0

امتحان میں فیل ہونا ۔۔۔ زندگی میں فیل ہونا نہیں/تحریر/ ڈاکٹر مدثر اقبال ٹمن

✍️تحریر از ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن۔
*امتحان میں فیل ہونا۔۔۔۔۔۔ زندگی میں فیل ہونا نہیں*
انسانی زندگی کا سفر نشیب و فراز سے بھرا ہوا ہے۔ ہر شخص اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے کبھی کامیابی سے دوچار ہوتا ہے اور کبھی ناکامی سے۔ امتحانات میں فیل ہونا یا کسی بھی میدان میں ناکام ہونا زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کی ابتداء ہے۔ ہر ناکامی کامیابی کا زینہ بنتی ہے ۔فیل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی صلاحیت ختم ہوگئی، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ابھی مزید محنت اور بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ناکامی بظاہر دکھ اور مایوسی کا باعث بنتی ہے لیکن درحقیقت یہی ناکامی انسان کے اندر قوتِ برداشت اور محنت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ بڑے بڑے سائنسدان، مفکرین اور مصلحین بھی ناکامیوں سے دوچار ہوئے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کے تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر انسان اپنی ناکامی کو سبق بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو یہی ناکامی اس کے لیے کامیابی کی سب سے بڑی سیڑھی ثابت ہوتی ہے۔ذیل میں چند ایک کا تذکرہ کیا ہے

1۔ حضرت امام بخاریؒ کو بچپن میں بینائی کے مسائل تھے۔چھوٹی عمر میں ان کی آنکھیں خراب ہو گئیں جس کی وجہ سے ان بینائی جاتی رہی۔ماں کو یہ غم کھائے جاتا رہا کہ یہ بچہ نابینا ہونے کی صورت میں حصول تعلیم کے لیے علماء کے دروس میں شرکت کیسے کرے گا؟حصول علم کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کیسے اختیار کر سکتا ہے؟۔ آخر اس بچےکا کیا ہوگا۔؟کئی سال تک وہ دیکھ نہیں سکتے تھے، لیکن ان کی والدہ کی دعا اور اللہ کی رحمت سے دوبارہ بینائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس نعمت کو ضائع نہیں کیا بلکہ محنت اور قربانی کے ذریعے “صحیح بخاری” جیسی عظیم کتاب دنیا کو دی۔ اگر وہ اپنی کمزوری پر مایوس ہو جاتے تو آج امت کو یہ قیمتی خزانہ نہ ملتا۔(تاریخ
بغداد)بعض روایات سے یہ سند ضعیف بھی معلوم ہوتی ہے۔

2۔ تھامس ایڈیسن کو سکول والوں نے سکول سے نکال دیا کہ یہ بچہ کند ذہن اور نالائق ہے۔اس کی ماں نے تھامس کی حوصلہ افزائی کی اسے خوب پڑھایا یہاں تک کہ اس نے ٹیلی گراف اور ٹیلی فون کے نظام کو بہتر بنایا، متحرک فلموں والا کیمرہ ایجاد کیا اور دنیا کو روشنی دینے والے برقی بلب کا وہ موجد ٹھہرا۔ تھامس کہاں کرتا تھا میں صدی کا نالائق ترین آدمی تھا میری ذہین ماں نے مجھے صدی کا ذہین آدمی بنا دیا۔(تھامس ایڈیسن کی ایجادات اور زندگی)

3۔ امریکہ کے مشہور صدر ابراہام لنکن کی زندگی میں ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ابراہم لنکن وکالت کے شعبے میں ایک بار نہیں کئی بار فیل ہوئے۔ ایک مشہور جملہ جو لنکن اکثر استعمال کرتے تھے وہ یہ کہ ’’ناکام ہونا ناکامی نہیں بلکہ یہ سوچ کر دل چھوڑ بیٹھنا اصل ناکامی ہے‘‘۔انھیں ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
1832ء میں انھیں ملازمت سے فارغ کیا گیا ۔ 1833ء میں انھیں ذاتی بزنس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1836ء میں نروس بریک ڈاؤن ہوا۔ 1843ء میں کانگریس میں نامزدگی کے دوران ناکامی۔ 1848ء میں کانگریس میں دُوسری مُدّت کے لیے نامزدگی میں ایک بار پھر ناکامی کا سامنا۔ 1854ء میں سینیٹ کے الیکشن میں ناکامی۔ 1856ء میں نائب صدر کے لیے نامزدگی میں شکست۔ 1858ء میں سینیٹ کے الیکشن میں ایک بار پھر ناکامی کا سامنا اور بالآخر1861ء میں امریکا کے سولہویں صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔(جنگ اخبار،3فروری،2019ء)

4۔ نیلسن منڈیلا ایک ایسے عظیم رہنما تھے، جنہوں نے جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ان کی طویل جدوجہد کی بدولت ہی ان کے ملک میں نسل پرستی کا خاتمہ ہوا۔ نسلی امتیاز کے خاتمے کی خاطر اس عظیم رہنما نے27سال جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، انہوں نے دکھ، اذیت، تکالیف اور جلاوطنی کا دکھ بھی سہا لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔نیلسن منڈیلا کہتے ہیں: ہر شخص اپنے مقاصد کو پاکر کامیابی حاصل کرسکتا ہے، اگر وہ ان مقاصد کے لیے پُرجوش اور سچی لگن رکھتا ہو، اور تعلیم ایک طاقتور ہتھیار ہے، جسے آپ دنیا کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں