0

علم وکتاب کا روشن چراغ/تحریر/عابد محمود عزام

جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد: علم و کتاب کا روشن چراغ/تحریر/عابد محمود عزام

ہر ادارے کی بنیاد اس کے اصول و ضوابط پر قائم ہوتی ہے۔ یہی اصول محض ضابطے نہیں، بلکہ ادارے کی بقا، وقار اور اعتماد کی ضمانت ہوتے ہیں۔ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد برصغیر کے ان گنے چنے علمی اداروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ تعلیم و تعلم کو مقصدِ اوّل اور دینی و اخلاقی تربیت کو اپنی پہچان بنایا۔ حالیہ دنوں میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ سے چھ طلباء کے اخراج کا واقعہ پیش آیا، بتایا جارہا ہے کہ ان طلباء کو اہل تشیع کی مجلس میں شرکت کی وجہ سے نکالا گیا۔ اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے آراء اور تبصرے سامنے آئے۔ کچھ لوگوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، کئی نے جامعہ پر الزام تراشی بھی کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جامعہ امدادیہ کی پالیسی ابتدا ہی سے بالکل واضح ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ہر قسم کی سیاسی، تنظیمی اور فرقہ وارانہ سرگرمیوں سے مکمل دور رہنا ہوتا ہے۔ یہ عہد داخلے کے وقت طلبہ سے لیا جاتا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرایا جاتا ہے۔ ادارہ کبھی کسی طالب علم کے بارے میں وقتی جذبات کے تحت فیصلہ نہیں کرتا۔ پہلے بارہا سمجھایا جاتا ہے، وارننگ دی جاتی ہے اور اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اگر اس سب کے باوجود کوئی طالب علم اپنی روش درست نہ کرے تو پھر ادارہ اپنے وقار اور دیگر طلبہ کے مفاد کے تحفظ کے لیے اقدام اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی معاملہ ان چھ طلبہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ بتایا جارہا ہے کہ محض جلسے یا کسی مجلس میں شرکت ہی وجہ نہیں تھی، بلکہ بعض طلبہ کے ناپسندیدہ اور غیر مناسب سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود تھے، جن پر بارہا تنبیہ کی گئی، مگر وہ باز نہ آئے۔
جامعہ امدادیہ کا مزاج ہمیشہ تعلیم، علم اور کتاب سے جڑا رہا ہے۔ اساتذہ بارہا وضاحت کرچکے ہیں کہ ہمارے طلبہ نہ کسی تنظیم کے حامی ہیں اور نہ مخالف؛ ان کی اصل وابستگی صرف کتاب سے ہے اور کتاب ہی ان کی حامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ سے فارغ ہونے والے ہزاروں فضلاء دنیا کے مختلف خطوں میں دین کی خدمت کر رہے ہیں اور اپنے ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ہم خود اس ادارے کے طالب علم رہے ہیں اور برسوں وہاں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس دوران بارہا طلبہ کو جلسوں جلوسوں میں شرکت پر تنبیہ، سزا اور حتیٰ کہ اخراج تک کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کوئی نئی پالیسی نہیں، بلکہ ادارے کے نظام و انصرام کا مستقل حصہ ہے۔ چھ سال میں ہم صرف دو بار ختم نبوت کے تحفظ کے عنوان سے منعقد جلسوں میں شریک ہوئے، جس کے انتظام میں شاید جامعہ خود بھی شریک تھا۔
جامعہ امدادیہ فیصل آباد ہمیشہ اپنے اعلیٰ تعلیمی اور اخلاقی معیار کی بدولت ممتاز رہا ہے۔ یہ ادارہ کسی قسم کے پروپیگنڈے یا شہرت کا محتاج نہیں۔ اپنی تقریباً چار دہائیوں پر محیط تاریخ میں کئی آزمائشیں آئیں، لیکن ادارہ ہر بار سرخرو ہو کر نکلا اور اپنی پہچان مزید مستحکم کر گیا۔ ہمارے نزدیک جامعہ کا یہ فیصلہ بروقت اور درست ہے۔ جو طلبہ تعلیم کے اصل مقصد سے ہٹ کر وقتی اور غیر ضروری مشغولیات میں پڑ جاتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی قیمتی زندگی ضائع کرتے ہیں، بلکہ ادارے کے علمی ماحول کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں جامعہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی فضاء کو محفوظ بنائے اور طلبہ کو ان کے اصل مشن یعنی کتاب و سنت کی تعلیم اور دین کی خدمت کی طرف متوجہ رکھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کا یہ اقدام ادارے کے وقار اور دوسرے طلبہ کی اصلاح کے لیے نہایت ضروری تھا۔ یہ فیصلہ باقی طلبہ کے لیے بھی پیغام ہے کہ اصل کام تعلیم ہے، باقی سب وقتی فریب ہیں۔ جامعہ میں رہتے ہوئے اگر جامعہ کی سرپرستی میں کسی مجلس میں شرکت کی جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ یہی اصول پسندی اور کتاب دوستی ادارے کی کامیابی کا راز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں