0

غزہ میں صحافیوں کی شہادت/تحریر/محمد عزیر گل

غزہ میں صحافیوں کی شہادت/تحریر/محمد عزیر گل

صحافت ہر دور میں معاشرے کی بھلائی ، بہتری اور اس کی ترقی کے لیے کوشش کرتی رہی ہے ، اس کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے ، لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صرف خبریں پہنچاتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ صحافت اپنی مختلف صورتوں میں معاشرے کی فلاح بہبود اور شعور کو پروان چڑھانے ، عمومی رائے کو صاحب اختیار تک پہنچانا ، تاکہ عام لوگوں کو اس سے فائدہ ہو ، سماجی مسائل کی نشاندہی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے ، لیکن یہ بھی سچ ہے ، کہ صحافت ہمیشہ سے ہی مظلوم رہی ہے ، کیونکہ جب بھی کوئی صحافی کسی بھی خبر عوام تک پہنچاتا ہے تو اس کا مقصد صرف عوام میں شعور کو بیدار کرنا ہوتا ہے ، اس لیے وہ اس بات سے بے نیاز ہو کر کہ یہ خبر کسی امیر کی ہے یا غریب کی ، وہ اپنا فرض منصبی ادا کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ بہت مرتبہ اسے اس حق گوئی کی سخت سزا جھیلنی پڑتی ہے ، یہاں تک کے قتل کردیے جاتے ہیں ، جس کے اسباب میں سیاسی انتقام ، کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا ، جنگی جھگڑے ، زندگی کے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ایسے افراد جو شدت پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں ، وہ اپنے نظریہ کے خلاف رائے کو ختم کرنے کے قائل ہوتے ہیں وغیرہ ۔
اگر اس وقت کرہ ارض کے مظلوم ترین خطہ فلسطین کی صرف بات کریں ، وہاں پر 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اگست 2025 تک صحافیوں کی شہادت پر بات کریں تو فلسطین کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 270 صحافیوں کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا ہے ، جس مرد و خواتین دونوں شامل ہیں ، عالمی میڈیا نے یہ تعداد 232 بتائی ہے ، فسطین میں شہید ہونے والے اکثریتی صحافی اور ان کے ٹیم ممبر الجزیرہ کے ساتھ وابستہ تھے ، چند نامور صحافیوں کا تذکرہ جنہیں بے دردی سے شہید کردیا گیا ۔
شیریں ابو عاقلہ
شیریں فلسطین کی مشہور اور بڑے صحافیوں میں شمار ہونے والی صحافی تھیں ، کیونکہ یہ گزشتہ کئی سالوں سے فلسطین میں رپورٹنگ کر رہی تھیں ، یہ الجزیرہ کے ساتھ وابستہ تھیں ، 11 مئی 2022 کو فلسطین کے مغربی کنارے جنین کیمپ میں اسرائیلی غاصب فوج چھاپہ مار رہی تھی ، جس کی کوریج شیریں کر رہی تھی ، انہوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی ، اس پر واضح پریس لکھا تھا ، ہمیشہ کی طرح اسرائیلی فوج نے بزدلانہ حرکت کرتے ہوئے شیریں کو سر میں گولی مار کر شہید کر دیا ، جس کے شاہدین کے بیانات اور ویڈیو سے واضح ہو گیا تھا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ تھی ، اس سے صحافتی دنیا میں کافی زیادہ غم و غصہ کی فضا پیدا ہوئی ، پوری دنیا کے صحافتی اداروں نے اس کی مذمت کی ، اقوام متحدہ نے اس قتل کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ، CPJ, IFJ, RSF نے اس قتل کو صحافت کا قتل قرار دیا ، عرب اور یورپی ممالک میں اس قتل کے خلاف احتجاج ہوئے ، کیونکہ شیریں امریکی شہریت بھی رکھتی تھیں ، اس لیے اس وقت کے امریکی صدر جوبائیڈن نے تحقیقات کا اعلان کیا ، لیکن اس پر کبھی کام نہ ہو سکا ، تمام بیانات اور اعلانات صرفی وقتی گرد کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش تھی ، ظلم و سفاکیت کی انتہا کہ شیریں کے جنازے پر اسرائیلی فوج نے لاٹھی چارج کیا ۔
یاسر مرتجی
نوجوان فوٹو گرافر ، جو فلسطینیوں کے چہروں سے بیان ہوتی المناک کہانیاں دنیا کو دکھلانے کا خواہش مند تھا ، غزہ کے ساحل پر ہونے والے احتجاج کی تصویر کشی کر رہا تھا ، بلٹ پروف جیکٹ پہنی تھی ، اس پر واضح پریس بھی لکھا تھا ، لیکن سفاک اسرائیلی گولی کا نشانہ بن گئے ، اور کئی گھنٹوں کی زندگی و موت کی جنگ میں لڑتے آخر 6 اپریل 2018 کو شہید ہوگئے ، یاسر کی شہادت پر اقوام متحدہ اور امریکہ نے بیان بازی کی ، انٹرنیشل صحاتی اداروں نے مذمتی بیان جاری کیے اور قصہ تام ہوا ۔
حسن جمال اصلیح
حسن خوبرو نوجوان تھا ، یہ صحافی ، فوٹو گرافر اور یوٹیوبر تھا ، یہ اکثر فیلڈ میں رہتا اور اسرائیلی بمباری میں زخمی اور شہید ہونے والوں کی لائیو کوریج کرتا تھا ، عالم 24 نیوز کے ساتھ وابستہ تھا ، وہ ہمیشہ براہ راست جنگ کے میدان سے رپورٹنگ کرنے کی کوشش کرتا تھا ، اسی طرح کی ایک ہسپتال کی رپورٹنگ کے دوران فضائی حملے میں 13 مئی 2025 میں شہید ہوگئے ۔مختلف صحافتی تنظیموں نے مذمتی بیان جاری کیے ، فلسطینی صحافتی یونین نے اسے ٹارگٹ کلنگ قرار دیا اور عالمی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ۔
انس الشریف
انس جبالیہ کے پناہ کیمپ میں پیدا ہوئے ، اقصی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ڈگری حاصل کی ، بطور فیلڈ جرنلسٹ ، سٹوری ٹیلر تھے ، الجزیرہ عربی کے نوجوان صحافیوں میں مقبول تھے ، 2018 میں فلسطین کے بہترین صحافی کا ایوارڈ حاصل کیا ، 2023 میں ان کو اسرائیلی فوج کی طرف سے براہ راست دھمکی آمیز پیغامات ، فون کالز موصول ہو رہی تھیں ، ان پر الزام لگایا جاتا کہ حماس کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں ، دسمبر 2023 میں والد اسرائیلی درندگی کا شکار ہو گئے ، اقوام متحدہ کے صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کی طرف سے ان کےلیے خطرات پر تشویش کا بارہا اظہار کیا گیا تھا ، انس ایک خیمے میں جہاں پر نیٹ وغیرہ کی سہولت تھی ، جسے صحافتی ضرورت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ، وہاں پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے ، جس پر اسرائیل نے ٹارگٹ حملہ کیا جس میں وہ اپنے چھ ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے ۔ ان کی شہادت کے بعد ایک پیغام وائرل ہوا ، جس میں انہوں نے کہا :اگر آپ یہ الفاظ پڑھ رہے ہیں تو جان لیں کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز دبانے میں کامیاب ہوگیا ۔ میں سچ بولنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا،غزہ کو مت بھولنا اور مجھے بھی اپنی دعاوں میں یاد رکھنا ۔ انس کی شہادت پر اقوام متحدہ ، قطر اور برطانیہ نے مذمتی بیان جاری کیے ، دی گارڈین اور کئی مغربی اخبارات نے انس کے حق اور اسرائیلی جارحیت کے ساتھ مغربی میڈیا کی خاموشی پر سخت تنقید کی ، آئیر لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ انس ان چند بچی ہوئی آوازوں میں سے ایک تھے جو غزوہ کی حقیقت دنیا تک پہنچا رہے تھے ۔
یہ چند صحافیوں کا تعارف ہے ، وگرنہ اگر ہم صحافیوں کے قتل کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو صحافت کو جو ظلم و جبر کا سامنہ ان دو سالوں میں کرنا پڑا ہے ، اس سے پہلے کسی دور میں نہیں رہا ۔ اسرائیل ایک قاتل ، غاصب اور قابض قوم ہے ، جو ہر لمحہ فلسطین میں بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور با صلاحیت نوجوانوں کا قتل عام کر رہا ہے ، جو وہاں رہتے ہوئے ، اس کے ظلم کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کررہے ہیں ، وہ اس آواز کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا چاہتا ہے ، اس لیے عالمی صحافتی تنظیموں اور عالمی رہنماوں سے مطالبہ ہے کہ صرف بیان بازی سے کام نہ لیں ، بلکہ اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اسرائیل جو ایک باولے کتے کی طرح ہر ایک کو نقصان پہنچا رہا ہے ، لگام ڈالی جائے اور اس کے خونی ہاتھوں کو روکا جائے .
غزہ میں صحافیوں کی شہادت/تحریر/محمد عزیر گل
ہم اس وقت فلسطین کے لئے کیا کرسکتے ہیں/تحریر/بشریٰ راجپوت

فلسطین جنگ کی موجودہ صورت حال/تحریر/محمد اویس شاہد
بے حس حکمران اور اہل فلسطین/تحریر/مولانا بلال توصیف/فاضل و مدرس ادارہ علوم اسلامی سترہ میل اسلام آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں