سیلاب اور فنڈ ریزنگ/تحریر/عاصم بلال/سوشل میڈیا ایکٹوسٹدل بے پناہ افسردہ ہے ،سیلاب کی جو تباہ کاریاں دیکھ رہے ہیں اس کے بعد کلیجہ چھلنی نہ ہو تو انسان کیونکر ہونگے ۔لیکن ایک گزارش جس پر غور کرنا فی الوقت ضروری ہے ۔ جب سے ہوش سنبھالا ، مختلف اوقات میں مختلف آفات کا مشاہدہ کرتے آئے ہیں، ان آفات کے بعد سوشل حلقے کا ایکٹو ہونا، اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے کوشش و کاوش کرنا بھی ایک عام مشاہدہ ہے اور انتہائی قابلِ تحسین ہے ۔ لیکن اسی فنڈنگ کے دوران مختلف لوگوں پر بد دیانتی، غبن اور اس نوعیت کی فنڈنگ سےاپنی جیبیں بھرنے جیسی کہانیاں بھی کچھ اجنبی نہیں ہیں، زیادہ دور نہیں تو 2022 کے سیلاب میں بھی ہمیں ایسے بہت سارے قصے با آسانی مل جائیں گے ۔
فی الوقت بھی دیکھیں تو معمولی سا انفلوئنس رکھنے والا ہر چوتھا ایکٹیوسٹ اپنے بھائیوں کے غم میں ہلکان ملے گا ،غبن یا دو نمبری کا گمان نہ بھی ہو، پھر بھی اگر اس پہلو کو سوچا جائے کہ ہر شخص فنڈ ریزنگ کرے ،مثلاً پکا پکایا کھانا متاثرین کو فراہم کرنے کے لیے لوازمات کا بندوبست کرے، اس کھانے کی ترسیل یا فراہمی کے لیے متعلقہ علاقوں تک جائے، آمد و رفت کے اخراجات کرے ،پھر ہر فرد اگر انفرادی طور پر ایسی سرگرمیوں میں شریک ہے تو باہم رابطہ، معاونت یا نیٹ ورکنگ نہ ہونے کے سبب کسی ایک جگہ تو لا تعداد لوگوں کی رسائی ہو اور کسی جگہ کوئی مدد نہ پہنچ پانے جیسے لا تعداد مسائل ہوتے ہو ۔یا ہر جگہ کے مسائل کا ادراک نہ ہوسکے سو کہیں کھانا ہی نہ پہنچے اور کہیں بارہا کھانا تو،تقسیم کیا جاچکا ہو لیکن دیگر بنیادی ضروریات تاحال پوری نہ ہوئی ہوں ۔یعنی وسائل بے جا اور غیر ضروری طور پر تقسیم ہوکر غلط خرچ ہوتے رہیں گے ۔
بجائے اس کے اگر سب لوگ اپنی تمام تر توانائیاں قابل اعتماد تنظیموں کے ساتھ معاونت میں خرچ کردیں جن کے پاس تجربہ بھی ہے ،افرادی قوت بھی ہے ،بنیادی وسائل بھی اور ہر ممکنہ مقام تک رسائی کی اہلیت بھی تو ہماری کوششیں زیادہ مفید اور بار آور ہوسکتی ہیں ۔ ایسی لا تعداد قابل اعتماد اور مضبوط نیٹ ورک کی حامل تنظیمیں یا ٹرسٹ موجود ہیں جیسا کہ پاک ایڈ ویلفیئر ٹرسٹ، الخدمت فاؤنڈیشن، بیت السلام ویلفیئر ٹرسٹ، الخیر ویلفیئر (جامعہ خیر المدارس) یا دیگر بہت سارے ایسے ادارے ہوسکتے ہیں جن کے ذریعے اپنی فکر مندی اور اپنے متاثرہ بھائیوں کے لیے محنت اور توانائیاں درست جگہ خرچ کی جاسکتی ہیں ۔اس کے بعد بھی کوئی بذات خود خدمت کا جذبہ رکھتا ہے اور کسی بھی رفاہی کام میں شرکت کا خواہش مند ہے تو ایسی ہی کسی تنظیم یا ٹرسٹ کے ساتھ رضاکارانہ طور پر وابستہ ہوجائے، ایک مضبوط ٹیم کے ساتھ جڑ کر، اسے افرادی قوت مہیا کرکے زیادہ بہتر طریقے سے مدد و خدمت کی جاسکتی ہے اور باہم ایک دوسرے کا دست و بازو بن کر وطنِ عزیز کو اس آفت سے نکالا جاسکتا ہے ۔امید ہے کہ یہ رائے قابلِ اعتناء سمجھی جائے گی اور دیگر لوگ بھی اس پر ضرور بات کریں گے ۔خدا کرے کہ یہ کڑی آزمائش جلد از جلد ختم ہو اور ہم اچھے دن دیکھ سکیں۔