0

ستمبر یومِ شہادت میجر عزیز بھٹی شہید /تحریر /حافظ غلام صابر

12 ستمبر یومِ شہادت میجر عزیز بھٹی شہید
تحریر: حافظ غلام صابر
اسلام میں شہید کو نہایت بلند مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ قرآن و حدیث میں شہادت کو ایمان کا اعلیٰ درجہ قرار دیا گیا ہے۔ شہادت صرف ایک موت کا نام نہیں بلکہ یہ وہ عظیم رتبہ ہے جو خالصتاً رضائے الٰہی کی خاطر جان قربان کرنے والوں کو عطا ہوتا ہے۔ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا بلکہ وہ ملت کے ضمیر کو بیدار کرتا ہے اور قوموں کو جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہید کا خون امت مسلمہ کی بیداری اور بقا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جو قومیں اپنے شہیدوں کو فراموش نہیں کرتیں ان کی آزادی کبھی ماند نہیں پڑتی۔ سرزمینِ پاکستان اپنے ان سپوتوں پر ہمیشہ نازاں رہی ہے جنہوں نے اس کی حرمت کے لیے اپنے لہو کے چراغ جلائے۔ ایسے ہی جری، باہمت اور باکردار جوانوں میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہیدکا نام نہایت عظمت اور فخر سے لیا جاتا ہے۔ میجر عزیز بھٹی نہ صرف ایک نڈر سپاہی تھے بلکہ وہ ایک مثالی رہنما بھی تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کی حفاظت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی زندگی پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک روشن باب ہے جو حب الوطنی، قربانی اور عزم کا ایسا عملی نمونہ پیش کرتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جب دشمن نے لاہور پر حملہ کیا تو آپ نے برکی سیکٹر میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر فوجی جوانوں کی قیادت کی۔ آپ نے کئی دنوں تک نہ صرف دشمن کے حملوں کو پسپا کیا بلکہ اپنی کمپنی کے حوصلے اور جذبے کو بھی بلند رکھا۔ آپ نے نہایت دلیری اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے 12 ستمبر 1965ء کو جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کی جرأت، قیادت اور قربانی پر پاکستان نے آپ کو سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا۔
میجر عزیز بھٹی کا تعلق راجپوت بھٹی خاندان سے تھا جو اپنی جرأت، غیرت اور بہادری کی روایات کے لیے معروف ہے۔ آپ کے والد محمد عبداللہ گجرات کے قصبہ لادیاں کے رہائشی تھے۔ جو بہتر روزگار کی تلاش میں پہلے امرتسر اور پھر ہانگ کانگ چلے گئے۔ 6 اگست 1923ء کو ہانگ کانگ میںآپ کی ولادت ہوئی۔ والدین نے آپ کا نام “عزیز” رکھا۔ جبکہ گھر والے پیار سے “راجہ” کہہ کر بلاتے تھے۔ جو وقت کے ساتھ آپ کے نام کا مستقل حصہ بن گیا۔ وہاں آپ نے بی اے تک تعلیم حاصل کی اور اردو، پنجابی، انگریزی اور چینی زبانوں پر مہارت حاصل کی۔ آپ کو مطالعہ خصوصاً تاریخ کے موضوعات سے گہری دلچسپی تھی۔ جو آپ کے فہم و شعور میں وسعت اور مقصدِ حیات میں بلندی لاتی رہی۔ قیام پاکستان سے قبل ہی آپ اپنے خاندان کے ہمراہ وطن واپس لوٹے اور اپنے آبائی علاقے لادیاں کو اپنا مسکن بنایا۔
راجہ عزیز بھٹی شہید نے 21 جنوری 1948ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ دو برس کی سخت تربیت اور انتھک محنت کے بعد 4 فروری 1950ء کو اکیڈمی کی پہلی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی۔ جس میں انہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کی توجہ حاصل کیاور اعلیٰ اعزازات کے مستحق ٹھہرے۔ وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے انہیں شمشیرِ اعزاز اور گولڈ میڈل سے نوازا۔ جو ان کی ذہانت، قیادت اور عسکری مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ بعد ازاں آپ نے پنجاب رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹشمولیت اختیار کی اور اپنی قابلیت، دیانت اور بے مثال فرض شناسی کے باعث مسلسل ترقی کرتے ہوئے 1956ء میں میجر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔
6 ستمبر 1965ء کو جب دشمن نے رات کی تاریکی میں چوری چھپے سرزمینِ پاکستان پر حملہ کیا تو پاک فوج کے جانباز سپوت پوری چابک دستی سے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے میدان میں اتر ے۔ میجر عزیز بھٹی کو لاہور کے حساس برکی سیکٹر میں دشمن کی پیش قدمی روکنے کا حکم ملا۔ اس وقت آپ ایکبٹالین(ایک فوجییونٹ جو عام طور پر ایک ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے)کمپنی کے کمانڈر تھے۔ جس کی دو پلاٹونز (پلاٹون ایک فوجییونٹ ہے جو عام طور پر 20 سے 50 سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے) بی آر بی نہر سے تقریباً چھ سو گز پیچھے تعینات تھیں۔
میجر عزیز بھٹی نے بطور سپہ سالار محض حکم جاری کرنے پر اکتفا نہ کیابلکہ خود سب سے آگے موجود پلاٹون کے ساتھ رہنے کا عزم کیا تاکہ اپنے جوانوں کی قیادت بنفسِ نفیس کر سکیں۔ برکی کا محاذ دشمن کے لیےنہایت اہم تھااسی لیے 7 ستمبر کو بھارت نے پورے ایک بریگیڈ اور بھاری توپ خانہ و ٹینکوں کی بڑی تعداد کے ساتھ بھرپور حملہ کیا۔
دشمن نے چھ بار شدیدیلغار کی اور ہر حملے کے بعد نئی تازہ دم فوج میدان میں اتاری۔ مگر دوسری جانب میجر عزیز بھٹی اپنے محدود مگر بے مثال جذبہِ ایمان سے سرشار سپاہیوں کے ساتھ فولادی دیوار بن کر دشمن کے آگے ڈٹ گئے۔ ان کی قیادت، حوصلہ اور بے باکی نے دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا دیا۔ اس کامیابی کے بعد میجر عزیز بھٹی نے پوری کمپنی کو ازسرنو منظم کیا اور مختلف سمتوں سے دشمن پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ کئی مواقع پر وہ دشمن کے گولہ باری اور توپ خانے کی زد میں آئے مگر اللہ کے فضل سے محفوظ رہے۔ مسلسل چھ دن اور پانچ راتیں وہ اپنے جانثار سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے ہر وار کو ناکام بناتے رہے۔ ان کی قیادت، استقامت اور قربانی نے نہ صرف اپنی فورسز کا حوصلہ بلند رکھا بلکہ دشمن کو وطنِ عزیز کی سرزمین پر ایک انچ بھی آگے بڑھنے نہ دیا۔
10 ستمبر کو بھارتی فوج نے ایک شدیداور بھرپور حملہ کیا۔ صورتحال نہایت نازک تھی جس کے پیشِ نظر آپ کو نہر سے پیچھے پوزیشن لینے کا حکم دیا گیا۔ وہ اپنی پلاٹون کے ہمراہ عقب میں آ گئے مگر اسی دوران دشمن نہر کے کچھ حصوں پر قابض ہو چکا تھا۔ میجر صاحب کی پلاٹون کے چند جوان اور گاڑیاں ابھی بھی دشمن کے زیرِ قبضہ علاقے میں موجود تھیں۔ انہیں بحفاظت واپس لانے کے لیے دشمن کو پیچھے دھکیلنا ناگزیر تھا۔ میجر عزیز بھٹی نے دونوں پلاٹونز کو یکجا کیا اور پورے عزم و ہمت کے ساتھ دشمن پر جوابی حملہ کیا۔ ان کی جرأت مندانہ قیادت کے باعث دشمن پسپا ہوا اور نہ صرف جوانوں بلکہ گاڑیوں کو بھی بحفاظت واپس لایا گیا۔
ایسے لمحات میں جب دشمن مسلسل اور بھرپور حملے کر رہا تھا اور اسے اپنے توپ خانے اور ٹینکوں کی مکمل معاونت حاصل تھی۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جانباز ساتھی غیر متزلزل عزم کے ساتھ مورچوں میں ڈٹے رہے۔ دشمن کی جانب سے شدید گولہ باری اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ لیکن میجر عزیز بھٹی نہ صرف اس شدید دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہےبلکہ دشمن کے ہر حملے کا جرأت مندانہ اور مؤثر جواب بھی دیتے رہے۔ گولے ان کے دائیں بائیں آ کر گرتے رہے لیکن وہ مورچے سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ اسی دوران انہوں نے دیکھا کہ برکی کی جانب سے دشمن کے متعدد ٹینک نہر کی سمت پیش قدمی کر رہے ہیں۔ صورت حال کو بھانپتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر توپ خانے کو گولہ باری کے احکامات دیے۔ فائر درست نشانے پر لگے اور دشمن کے ٹینک لمحوں میں شعلوں کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئے۔
12 ستمبر کی صبح ساڑھے نو بجے دشمن کی طرف سے داغا گیا ایک گولہ فضا میں بلند ہوتا ہوا سیدھا میجر عزیز بھٹی کے بائیں شانے پر آ کر لگا۔ وہ اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے۔ شہادت کے بعد آپ کو آبائی گاؤں لادیاں میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی عظیم قربانی کییاد میں برکی لاہور میں مقامِ شہادت پر اور لادیاں میں مزار پر ہر سال 6 ستمبر کو خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ جہاں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے سلامی پیش کرتے ہیں اور قوم آپ کے شجاع کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ شہادت کے بعد قوم نے ان کی بے مثال جرأت اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز “نشانِ حیدر” عطا کیا گیا۔ وہ یہ اعزاز پانے والے وطنِ عزیز کے تیسرے عظیم سپوت تھے جنہوں نے اپنے خون سے شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں