0

جوائنٹ فیملی سسٹم یا گھریلو ہراسمنٹ؟/تحریر/جویریہ ساجد

جوائنٹ فیملی سسٹم یا گھریلو ہراسمنٹ؟/تحریر/جویریہ ساجد

گھریلو ہراسمنٹ کا سارا مدعا جوائنٹ فیملی سسٹم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
جن گھروں میں بچے ملازمین کی ہراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں گھر کے ڈرائیور، خانساماں دست درازی کرتے ہیں وہاں جوائنٹ فیملی نہیں ہوتی۔

جن گھروں میں غیر لوگوں کا کھلم کھلا آنا جانا ہوتا ہے کزن کے نام پہ یا منہ بولا بھائی یا شوہر کے دوست، مائیں میکے یا بازاروں کے چکروں میں مصروف ہوتی ہیں وہاں بھی آپ کے بچے تو کیا آپ خود محفوظ نہیں ہیں۔

گھریلو ہراسمنٹ کی سب سے بڑی وجہ ماؤں کا اپنی جگہ پر نا ہونا ہے اپنی اصلی زمہ دارویوں سے بے بہرہ ہونا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔
اس پہ بات کرتے ہیں
1. پہلی بات وہ خواتین جو جاب کرتی ہیں وہ جاب کے لیے کیوں نکلیں کیونکہ انہیں اسی پیسے نا ہونے کی مار ماری گئی اسی پیسے سے ترسایا گیا اسی پیسے پر ان کی عزت نفس کی دھجیاں بکھیری گئیں ان کو دو کوڑی کا کہا گیا پاوں کی جوتی سمجھا گیا اور ان کا استحصال کیا گیا۔
سسرال ہیں تو شوہر کا منہ دیکھتی رہیں کہ پیسہ دے گا تو ضرورت پوری کریں گی میکے گئیں تو بھائیوں کے منہ دیکھے کہ خرچہ اٹھائیں گے یا نہیں
اور مردوں نے بھی دل کھول کر ان کو زلیل کیا جب دل چاہا دھکے دے کے گھر سے نکلا دیا کہ جاو چار دن باپ بھائی کھلائیں گے تو پتہ چلے گا۔
باپ بھائیوں نے گھر آئی مصیبت ( خرچے) سے جان چھڑانے کے لیے اسے وہ بے اعتنائی دیکھائی یا پھر شوہر کی اطاعت کے درس دے کے واپس بھیج دیا۔ یہ کئی نسلوں کی کہانی ہے۔
پھر ایک نسل آئی جس نے مار تو کھائی مگر اپنی بیٹی کو معاشی طور پر مستحکم کیا جذباتی طور ہر مضبوط کیا تاکہ کوئی روپے پیسے پر اسکا استحصال نا کر سکے۔
میں کما کے لاتا ہوں
میں کھلاتا ہوں
میرے پیسے سے گھر چلتا ہے
اس کے عوض عورتوں کو جوتے کی نوک پر رکھا گیا۔ ان کی عزت نفس تار تار کی گئ ان کی شخصیتیں تباہ کر دی گئیں انہیں ذہنی اور نفسیاتی عارضوں میں مبتلا کیا دیا گیا۔
ہمارے پاس ایک متوازن نظام تھا کہ مرد کمائے گا عورت گھر سنبھالے گی۔
مرد کا کمانا سپیریئر بنا دیا گیا اور عورت کا گھر سنبھالنا حقیر کر دیا گیا ۔ سارا دن چولہے میں جھونکنے کے بعد بھی وہ سنتی تم آخر کرتی کیا ہو سارا دن؟
تم جانتی کیا ہو جاہل عورت؟
تمہاری جرت کیسے ہوئی مجھے مشورہ دو
تمہاری اوقات کیا ہے؟

ان زہریلے جملوں نے عورت کو مجبور کیا کہ وہ بھی گھر سنبھالنے جیسا حقیر کام کرنے کے بجائے کمانے جیسا اعلی و ارفع کام کرئے جس کی وجہ سے اس کی عزت ہو۔
یہی سرمایہ دارانہ نظام چاہتا تھا کہ عورت کو گھر سے نکال کر معاشی سرگرمیوں میں مصروف کر دیا جائے
یہ ٹھیک ہے اس کے کمانے کی وجہ سے اس کی عزت ہوئی بھی۔
مگر اس کا بدترین خمیازہ اولاد نے بھگتا
باپ اپنی جاب پہ ماں اپنی جاب پہ پیچھے رہ گئے بچے اور ملازمین۔

2. دوسری بات جوائنٹ فیملی سسٹم کو سپورٹ سسٹم کے بجائے مصیبت بنا دیا گیا اس میں گھر کے بڑوں کو رول سب سے اہم ہے جنہیں لگا بہو نہیں مفت کی نوکرانی ہاتھ آ گئی ہے اس کو جتنا نچوڑ سکتے ہو نچوڑ لو۔ بہو کو گھر کا فرد سمجھنے کے بجائے نوکر سمجھا گیا بات بات پہ اس کی تضحیک طنز طعنے اور شوہر سے شکایتیں الگ۔
کچھ گھرانوں میں دیکھا شغل میلے کے طور پر فساد اٹھائے رکھتے ہیں کسی نا کسی ایک کو ٹارگٹ بنایا اور انٹرٹینمنٹ شروع ہو گئی۔
لڑکیوں کو شادی کا مقصد کام کام اور سسرال اور شوہر کے ہاتھوں زلیل ہونا لگنے لگا۔

اچھی بہو وہ ہے جو سسرال کو خوش کر سکے اور سسرال نے قسم کھائی ہے کبھی خوش نہیں ہوتا منہ ٹیڑھے ہی رکھنے ہیں۔

سسرالوں نے قسم کھائی ہے بیٹے کو بہو سے متنفر رکھنا ہے ان کے درمیاان جس قدر ہو سکے غلط فہمیاں ڈالنی ہیں اس رشتے میں سواد اڑا دینا ہے بس مارے باندھے پڑے رہیں اور ایک دوسرے کو خون خوار نظروں سے دیکھتے رہیں۔

بیٹیوں نے اپنی ماوں کی یہ عزت افزائی اپنے دل پر لکھی اور تہیہ کیا کہ ٹکے ٹکے کے لیے کم ظرف انسان کی طرف دیکھنے سے بہتر ہے اپنے لیے خود کمائیں گی۔ اور انہوں نے بھی گھر کے کام کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا
یہ ایک ری ایکشن تھا نسلوں کا ری ایکشن اس نظام کے خلاف جس میں ماؤں کو گھر کے کاموں میں رگڑا بھی گیا اور زلیل بھی کیا گیا۔

سسرالوں کا مزاج جب بہو کی ڈیلیوری کا ٹائم آئے اسے میکے بھیج دو پھر کسی خوشی میں بہو سے یہ امید کہ وہ آپ کے ڈاون ٹائم میں آپ کی خدمت کرئے گی۔

آپ کی بیٹیاں روز کے روز میکے پڑی رہیں بہو ہفتے دو یفتے بعد بھی نا جائے۔ آپ کی بیٹیاں آپ کے لیے دنیا جہان کی چیزیں اٹھا کے لے آئیں اور آپ بہو کو گھر کا راشن اپنے گھر پہنچانے کے الزامات لگائیں۔

لڑکیاں اس وبال سے نکلیں اور خود کو منوانے کمانے کے لیے نکل کھڑی ہوئی پھر آپ نے بھی ڈیماڈ شروع کر دیں لڑکی ڈاکٹر ہو بہت پڑھی لکھی ہو سرکاری جاب والی ہو گھر لا کے کرنا ہم نے زلیل ہی ہے۔

خیر یہاں سے جوائنٹ فیملی ٹوٹا نیوکلئیر فیملی کا رجحان آیا جس کی اپنی قباحتیں تھیں۔ ماں باپ دونوں نوکری پہ بچے یہاں وہاں نانی کے پاس ملازموں کے حوالے یہیں ان شِکروں کو موقع ملا کہ وہ بچوں کو ہراس کر سکیں۔

دوسری بات ماوں کے پاس بچوں کو دینے کے لیے ٹائم ہی نہیں بچا تو تربیت دینے کے لیے کیا وقت میسر ہو گا تربیت کرنا ایک فل ٹائم جاب ہے ںچوں کی پرورش فل ٹائم جاب ہے۔ ماؤں کو آرڈر ملے جاب اس شرط پہ کرنے کی اجازت دی جائے گی کہ گھر کے کاموں میں کوئی کوتاہی نا ہو۔
ان پہ دگنا بوجھ آ گیا ان کی صحت متاثر ہوئی جس سے وہ متنفر ہوئیں۔

گھر داری آنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ جھاڑو پوچا کریں ، صحن دھوئیں ، کپڑے دھوئیں ، استری کریں ،نت نئے کھانے پکائیں۔

بلکہ گھر داری آنے کا مطلب ہے سب سے پہلے آپ کو بجٹنگ آتی ہو آپ کو مینجمنٹ آتی ہو آپ کو رشتوں کو برتنا آتا ہو پھر تمام بیسک کام کرنے آتے ہوں کام لینے کے لیے بھی کام آنا ضروری ہے۔

آپ کو ٹائم مینجمنٹ آتی ہو آپ کو لوگوں سے بات کرنے کا برتاو کرنے کا سلیقہ ہو، آپ کو اپنی ترجیحاٹ سیٹ کرنا آتی ہوں آپ ہیومن سائیکالوجی جانتے ہوں اور آپ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت میں الرٹ ہوں۔
لیکن کیونکہ یہ سب کر کے بھی تم کرتی کیا ہو اور جاہل عورت کے طعنوں نے عورت کو باغی کیا۔

ٹھیک ہے عورت نے اپنا مقام حاصل کر لیا ہر فیلڈ میں وہ اپنے آپ کو منوا رہی ہیں مگر بچے رٔل گئے
اور انہوں نے سسرالیوں کے خلاف احتیاطی بند باندھ لیے کہ ان کے ساتھ نا رہنا ہے نا چلنا ہے۔

ان مسائل کا حل کیا ہے یہ میں اگلی پوسٹ میں تفصیلی ڈسکسس کرتی ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں