور متعدد وزرا پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر عائد پابندی بھی اٹھالی گئی ہے، مگر عوامی غیظ و غضب کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
یہ مناظر صرف نیپال کے نہیں، بلکہ خطے کے ہر اس ملک کے عوام کے دل کی آواز ہیں، جہاں حکمران طبقے نے ریاست کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ پاکستان میں بھی لوگ نیپال کے حالات کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: “یہی علاج ہے اس اشرافیہ کا، جو ملک کو نوچ کھا گئی ہے۔” کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان حالات پر خوش ہونا عوام کی ناپختہ سوچ ہے اور بعض کا خیال ہے کہ مخصوص سیاسی نظریات رکھنے والے افراد اس بغاوت سے خوش ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اشرافیہ نے عوام کو صدیوں سے محکوم بنا رکھا ہے۔ دولت، وسائل اور طاقت پر قابض یہ طبقہ ہمیشہ اپنی عیاشیوں اور مفادات کے لیے غریب عوام کے خون پسینے کو نچوڑتا آیا ہے۔ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر ان کا استحصال کیا گیا، ان کے حقوق غصب کیے گئے اور ان کی زندگیوں کو پاؤں تلے روند دیا گیا، لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب یہ حد پار ہو جائے تو قومیں بیدار ہو کر اپنے حقوق چھیننے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، چاہے اس جدوجہد میں جانوں کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ اگرچہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کوئی بھی ملک ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس سوچ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا نظریے سے جوڑنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ عوام اب مجموعی طور پر اشرافیہ سے نجات چاہتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ نیپال کی سڑکوں پر جلتے ہوئے ایوان، دہکتے ہوئے محلات اور بھاگتے ہوئے وزرا دراصل دنیا کے تمام مظلوم عوام کی آہوں کی ترجمانی ہیں۔ اس انجام تک پہنچانے والی خود اشرافیہ ہے۔ یہ ایک کھلا پیغام ہے کہ جب ظلم اپنی انتہا کو چھو لیتا ہے تو عوام کا غصہ آتش فشاں بن کر پھٹتا ہے، جو تخت و تاج کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے.
جب عوام کا غصہ آتش فشاں بن کر پھٹتا ہے/تحریر/
عابد محمود عزام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں