آزادی یا نئی غلامی؟✍️ــــــ محمد حسنین معاویہ
14 اگست 1947 کی شب جب آزادی کا سورج طلوع ہوا تو لاکھوں دلوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قربانیوں کی لازوال داستانیں رنگ لائیں اور مسلمانوں کو ایک خطۂ ارض ملا جہاں وہ اپنے دین اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ آزادی صرف جغرافیائی سرحدوں کا نام نہ تھی بلکہ ایک نظریے کی تکمیل تھی، ایک خواب کی تعبیر تھی اور ایک نئی صبح کا آغاز تھی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آزادی کے ان برسوں کے بعد کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ تاریخ کا سچ یہ ہے کہ ہم نے انگریزوں کی براہِ راست غلامی سے تو نجات حاصل کر لی مگر ان کے ہی پروردہ نظام اور ان کے ذہنی غلاموں کو اپنے اوپر مسلط کر دیا۔ وہ طبقہ جس نے اقتدار کو امانت کے بجائے ذاتی جاگیر سمجھا، وہی ’’کالے انگریز‘‘ آج بھی ہماری تقدیر پر قابض ہیں۔
آزادی کا مطلب صرف پرچم لہرانا نہیں ہوتا، آزادی تب مکمل ہوتی ہے جب عوام عدل و انصاف کی روشنی میں زندگی گزار سکیں، جب مزدور اپنے پسینے کا پورا معاوضہ پا سکے، جب کسان اپنی محنت کا پھل خود کھا سکے، جب غریب کا بچہ تعلیم کے دروازے پر دستک دے تو دروازے اس پر بند نہ ہوں، اور جب کوئی شہری بنیادی سہولتوں کے لیے حکمرانوں کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے۔ افسوس کہ آج بھی پاکستان کا عام آدمی انہی محرومیوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
ہم نے سیاسی آزادی تو حاصل کر لی مگر ذہنی اور معاشی غلامی سے نجات نہ پا سکے۔ آج بھی ہمارے فیصلے بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ہوتے ہیں، آج بھی اقتدار پر وہی خاندان قابض ہیں جن کے لیے عوام محض ووٹ نہیں بلکہ غلامی کی علامت ہیں۔ ہم نے اپنی تقدیر لکھنے کا اختیار ان ہاتھوں میں دے رکھا ہے جو ہر بار اُسے مسخ کر کے اپنے مفاد کے مطابق ڈھالتے ہیں۔
کیا یہی وہ آزادی تھی جس کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں؟ کیا یہی وہ خواب تھا جو علامہ اقبال نے دیکھا تھا؟ اگر آزادی کا مطلب صرف حکمران بدلنا تھا تو یہ آزادی ادھوری ہے۔ اصل آزادی تو وہ ہے جو ذہنوں اور دلوں کو غلامی سے آزاد کرے، جو عوام کو وقار اور عزت دے، جو اس مٹی کو انصاف اور امن کی خوشبو سے معطر کرے۔
یہ سچ ہے کہ ہمارا پہلا یومِ آزادی مکمل ہوا تھا، مگر ہماری اصل آزادی ابھی ادھوری ہے۔ ہم انگریزوں کی غلامی سے نکلے تو ضرور، لیکن اپنے ہی جیسے حکمرانوں کے غلام ہو گئے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم بیدار ہو، اپنے اصل مقصد کو پہچانے اور یہ عہد کرے کہ قربانیوں سے حاصل کیا گیا یہ وطن پھر سے قربانیوں کے چراغ جلا کر حقیقی معنوں میں آزاد کیا جائے گا۔
یقین کیجیے، وہ دن آئے گا جب پاکستان کا ہر شہری سر اٹھا کر یہ کہے گا کہ وہ کسی ’’کالے یا گورے انگریز‘‘ کا غلام نہیں، بلکہ اللہ کے حکم اور قانون کا تابع ہے۔ اور تب ہی اس وطن کی فضاؤں میں حقیقی آزادی کا پرچم لہرا سکے گا۔