0

غزہ کے آنسو/آزاد نظم/شاعری/عصمت اسامہ

غزہ کے آنسو/آزاد نظم/شاعری/عصمت اسامہ

غزہ کے آنسو برس رہے ہیں
درد کا دریا رواں دواں ہے!
کیسی ہوئی ہے آہنی بارش
زمیں کا سینہ بھی شق ہوا ہے
غزہ کی ماؤں کی وہ صدائیں
کچھ اس طرح عرش پہ گئی ہیں
کہ بادلوں کا بھی ضبط ٹوٹا
اور ساری دنیا ہی بہہ رہی ہے!
تمہارے آگے طوفانی سیلاب
ان کے بکھرے ہوئے خواب ہیں یہ
ساماں اٹھاۓ، بچے اٹھاۓ
پریشاں قافلے ہجرتوں کے!
گھروں کا ملبہ اور خیمے
منظر تو ہیں یہ دیکھےدیکھے!
اے اہل غزہ تمہاری خاطر
آنسو تو ہم نے بھی تھےبہاۓ
ہماری بستی اجڑ رہی ہے
ہوسکے تو ہماری خاطر
ہم پہ اک احسان کرنا
چند اشک تم بھی دان کرنا!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں