0

عورت کی کمائی بےبرکتی لائی ؟؟؟/تحریر/حمیرا حیدر

عورت کی کمائی بےبرکتی لائی؟

حمیرا حیدر

اماں جی مٹر چھیلتے ہوتے کوئی صبح کا شو دیکھ رہی تھیں جس میں مہمان اداکارہ اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہی تھیں کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہے۔ اگر برکت ہوتی تو وہ کب کا اپنا مکان بنا چکی ہوتیں۔ اماں کی بھی بہت غور سے اور تائیدی انداز میں سر ہلا رہی تھیں ۔ ان کے جواب میں میزبان اس بات پر مصر تھیں کہ بہت برکت ہوتی ہے ۔ مارننگ شو کی ریٹنگ کے چکر میں اونچی نیچی آواز اصل مدعا کے حل کی طرف کم اور بحث کی طرف زیادہ جاتی محسوس ہو رہی تھیں۔ اماں جی مٹر چھیلتے یہ ساری تکرار ان اور دیکھ رہی تھیں۔ اتنے میں ماسی شکیلہ اپنا کام مکمل کرنے کی اطلاع دینے آئیں ۔ اماں جی کے پاس کچھ مٹر باقی تھے اس لئے ازراہ مروت چھیلنے بیٹھ گئ۔ اماں جی نے وہی بات دہرائی کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں تمہارا کیا خیال ہے شکیلہ بی بی ۔ ماسی شکیلہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا مجھے کیا علم بی بی جی یہ بڑے لوگوں کی باتاں ہیں۔ اماں کہنے لگیں کہ دیکھ عورت در در خوار ہو کر چار پیسے کماتی ہے وہ بھی بال بچوں کی ضرورت پوری کرنے کو ناکافی ہوتے ہیں۔ جب تک گھر کا مرد نہ کمائے برکت کہاں سے آئے؟ ماسی شکیلہ سر ہلا رہی تھی دماغ میں کچھ حساب کتاب کرتی ہوئی غائب دماغی سے سن رہی تھی۔ اماں جی نے کبھی زندگی میں کمانے/ نوکری کی کوشش نہ کی تھی پہلے والدین پھر شادی کے بعد شوہر اور اب بچے ان کے اخراجات پورے کرتے رہے ہیں ۔ ان کا نہ تو کمانے کا تجربہ تھا نہ انہوں نے اپنے ہاں عورت کو کماتے دیکھا تھا۔ اس کے برعکس بی شکیلہ سارا دن گھر گھر جا کر کام کرتی تھی۔ عام کام والی ماسیوں کے برعکس اس کا شوہر کسی جگہ ڈرائیور تھا تنخواہ کم تھی مگر دونوں میاں بیوی کی کمائی ملا جلا کر گھر چلا رہی تھی۔بچے بھی سکول جاتے تھے۔ بلکہ ماسی شکیلہ نے کمیٹیاں ڈال کر گاؤں میں اپنا مکان بھی بنانا شروع کر دیا تھا جس کا اگلے ہفتے لینٹر ڈلنا تھا اسی کی فکر میں وہ غلطاں تھی۔

“عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہے” یہ بحث ہمیشہ سے چلتی رہی ہے بظاہر تو ایک معصوم سی بحث سمجھیں اس کو مگر درپردہ اس کا مقصد ورکنگ وومن کو کمتر محسوس کرانا ہے یا اس کی قربانیوں کو سراہنے سے پیچھا چھڑانا ہے۔ ایسے جملے آپ کو ہر جگہ سنائی دیتے ہیں ” ڈاکٹر ہے تو کیا ہوا مہینے کے لاکھوں بھی کمائے تو بھی میاں کے چند ہزار بہت بابرکت ہیں۔” ” ارے یہ خواتین بس گھر سے فرار چاہتی ہیں اس لئے کام کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔” “ان کو بھلا کیا پتا بچے ملازموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کمائیاں کرنے نکل جاتی ہیں۔” ” بھئی عورت کا اصل مقام تو ہانڈی چولہا ہے۔” ” یہ عورتیں گھر بسا ہی نہیں سکتیں اس لئے دفتروں کا رخ کرتی ہیں۔”۔ “پیسوں سے صرف یہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے عیاشی خرید سکتی ہیں۔” ” ارے عورتیں کیسے پل اور پلازے بنا سکتی ہیں دوسرے دن ہی دھڑام سے زمین پر ہوں گے بی بی انجنئرنی رہنے بھی دو۔ اس گرمی میں رنگت سنولا گئی تو شادی کے لئے رنڈوے بھی نہ مانیں گے”

اگر کہیں کسی خاتون نے گھر اور دفتر دونوں اچھی طرح سنبھال رکھا ہے تو بھی تعریف کرنا تو ممکن ہی نہیں بلکہ چبھتا ہوا جملہ سننے کو ملے گا۔ ” ارے بھئی خود کو خوامخواہ کولہو کا بیل بنا رکھا ہے آرام سے گھر بیٹھے اور عیاشی کرے۔” “بھئی ہم سے تو نہیں ہو سکتی لوگوں کی چاکری تم ہی گھر اور باہر لوگوں کے ترلے کرو”


عورت کی کمائی میں برکت نہیں کی باز گشت کے ساتھ ہی یکا یک دین کے احکامات بھی شامل کر دئیے جاتے ہیں۔ اپنی ذاتی خواہشات کو دین کا رنگ دینا ہم برصغیر کے مسلمانوں سے کوئی سیکھے۔
بہت ہی ہمدردی سے بتایا جائے گا کہ ہمارا دین تو عورت کی کمائی کو جائز ہی نہیں سمجھتا۔ ہمارے بزرگ تو عورت کی کمائی کھانا حرام سمجھتے تھے اور ہم تو بھئی ان کو کہا ہی درست سمجھتے ہیں۔ ایسا جملہ عموماً وہاں سے آتا ہے جہاں بہن کا وراثت کا حق بغیر ڈکار لئیے کئی پشتوں سے کھایا جا رہا ہے۔
جہاں پر جوابی دلائل میں کہا جائے کہ حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ بھی تو بزنس وومن تھیں تو فوراً ہی ہم بھلا ان کے برابر کہاں؟ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم آج جس دور میں رہتے ہیں وہاں خواتین کو جب تک financial independence حاصل نہیں ہو گی وہ خاتون چاہے کسی کروڑ پتی کی بیوی ہو اس کو مشکلات آئیں گی۔ اس لئے اپنی بچیوں کو ضرور سکھائیں کہ کیسے وہ معاشی طور پر مستحکم ہو سکتی ہیں۔ ہمارا دین شادی کے کنٹریکٹ کے ساتھ ہی مہر کی صورت میں زور دیتا ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لئے اس کو وراثت میں دوہرا حصہ؛ شوہر کی طرف سے بھی اور باپ کی طرف سے بھی حصہ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شوہر پر جیب خرچ کا بھی کہہ دیا جو اس کی استطاعت کے مطابق ہو وہ دے۔ پھر اسلام اس چیز کی بالکل بھی مخالفت نہیں کرتا کہ خواتین ضرورت کے تحت گھر سے نکلیں اور حلال کمائیں مگر ساتھ جو بنیادی شرائط ہیں جو سورہ نور اور احزاب میں کھول کر بتا دی گئی ہیں ان پر عمل کریں۔

لفظ برکت پر غور کریں تو اس کا مفہوم ایسی چیز جو کثرت والی اور ہمیشہ رہنے والی کا ہے۔ خواتین کی کمائی کی برکت کی جہاں تک بات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے خواتین کو نازک پیدا کیا ہے وہ یہ بھاری بوجھ اپنے سر لے نہیں سکتیں۔ خواتین جسمانی اور جذباتی دونوں طرح سے کمزور ہیں۔ مرد کو اسی لئے قوام بنایا گیا کہ وہ اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ مرد جب خرچ کرتے ہیں تو ان کا فوکس ان کی فیملی ہوتی ہے جن پر خرچ کرنا اس کو خوشی دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مکمل تصور کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے خواتین کا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ جب وہ کماتی ہے تو اس کو لگتا ہے کہ اب مجھے کسی کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان انسان کی ضرورت ہے۔
دیکھا جائے تو کمائی مرد کی ہو یا عورت کی اس میں برکت کے لئے کمائی اور کمائی کا ذریعہ حلال ہونا بےحد ضروری ہے۔ آج سوشل میڈیائی فتنے کی وجہ سے خواتین کمائی کے شارٹ کٹ کی طرف زیادہ مائل ہو رہی ہیں یاد رکھیں ہر وہ کمائی جو حرام ذرائع سے حاصل ہو وہ اصل میں بے برکت ہوتی ہے چاہے وہ کمائی مرد کی ہو چاہے عورت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں