
ننھے پاکستانی کی بڑی سوچ ⭐
از قلم: سونیا سلامت علی
جی ہاں! میں ایک ننھا سا پاکستانی ہوں ـ
میری عمر چھوٹی ہے لیکن میرے خواب بہت بڑے ہیں
میری سوچ بلند ہے اور میرے دل میں ہے ایک روشن پاکستان کا خواب

میں چاہتا ہوں کہ!
میرا پاکستان ایسا ہو جہاں کوئی بھوکا نہ سوئے ہر بچہ اسکول جائے اور ہر ماں باپ کو سکون میسر ہو
ایک دن اسکول میں استاد نے سب بچوں سے پوچھا آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو ؟
کسی نے کہا ڈاکٹر کسی نے انجینئر اور کسی نے پائلٹ لیکن جب میں نے جواب دیا اس سے سب حیران ہو گئے میں نے کہا ”
میں بڑا ہو کر ایک ایسا پاکستانی بننا چاہتا ہوں جو اپنے ملک کو صاف ستھرا تعلیم یافتہ اور خوشحال بنانا چاہتا ہوں کہ میرے ہر پاکستانی بچے کو تعلیم ملے ہر ماں کو دوا ملے اور ہر باپ کے چہرے پر خوشی ہو ـ
استاد نے مسکرا کر پوچھا ؟اور تم یہ سب کیسے کرو گے ؟
میں نے معصومیت سے کہا میں خود ایمانداری سے محنت کروں گا دوسروں کی مدد کروں گا اور سب کو سمجھاؤں گا کہ ہم سب مل کر پاکستان کو بہتر بنا سکتے ہیں ہمیں صرف نیت صاف اور دل سے کوشش کرنی ہے
میری یہ باتیں سن کر پوری کلاس میں خاموشی چھا گئی ـ استاد کی آنکھوں میں نمی سی آگئی اور انہوں نے کہا واقعی آ پ کی سوچ بڑی ہے ایسے بچوں سے ہمارا پاکستان روشن ہو گا ان شاءاللہ
ملک کی ترقی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی نیک نیت سوچوں سے بھی ہوتی ہے ننھے بچوں کی سچائی جذبہ اور عزم اگر صحیح سمت میں لگایا جائے تو وہ بڑے سے بڑا انقلاب لا سکتے ہیں ہمیں صرف اپنے بچوں کو پڑھانا نہیں بلکہ انہیں اچھا انسان اور سچا پاکستانی بننے کا جذبہ اور ہمت بھی دینی ہو گی ۔