
*📌 کیا ہم اس آزادی کے لائق ہیں؟*
تحریر : مریم رضوان
ہم نے آزادی تو حاصل کر لی، لیکن کیا ہم نے اس کی حفاظت کی؟ یا اپنے ہی ہاتھوں اس چراغ کی لو کو مدھم کر دیا؟
آزادی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ محض زنجیریں ٹوٹنے کا نام نہیں، بلکہ فکری، اخلاقی اور معاشرتی خودمختاری کا دوسرا نام ہے۔ آزادی ایک لفظ نہیں، ایک امانت ہے؛ وہ چراغ جو ہزاروں جانوں کے لہو سے جلایا گیا اور ہمارے ہاتھوں میں اس لیے تھمایا گیا کہ ہم اسے بجھنے نہ دیں۔ مگر آج، جب ہم اپنی گلیوں، بازاروں، عدالتوں اور ایوانوں پر نظر ڈالتے ہیں تو دل میں ایک کانٹا سا چبھتا ہے:
کیا ہم واقعی اس قربانی کے وارث کہلانے کے لائق ہیں؟ کیا ہم نے اس آزادی کو اس وقار سے سنبھالا ہے جس کا وعدہ ہمارے بزرگوں نے کیا تھا، یا ہم نے اپنی کوتاہیوں سے اس چراغ کی روشنی کم کر دی ہے؟
آزادی ایک خوبصورت گلاب ہے، جو قربانی کے لہو سے سینچا جاتا ہے۔ ہم نے یہ گلاب پایا، مگر کیا ہم نے اس کی خوشبو محفوظ رکھی… یا کانٹوں سے کھیلتے کھیلتے اسے مرجھا دیا؟ وہ مائیں جنہوں نے بیٹوں کی لاشیں گلے لگائیں، وہ بزرگ جنہوں نے کوڑوں کی مار سہی، اور وہ نوجوان جنہوں نے آزادی کے خواب میں جانیں وار دیں… اگر آج زندہ ہوتے تو کیا وہ فخر سے مسکراتے یا آنکھیں جھکا لیتے؟
برصغیر کی آزادی محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک صدی پر پھیلی قربانیوں کی داستان تھی۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں توپ کے دہانے پر باندھ کر گولیاں چلائی گئیں، مگر جذبہ نہ بجھا۔ اسی جذبے نے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام (1906) کی راہ ہموار کی، جس نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا۔ تحریکِ خلافت، ریشمی رومال تحریک، اور 1940 کی قراردادِ لاہور جیسے سنگِ میل بالآخر 14 اگست 1947 کے سورج کو طلوع کرنے کا پیش خیمہ بنے۔
یہ آزادی کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر سے نہیں بلکہ خون اور پسینے سے لکھی گئی تھی۔ لاکھوں لوگ ہجرت کے دوران شہید ہوئے، عورتوں نے اپنے بچے کھوئے، اور ہزاروں افراد نے قید و بند کی سختیاں جھیلیں۔ مولانا محمد علی جوہر نے برطانوی جیلوں میں بیماری اور مشقت برداشت کی، لیاقت علی خان نے اپنی زندگی تحریک اور سیاست کے لیے وقف کی، اور بے شمار گمنام سپاہی ایسے تھے جن کے نام تاریخ کے صفحات میں بھی نہیں ملتے، مگر آزادی کا چراغ انہی کے خون سے جلتا رہا۔
قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا جہاں ہر شہری کو مذہبی آزادی، انصاف، اور مساوی مواقع میسر ہوں۔ وہ ایک کرپشن اور ناانصافی سے پاک فلاحی ریاست چاہتے تھے۔ علامہ اقبال کے تصور میں یہ ملک ایک ایسی سرزمین تھا جہاں مسلمان اپنی تہذیب، عقیدہ اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں، اور اسلامی اصولوں پر مبنی ایک باوقار قوم تشکیل دیں۔
یقیناً ہم نے کچھ شعبوں میں ترقی کی ہے۔ تعلیم کے مواقع بڑھے، ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کو شعور دیا، اور کچھ عالمی میدانوں میں پاکستان نے مقام بنایا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرپشن، خودغرضی اور بددیانتی نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ فرقہ واریت، عدم برداشت اور اخلاقی گراوٹ نے ہمیں کمزور کردیا ہے۔ وسائل کا ضیاع اور قانون کی بے بسی نے ہمیں اس خواب سے دور کر دیا ہے جو ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔
کیا ہم ٹریفک سگنل پر رکتے ہیں؟ کیا ہم ٹیکس ایمانداری سے ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حق کا خیال رکھتے ہیں؟ یاد رکھیں، آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ قانون کی پاسداری، ایمانداری، اور اخلاقی کردار ہر شہری کا فرض ہے۔ قومی یکجہتی اور قربانی کا جذبہ وہ معیار ہیں جن پر ہمارا “لائق” ہونا پرکھا جا سکتا ہے۔
بہتری ممکن ہے اگر ہم تعلیم اور شعور کو اولین ترجیح دیں، قانون کی بالادستی قائم کریں، کرپشن کا خاتمہ کریں، اور نوجوان نسل میں اخلاقی تربیت و حب الوطنی پیدا کریں۔ وسائل کا درست استعمال اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہی اصل راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے” (الرعد: 11)
آئیے اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنی نیت کو بدلیں… تاکہ آنے والی نسلیں فخر سے کہیں کہ ہم اپنے دیس میں آزادی کے لائق تھے۔