عنوان: میں پاکستان کا مستقبل ہوں/تحریر/روشان اصف مغلمیں کشمیر کے ایک ضلع باغ کے تاریخی گاؤں دھڑے سے تعلق رکھنے والا کشمیری اس بات کا دعوئ کرتا ہوں کہ میں پاکستان کا مستقبل ہوں کیونکہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والی اس مملکت خداداد کو بنانے والوں کے اب و اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا .پھر چاہے وہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال ہوں سو جس نے اس عظیم ریاست کا خواب دیکھا اس کے ابا و اجداد کا تعلق ہی کشمیر سے تھا سو میں کشمیری بھی پاکستان کا مستقبل ہوں پھر چاہے میں کسی بھی شکل اور صورت میں ہوں میرا کوئی بھی کردار ہو وہ پاکستان کا مستقبل حال اور ماضی سنوارنے کے لیے ہوگا . کوئی چودھری غلام عباس سردار محمد ابراہیم خان مولوی محمد یوسف شاہ سردار عبدالقیوم خان چوھدری محمد یوسف پیر علی شاہ بخاری خورشید حسن خورشید بن کر الحاق پاکستان کا اعلان کر کے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اس قول کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے اور پاکستان کو دنیا میں عظیم طاقت بنانے کی کوشش شروع کر دی ۔پھر میں کشمیری پاکستان کا مستقبل روشن کرنے کے لیے میجر محمد اکرام شہید لیفٹیننٹ جنرل سردار عطا اللہ خان اپریشن بنیاں مرسوس میں اہم کردار ادا کرنے والے سید امداد گردیزی یا پھر بلوچستان کی سرزمین پر دشمن کے ساتھ لڑتے شہید ہونے والے میجر سعد شہید بن کر دفاعی محاذ پر پاکستان کا مستقبل روشن کرتے ہیں . پھر سیاست کے میدان میں بھی کئی ایسے کشمیری رہنما پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کر کے پاکستان کا مستقبل روشن کر رہے ہیں .معشیت کے میدان میں اسلام اباد کے وسط میں واقع سنٹورس اور اس جیسے کئی اور معاشی ادارے پاکستانیوں اور کشمیریوں کو روزگار فراہم کر کے پاکستان سے بے روزگاری ختم کرنے کوشش کر رہے ہیں .اج بھی تہاڑ جیل میں اجڑی روحوں کا حمیر بولتا ہے کوئی علی گیلانی پاکستان سے لا الہ الا اللہ کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے بقول اقبال
کہ دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح شام پیدا کر
خدا اگر دل شناس فطرت دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
میں پاکستان کا انے والا مستقبل ہوں کیونکہ میں کشمیری اج اپنی قلم سے پاکستان سے محبت کا اظہار کر رہا ہوں .میں جامعہ مظفراباد میں انٹرنیشنل ریلیشن کا سٹوڈنٹ اگر کل سفارتی محاز پہ اگے جاتا ہوں تو میں کشمیری پاکستان کا نام روشن کروں گا .اگر میں سی ایس ایس کرتا ہوں تو ایمانداری کی مثال قائم کر کے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کروں گا اور اگر میں صحافت کے محاذ میں اگے اتا ہوں تو حق سچ بیان کر کے بھی پاکستان کا نام روشن کروں گا پھر چاہے میں دنیا کی کسی بھی میدان میں جاؤں میں کشمیری پاکستان کا نام روشن کروں گا صرف میں نہیں مجھ جیسے کئی کشمیری اور پاکستانی پھر چاہے وہ کسی بھی میدان میں ہوں چاہے وہ ڈاکٹر ہوں انجینیئر ہوں ارمی افیسر ہوں شاعر ہوں مقرر ہوں لکھاری ہوں ہر محاذ پر پاکستان کا نام ہی روشن کریں گے۔ میں کل انے والا پاکستان کا مستقبل ہوں اگر میں استاد ہوں تو میں بچوں کو لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر پاکستان سے محبت کرنا سکھاؤں گا میں پاکستان کا مستقبل ہوں کیونکہ میں نفرتوں کو ختم کرنا چاہوں گا میں اقبال کی اس خواب کو حقیقی رنگ دوں گا جو اس نے پاکستان کے لیے دیکھا تھا اور بانی پاکستان نے جس خاطر یہ ملک بنایا تھا .میں پاکستان کا مستقبل ہوں کہ میں عبدالستار ایدھی بن کر نیکی کو عام کروں گا .میں پاکستان کا انے والا روشن مستقبل ہوں کہ میں طارق جمیل اور شہنشاہ حسین نقوی بن کر فرقہ پرستی کو ختم کرنے کی کوشش کروں گا .میں اقرار الحسن بن کر پسہ پردہ ہونے والے تمام جرائم کو بے نقاب کروں گا .میں وسیم بادامی بن کر ٹی وی چینل پر بیٹھ کر دشمن کی نیند حرام کر دوں گا .میں پاکستان کا روشن مستقبل اس لیے ہوں کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اگر میں ایک مستقبل سنوارنے کی کوشش کروں تو شاید میرے ساتھ کل ہزاروں کا لشکر ہو اور پاکستان جو اسلامی ملک ہونے کے باوجود انصاف کے معاملے میں ایمانداری میں دنیا سے بہت پیچھے جس ملک کو ترقی یافتہ ہونا چاہیے تھا وہ اج ترقی پذیر ہے شاید کل مجھ جیسے عام بندوں کی کوشش سے یہ ترقی یافتہ ملک بن جائے اس کا غریب ادمی اٹھ کر وہ انقلاب لے ائے جو پاکستان کا مستقبل سنوار دے کیونکہ اقبال نے کہا تھا کہ ستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیں
سو صرف میں پاکستان کا مستقبل نہیں بلکہ مجھ جیسا ہر عام شہری پاکستان کا انے والا روشن مستقبل ہے جو پاکستان کو مضبوط کرنے کا خواب دیکھتا ہو جس کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ ہو خدا بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد اپ کرتے ہیں جو دوسروں کی امید پہ بیٹھے رہتے ہیں ان کا کبھی کچھ نہیں ہو سکتا سو میں پاکستان کا روشن مستقبل ہوں اگر اج دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے تو شاید ہم وہ کر کے دکھا دیں جو دنیا نے کبھی سوچا ہی نہ ہو کیونکہ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
اللہ سب کا حامی و ناصر ہو
بہت شکریہ