خاکِ وطن کے ذروں سے لے کر فضاؤں میں لہراتے سبز ہلالی پرچم تک، پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے جو صرف زمینی حدود میں قید نہیں بلکہ یہ ایک نظریے، ایک فکر، ایک خواب اور ایک عہد کا نام ہے۔ یہی وہ وطن ہے جس کی بنیاد “لا الٰہ الا اللہ” پر رکھی گئی، اور جس کی اصل روح قومی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ ایسی یکجہتی جو رنگ، نسل، زبان، فرقے اور ذات پات کے امتیازات سے بالا ہو۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم واقعی ایک قوم بن چکے ہیں؟ یا محض ایک ہجوم ہیں جو مختلف سمتوں میں بکھرا ہوا ہے؟ کیا ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ ہماری قومی وحدت ہے یا ہم اب بھی ذات، برادری، اور فرقہ واریت کے خول میں بند ہیں؟ ان سوالات کے جواب ہمیں اپنے ضمیر سے پوچھنے کی ضرورت ہے جو اکثر شورِ دنیا میں دب کر رہ جاتا ہے۔
قومیں ہمیشہ خوابوں سے بنتی ہیں لیکن خواب تبھی تعبیر پاتے ہیں جب ان میں اتحاد اور اتفاق کا رنگ شامل ہو۔ پاکستان کا قیام بھی ایک خواب کی تعبیر تھا۔ ایسا خواب جو علامہ اقبالؒ نے اپنی فکر سے دیکھا اور قائداعظمؒ نے اپنی قیادت سے تعبیر دیا۔ ان عظیم شخصیات کی نظر میں قوم کی پہچان نہ رنگ سے تھی نہ نسل سے نہ ہی کسی مخصوص فرقے سے بلکہ اسلامی اخوت اور انسانی وقار ہی اصل شناخت تھے۔
یاد کیجیے وہ دن جب مختلف علاقوں سے لوگ ایک پرچم کے سائے تلے جمع ہوئے تھے، جب بنگال سے لے کر بلوچستان تک، پنجاب سے خیبر تک اور کراچی سے گلگت تک دل ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ وہ لمحے جب ہم نے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونے کا عہد کیا تھا۔ یہ سب کچھ کسی سیاسی نعرے کی بدولت نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی بدولت ممکن ہوا تھا۔
قومی یکجہتی کوئی خودبخود پیدا ہونے والی شے نہیں یہ افراد کے انفرادی کردار سے جنم لیتی ہے۔ جب ایک فرد یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زبان، فرقہ، یا علاقہ سب کچھ بعد میں ہے اور پاکستان سب سے پہلے ہے تب ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد پڑتی ہے۔ قومیں صرف آئین یا قانون سے نہیں بنتیں بلکہ اخلاقی اقدار، باہمی احترام اور رواداری سے تشکیل پاتی ہیں۔
افسوس کہ آج ہم انہی بنیادوں کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زبان کے نام پر سیاست، فرقے کے نام پر نفرت اور نسل کے نام پر برتری کا زعم ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم نے آزادی تو حاصل کر لی مگر آزادی کے مقاصد کو فراموش کر دیا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی انفرادی سوچ کو اجتماعی مفاد کے تابع کریں، اپنے دائرۂ ذات سے نکل کر ملت کی تعمیر کا سوچیں۔
محبت کی زبان میں بڑی تاثیر ہے اور قومی یکجہتی کا پہلا زینہ یہی زبانِ محبت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ دوسرا شخص خواہ کسی بھی رنگ، نسل یا فرقے سے تعلق رکھتا ہو، وہ ہمارا بھائی ہے، ہم سب ایک ہی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ ہمیں یہ شعور دینا ہو گا کہ سبز ہلالی پرچم ہر پاکستانی کا ہے اور ہر پاکستانی اس پرچم کی عزت کا محافظ ہے۔
تعلیم، ذرائع ابلاغ، مساجد، مدارس اور اسکول، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی تقریروں، تحریروں اور افعال سے تفریق نہیں بلکہ اخوت کو فروغ دینا ہے۔ جب ایک استاد، ایک عالم، ایک صحافی اور ایک عام شہری اس شعور کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا کہ وہ ایک قوم کا فرد ہے تبھی قومی یکجہتی مضبوط ہوگی۔
قومی یکجہتی صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک رویہ ہے جو ہمیں دوسروں کے دکھ کو اپنا سمجھنے، خودغرضی چھوڑ کر ایثار اپنانے اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ہم اسلام کی روشنی میں محبت، برداشت اور اتحاد کو اپناتے ہیں، تبھی ہم ایک زندہ، باوقار اور مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم نے کب تک ذات برادری کے بتوں کی پرستش کرنی ہے؟ کب تک ہم فرقہ واریت کی خندقوں میں اترے رہیں گے؟ اور کب ہم وہ دن دیکھیں گے جب “پہلے میں، پھر میرا گروہ” کی سوچ کی جگہ “پہلے پاکستان” کی صدا گونجے گی؟
کیا ہم اس لمحے کو تاریخ میں بدل سکتے ہیں؟ ہاں! بشرطیکہ ہم اپنی شناخت کو صرف پاکستانی مان لیں اور باقی تمام پہچانوں کو انفرادی حیثیت تک محدود رکھیں۔ ہم رنگوں میں بٹے ہو سکتے ہیں، مگر پرچم کا رنگ سب کا ایک ہے؛ ہم زبانوں میں مختلف ہو سکتے ہیں، مگر دل کی دھڑکن ایک ہے؛ ہم فرقوں میں الگ الگ ہو سکتے ہیں، مگر ایمان کا مرکز ایک ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں، لسانی تعصبات اور فرقہ وارانہ تقسیم سے نکل کر ایک نئے عہد کا آغاز کریں۔ ہمیں خود سے یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم نفرت کے بیج نہیں بوئیں گے بلکہ محبت اور رواداری کی فصل اگائیں گے۔ ہم دوسروں کو ان کی نسل، رنگ، یا مسلک کی بنیاد پر نہیں پرکھیں گے بلکہ ان کی انسانیت اور پاکستانی ہونے کی نسبت سے عزت دیں گے۔ ہم اپنے دل و دماغ کو وسعت دیں گے اور تنگ نظری، تعصب اور انا کے حصار توڑ کر ایک کشادہ اور متحد قوم کی صورت میں ابھریں گے۔
یہی وقت ہے کہ ہم اپنے طرزِ فکر کو بدلیں، اپنے الفاظ میں نرمی لائیں، اپنے رویوں میں اخلاص پیدا کریں، اور سب سے بڑھ کر، اپنی شناخت کو “پاکستانی” کے رشتے میں پرو لیں۔ یہی وہ شعور ہے جو ہمیں ایک ملت بناتا ہے، اور یہی وہ یکجہتی ہے جو ہمیں تاریخ کی گردابوں سے نکال کر روشن مستقبل کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر ہم نے آج یہ فیصلہ کر لیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں افتخار سے یاد کریں گی کہ ہم وہ لوگ تھے جنہوں نے تفرقوں کی دیواریں گرا کر اخوت کی بنیاد پر ایک نئی قوم تعمیر کی.
از قلم: اُم سلمیٰ احمد
سب سے پہلے پاکستان/تحریر/حفیظ چودھری
شکرِ آزادی/تحریر/محمد زاہد جمیل