0

سگریٹ نوشی –ایک خاموش قتل /تحریر/علی کاکڑ

📰سگریٹ نوشی — ایک خاموش قاتل

تحریر: علی کاکڑ

دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سگریٹ نوشی ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف فرد کی صحت ہی نہیں بلکہ معاشرتی اور معاشی نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

سگریٹ نوشی کا عارضی سکون — ایک خطرناک دھوکہ

بعض افراد سگریٹ نوشی کو ذہنی دباؤ کم کرنے، تھکن مٹانے یا محفل میں “فیشن” کے طور پر اپناتے ہیں۔ نکوٹین وقتی طور پر دماغی خلیوں کو متحرک کر کے انسان کو چستی یا سکون کا احساس دیتی ہے، مگر یہ اثر صرف چند منٹ رہتا ہے۔ اس کے بعد جسم نکوٹین کا عادی بنتا ہے اور انسان کو بار بار سگریٹ کی طلب محسوس ہوتی ہے۔ یوں یہ عادت نشے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

سگریٹ نوشی کے تباہ کن اثرات

سگریٹ میں موجود ہزاروں کیمیکل جسم کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ان میں سے کئی کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی خرابیوں کا سبب بنتے ہیں۔

پھیپھڑوں کا کینسر سگریٹ نوشوں میں سب سے عام مرض ہے۔

دل کی بیماریوں، بلڈ پریشر، اور شریانوں کے بند ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

مسلسل کھانسی، سانس پھولنا، اور مدافعتی نظام کی کمزوری عام علامات میں شامل ہیں۔


سگریٹ نوشی نہ صرف پینے والے کے لیے خطرناک ہے بلکہ اردگرد کے افراد کے لیے بھی زہریلی ثابت ہوتی ہے، جسے Passive Smoking کہا جاتا ہے۔ گھروں، دفاتر یا بند جگہوں پر سگریٹ نوشی کرنے والے افراد اپنے بچوں اور ساتھیوں کو بھی غیر محسوس طریقے سے نقصان پہنچاتے ہیں۔

معاشرتی اور معاشی نقصان

سگریٹ نوشی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی بوجھ بھی ہے۔ ایک عام سگریٹ نوش سالانہ ہزاروں روپے صرف اس عادت پر ضائع کر دیتا ہے، جب کہ علاج اور بیماریوں پر اخراجات اس سے کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف، تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریاں معاشرتی پیداواریت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

سگریٹ نوشی سے نجات — مضبوط ارادہ، صحت مند زندگی

سگریٹ نوشی ترک کرنا بلاشبہ ایک مشکل مرحلہ ہے، مگر ممکن ضرور ہے۔

روزانہ ورزش، مثبت مصروفیات اور صحت مند خوراک نکوٹین کی طلب کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

دوستوں اور گھر والوں کا حوصلہ افزائی والا رویہ ترکِ سگریٹ کے عمل کو آسان بناتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ تمباکو کے اشتہارات پر پابندی، عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے خلاف سخت قانون اور آگاہی مہمات کے ذریعے اس رجحان کو کم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں