
میرا عموما سیاست سے کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے ہاں کچھ لوگوں کا احترام ان کے علم اور رتبے کی بنا پر باقی ہے مجھ میں!!!
ان سیاست دانوں سے اختلاف نہیں نفرت ہے مجھے کہ ان سے بڑھ کے بےحس کوئی نہیں ۔
آپ پی ٹی آئی کے سپورٹر ہیں یا لیگ کے یا پھر پیپلز پارٹی کے لیکن آج بات اصول پر کریں گے ۔۔۔۔۔
کراچی و سندھ کے حالات بگڑتے گئے ، ایک عالمی شہر لیکن وہاں کے حالات ، گندگی اور آپ کی پیپلز پارٹی نے کیا کِیا ؟؟؟؟؟
پنجاب کو دیکھ لیجیے غربت ، بلوں نے عام گھرانے کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ آئے روز کے نئے سیاپے ،کرپشن ۔۔۔۔ کیا دیا آپ کو لیگ نے اور لٹیروں نے ؟؟؟؟
(چلیں خیر اتنا کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے سڑکیں اور کچھ سکالرشپس دی ہی ہیں باقیوں کی نسبت ۔۔۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایک طبقے کی سائڈ لے رہی ہوں تو معذرت کے ساتھ آپ ان کی حکومتوں کا باقیوں کے ساتھ موازنہ کر لیجیے گا ) لیکن ہاں جو کچھ دیا عوام کو وہ اس سے کہیں کم ہے جو ہونا چاہیے ۔۔۔
چلتے ہیں خیبرپختونخوا کی طرف جہاں سالہا سال پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے
اور ہر سال خیبر کے لوگ ڈوب رہے ہیں ، عوام مر رہی ہے ، ہزاروں کے حساب سے جانی عوام کا ضیاع ایک سوالیہ نشان ہے ۔۔۔ اور اوپر سے بےحسی کا یہ عالم ہے کہ اپنے ایک لیڈر کے لیے جلسے جلوسوں پر پیسے کا بےدریغ استعمال تو کیا جا سکتا ہے مگر جب عوامی ریلیف کی بات آتی ہے تو لوگوں سے چندے اکٹھے کرنے کیلئے بیٹھ جاتے ہیں ۔ آپ آج اور کل میں ہی ان کی عیاشیاں دیکھ لیجیے اور ساتھ بونیز و باجوڑ کے لوگوں کے حالات دیکھ لیجیئے ۔
جن کے ووٹوں کیلئے آپ لمبی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں، خاندانی جھگڑوں میں پڑتے ہیں ، جن کو پسند نا کرنے والوں کیلئے آپ نفرت کا اظہار کرتے ہیں ، جنہیں مربی و مرشد جیسے نعوذباللہ کلمات سے نوازتے ہیں ان کی بےحسی کے عالم کیا ہوں گے ۔۔۔۔؟؟؟
کیا یہ لوگ کسی بھی طرح آپ کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں؟؟؟
یا اس لائق ہو سکتے ہیں کہ ان سے محبت کی جائے ؟؟؟ ان کیلئے لڑا جائے ؟؟؟ ان کیلئے مرشد جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں ؟؟؟؟
میں ان لوگوں کی “دینی سینس” کی تو بات کر ہی نہیں رہی ، اس حوالے سے بات کر لی جائے تو یہ لوگ تو دین کے کسی حصے میں بھی نہیں آئیں گے بخدا ۔۔۔ میں صرف چند حقائق آپ کے سامنے رکھ کر ان پر بات کررہی ہوں ۔۔۔۔
ذرا دیر کو خود تصور کیجیے ۔
ہم کس منہ سے رونا رونے کے حقدار ہیں جبکہ یہ اپنے اوپر ہمارے خود ساختہ مسلط کیے ہوئے راہنما ہیں ۔۔۔۔
ہم کس چیز کا رونا روئیں کہ ہم نے خود اپنے گناہوں کی سزا کے طور پر ان کو خود پر مسلط کیا ہے ۔
مجھے شکوہ اپنی اس عوام سے بھی ہے جنہوں نے خود کا ذرا لحاظ نا کیا ۔ اپنے گھروں کو ڈوبتا دیکھنا منظور کیا مگر اپنے حق کو نا بچایا ۔۔۔۔۔
نسلیں ختم ہوگئیں مگر ان لٹیروں سے محبت ختم نا ہوئی۔۔۔
میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں ، میرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی اور تو نہیں ہے پسِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہورہے ہیں ، ہمیں قتل ہورہے ہیں
بس اتنا کہوں گی !!! اپنا نہیں تو آنے والی نسلوں کا ہی سوچ لیجیے ۔
آج اگر اپنے حق کیلئے نہیں اٹھیں گے تو کب اٹھیں گے ؟؟؟ آج اگر اپنے لیے نہیں سوچیں گے تو کب سوچیں گے ؟؟؟؟
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہ کرتا ۔
آپسی نفرتوں کی بجائے اوپر والوں کی گردنوں میں ناخن دیجیے ۔ ان سے محبت جتانے کی بجائے اپنے حق کا سوال کیجیے ۔۔۔۔ آپ کی خاموشی ، خاموش مزاجی ، یا اپنوں سے نفرت آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی ۔ بجائے دوسروں کو الزام دینے کے اس ملک سے ، اپنے آپ سے ، اپنی نسلوں سے محبت کیجیے اور حق طلبی کیلئے مل کر آواز اٹھائیے تاکہ ہر آنے والے کو معلوم رہے کہ اگر آنا ہے تو حقوق مکمل دینے ہیں ۔۔۔۔
ج-ا-ل-ب 🥀 ♠️