0

بگرام ایئربیس اور خطے کا نیا نیا اسٹریٹجک منظرنامہ/تحریر/محمد اکبر خان

بگرام ایئربیس اور خطے کا نیا جیو اسٹریٹجک منظرنامہ/ تحریر : محمد اکبر خان



افغانستان میں بگرام ایئربیس کا مستقبل آج کی عالمی سیاست کے اہم ترین سوالات میں سے ایک بن چکا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ بیس دوبارہ حاصل کرنا طاقت، نگرانی اور عسکری طور پر خطے میں پھرسے آمد کی علامت ہے، جبکہ طالبان کے لیے یہ آزادی، خودمختاری اور مزاحمت کی قوی پہچان ہے۔ لیکن یہ تنازع صرف کابل اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے خطے کی تزویراتی اہمیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ چین، روس، ایران، پاکستان اور بھارت جیسے ممالک اس معاملے کو اپنی اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے امور سے ملا کر دیکھ رہے ہیں۔

کابل سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع بگرام ایئربیس گزشتہ دو دہائیوں تک امریکہ اور نیٹو افواج کے آپریشنز کا مرکزی مرکز رہا۔ اس کے اہم جغرافیائی مقام نے اسے خطے کے سب سے اہم فوجی اثاثوں میں شامل رکھا کیونکہ یہاں سےچین کے مغربی ایٹمی اور میزائل پروگرام کی براہِ راست نگرانی ممکن ہے۔
پاکستان اور ایران کے ایٹمی منصوبوں پر مسلسل نظر رکھی جا سکتی ہے۔
سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ جیسے بڑے منصوبوں کے راستوں پر بھی کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں فوری فوجی رسائی ممکن ہے۔
یوں بگرام کی حیثیت صرف ایک فضائی اڈے کی نہیں بلکہ ایک ایسے مرکز کی ہے جو بیک وقت کئی بڑی طاقتوں کے مفادات کو چیلنج یا محفوظ کر سکتا ہے.
امریکہ کی بگرام اڈے کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش میں کئی پہلو پنہاں ہیں.
امریکہ سمجھتا ہے کہ بگرام بیلٹ اینڈ روڈ اور ایس سی او جیسے چینی اثرات کو روکنے کے لیے خطے میں اس کی فوجی موجودگی اہم ہے۔
ایران–اسرائیل حالیہ تنازع میں ایران کی میزائل ٹیکنالوجی نے نہ صرف اسرائیل کو حیران کر دیا بلکہ امریکی-اسرائیلی دفاعی نظام پر بھی سوال کھڑے کر دیے۔ بگرام ایران پر دباؤ ڈالنے اور اس کے دفاعی پروگرام کی نگرانی کے لیے مثالی مقام ہے۔
افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ پر کمزوری کا تاثر بڑھا، اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بگرام بہترین علامت بن سکتا ہے۔
امریکہ اپنے اتحادیوں اور حریفوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ اب بھی خطے میں عسکری طور پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ بگرام کے ذریعے چین، روس، ایران اور پاکستان سب پر براہِ راست نگرانی ممکن ہے۔
طالبان کے نزدیک بگرام افغانستان کی خودمختاری اور مزاحمتی بیانیے کی علامت ہے۔ وہ امریکی مطالبے کو تین بڑے پہلوؤں سے دیکھتے ہیں. خودمختاری کے پہلو یہ ہےکہ امریکی واپسی افغانستان کے آزاد تشخص کو ختم کر دے گی۔
دوسرے طالبان کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ بیرونی قبضے کے خلاف جدوجہد پر کھڑی ہے۔ اگر امریکہ واپس آ گیا تو یہ بیانیہ خودبخود کمزور ہو کر جائے گااور ان کی عوامی مقبولیت پر اثر انداز ہوگا.
تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ بگرام پر دوبارہ قبضے کے لیے امریکہ کو دس ہزار سے زائد فوجیوں اور جدید دفاعی نظام کی ضرورت ہوگی، جو ایک مہنگا اور خطرناک تجربہ ہوگا۔اس سارے معاملے میں شدید جانی نقصانات کا اندیشہ ہے. واشنگٹن کا پاکستانی قیادت سے براہِ راست رابطہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب بھی کابل کے بجائے اسلام آباد کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔
امریکی انحصار پاکستان کے عالمی تشخص اور اس کے اسٹریٹجک وزن کو بڑھا سکتا ہے۔
تعلقات کی بحالی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جسے بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے تیز کیا جا سکتا ہے۔
چین: امریکی واپسی کو اپنے مغربی بارڈر اور روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھے گا۔
وسطی ایشیا میں امریکی موجودگی کو اپنی روایتی بالادستی کے خلاف سمجھتے ہوئے روس اس کی شدید مخالفت کرے گا۔
جہاں تک ایران کی بات ہے وہ بگرام کو اپنے میزائل اور جوہری پروگرام کے خلاف امریکی منصوبے کا حصہ قرار دے گا۔ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں بھارتی پراکسی نیٹ ورکس وقتی طور پر کمزور پڑ گئے تھے، لیکن اب نئی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اگر امریکہ بگرام میں دوبارہ متحرک ہو گیا تو بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنی پراکسی تخریبی سرگرمیاں تیز کرنے کا موقع ملے گا جس سے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں مزید بدامنی پیدا ہوگی. افغانستان میں امریکی موجودگی شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کو بھی کمزور کرے گی۔
امریکہ اور چین کے درمیان سب سے بڑا بحری تنازع جنوبی بحیرۂ چین میں جاری ہے، جہاں چین نے مصنوعی جزائر اور عسکری تنصیبات قائم کر کے اپنی بالادستی قائم کر رکھی ہے۔ یہ علاقہ عالمی تجارت کا سب سے مصروف راستہ ہے اور امریکہ اسے “فریڈم آف نیویگیشن” کے اصول پر اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔
بھارت چونکہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل کی سلامتی میں امریکہ کا قدرتی اتحادی بنتا جا رہا ہے، اس لیے توقع ہے کہ وہ واشنگٹن کو جنوبی بحیرۂ چین میں چین کے خلاف تعاون فراہم کرے گا۔ اس تناظر میں بگرام ایئربیس پر امریکی گرفت بھارت کے لیے دوہرا فائدہ رکھتی ہے: ایک طرف پاکستان کے خلاف پراکسی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا موقع، اور دوسری طرف چین کے خلاف عالمی اتحاد میں اپنی اہمیت کو بڑھانا۔
بگرام ایئربیس کی جنگ صرف امریکہ اور طالبان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ایشیا کے جغرافیائی توازن کو متاثر کرنے والی بساط ہے۔ امریکہ کے لیے یہ بیس چین، ایران اور روس پر نظر رکھنے کا ذریعہ ہے۔ طالبان کے لیے یہ خودمختاری کا امتحان ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع بھی ہے اور خطرہ بھی، کیونکہ پاک–امریکہ تعلقات کی بحالی کے ساتھ بھارتی پراکسی سرگرمیوں کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔
بھارت اس صورتِ حال سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہ ایک طرف پاکستان کے خلاف اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ زندہ کرے گا اور دوسری طرف امریکہ کو چین کی میں بڑھتی ہوئی بالادستی کے خلاف تعاون فراہم کرے گا۔
یوں بگرام کا مستقبل صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ یہ فیصلہ بھی کرے گا کہ یوریشیا میں طاقت کا توازن کس کے حق میں جھکتا ہے، اور عالمی سیاست میں اگلا مرکز کون بنتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں