85

کیفیات/از قلم/نورِ بدر

کیفیات بیان نہیں ہو سکتیں۔ کتنی ہی کوشش کر لیں، کیسے ہی لفظ لے آئیں کیفیات کو بیان کرنا ایک کارِ دشوار ہے۔ رات کے کسی پہر پورے چاند پر ایک نظر پڑے اور آپ ٹھہرے کے ٹھہرے رہ جائیں۔ کسی خاموش گوشے میں کسی جھرنے سے بہتے پانی کی بے قراری سے اٹھتا شور دل کو کسی خاص احساس سے دوچار کر دے اور تخیل کو انجان راہوں پہ ڈال دے۔ کسی صحرا میں بے سمت چلتے ہوئے کسی سراب کا پیچھا کرتے، کسی ابر کے آنسوئوں سے اپنے دل کو تر کرتے ہوئے، کسی آگہی کے پل دل پہ اترتی خاموشی کی زباں سنتے ہوئے آپ کس احساس سے دوچار ہوئے یہ عین اسی طرح بتانا جس طرح یہ کیفیت آپ پر وارد ہوئی، ناممکن ہے۔ لفظوں کا پیمانہ بہت محدود ہے اس لیے لفظوں میں کیفیات کو بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے خوشی کے کسی لمحے میں یہ بتانا کہ آپ کتنے خوش ہیں ناممکن سی بات ہے۔ آپ کسی وقت خوش، بہت خوش یا بہت زیادہ خوش ہو سکتے ہیں لیکن کیا خوشی ان تین درجوں سے آگے بھی بیان کی جا سکتی ہے؟ کیا یہ کہہ دینا کہ آپ بے حد خوش ہیں خوشی کے احساس کی وسعتوں کا احاطہ کر سکتا ہے جو آپ کے دل پر طاری ہے؟ کوئی غم میں ہے ایسے میں یہ کہہ دینا کہ آپ اس کے غم میں برابر کے شریک ہیں کیا آپ کو اس کے غم میں شریک کر سکتا ہے؟ کیا لفظوں کی اس بے بسی کا کسی کو اندازہ ہے؟ دل کی بات زباں تک آتے آتے کیا سے کیا ہو جائے اور آپ کا احساس ان کہا، ان سنا رہ جائے تو کیسا بڑا المیہ ہے۔ کیا کسی کے دل و دماغ پر نقب لگائی جا سکتی ہے؟ کیا کوئی ہمارے احساسات پر نقب لگا سکتا ہے؟ کیا کوئی جان سکتا ہے کسی لمحے دل کسی احساس کے تحت کتنی گہرائی سے ڈوب کر ابھرا؟ کوئی ایسا پیمانہ بھی ہے جس سے جذبوں کو ناپا جا سکےدلوں کی گہرائی کو جانچا جا سکے؟ اگر ہم انسان اس بات پر بھی قدرت نہیں رکھتے کہ کسی کیفیت کو بیان کر سکیں تو کیوں نہ اپنے لفظوں کو تیاگ دیں۔ وہ لفظ جو جذبوں کی گہرائی جانچنے سے قاصر ہیں انہیں ترک کر کے کیوں نہ خاموشی کی زباں سنی جائے۔ کیوں نہ خاموشی کو اوڑھا جائے۔ کیا المیہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں لفظوں میں کوئی ایک بھی لفظ ایسا نہیں جو کسی خاص کیفیت کو ویسا ہی بیان کر سکےجیسا کوئی اس کو محسوس کرتا ہے۔ یہ کیفیت ایک بہتا دریا ہے۔ جیسے ایک ہی دریا میں دو بار پتھر نہیں پھینکا جا سکتا ایسے ہی ایک کیفیت کو دو بار محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ لکھنے والا خود پر بیتنے والے واقعات کو دو بار جیتا اور محسوس کرتا ہے۔ ایک بار جب وہ واقعہ رونما ہوا اور دوسری بار جب وہ اسے لکھتا ہے۔ اس کے باوجود دونوں مرتبہ ایک ہی کیفیت کی شدت الگ ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے کیفیت کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ کیفیات کا یہ سیلِ رواں اس روانی سے بہتا ہے کہ آپ ابھی ایک کیفیت کو بیان کرنے کے لیے مناسب لفظ ہی ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں کہ کیفیت بدل جاتی ہے۔ جذبے ٹھہر نہیں سکتے، یہ بہتے رہتے ہیں۔ لفظ ثبت ہو جاتے ہیں ذہن کے پردوں پر، دل کے نہاں خانوں میں۔ زمانے بیت جاتے ہیں مگر لفظوں کے نشان قائم رہتے ہیں جبکہ جذبوں کی کوئی چھاپ، کوئی نشاں نہیں۔ تو کیوں نہ جذبوں کو لفظوں میں قید کرنے کی بجائے انہیں آزاد کر دیا جائے اور ان کے بہاؤ کے ساتھ خود بھی بہا جائے۔۔۔چپ چاپ، بنا کچھ کہے، بنا کچھ سنے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کیفیات کسی نہ کسی صورت اظہار چاہتی ہیں اور انسان کی داخلی کیفیات کا اس کی ظاہری حالت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ بھلے کوئی لفظ ان کو مکمل بیان نہ کر پائیں یہ اپنا آپ ظاہر کرتی ہیں اور انسان کے ظاہر پہ اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ کوئی خوش ہے تو اس کے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہوجاتی ہے اور آنکھوں میں غیر معمولی چمک اس کی خوشی کو ظاہر کرتی ہے۔ کوئی غمگین ہے تو یہی آنکھیں رنگ بدلتی ہیں اور ان میں کسی اداس شام کی تیرگی محسوس ہوتی ہے۔ غصے میں انسان تیوری چڑھائے ہونٹ بھینچتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اداسی میں اس کے ہونٹوں پہ پھیلی ایک پھیکی سی مسکراہٹ اس کی دلی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔ غرض کسی نہ کسی صورت کیفیات انسان کے ظاہر کو متاثر کرتی ہیں۔ نہ صرف آنکھیں اور ہونٹ بلکہ انسان کے مختلف اعضاء حتیٰ کہ سانس کا اتار چڑھاؤ جسم کی جنبش اس اظہار کا سبب بنتی ہے۔ غم بانٹنے سے کم ہوتا ہے، خوشی چھپائے نہیں چھپتی، غصے کو مناسب اظہار نہ ملے تو یہ اندر ہی اندر لاوا بن کر پکتا رہتا ہے جو کسی غیر مناسب مقام پر غیر مناسب طریقے سے پھٹ پڑتا ہے اور اپنے اردگرد بہت سے نفوس کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ مختصر یہ کہ اگرچہ ان کیفیات کی شدت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا مگر کسی نہ کسی طور اظہار کر کے ان کی شدت کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ مگر انتظار ایک ایسی کیفیت ہے جس کی شدت کو اظہار کم نہیں کرتا بلکہ مزید بڑھاتا ہے۔ دیکھا جائے تو انتظار کی کیفیت میں اداس شام کی تیرگی بھی ہے اور پھیکی پڑتی مسکراہٹ بھی۔ اس میں غصے کے زیرِ اثر جسم میں دوڑنے والی کپکپی بھی ہے اور بے بسی کی آہیں بھی، مایوسی کی جھلک بھی ہے اور کسی امید کے احساس سے تیز ہوتی دھڑکن بھی۔ الغرض انتظار قریب قریب تمام کیفیات کا مجموعہ ہے۔ وقت جہاں خوشی کے ولولے کو متوازن کرتا ہے، غم کی تیرگی کو کم کرتا ہے، غصے کی کپکپی کو لگام دیتا ہے وہیں انتظار کو مزید بھڑکاتا ہے۔ انتظار وہ واحد کیفیت ہے جس میں وقت سے متاثر ہونے کی بجائے اسے متاثر کرنے کی اہلیت ہے۔ اگر گھڑی کی سوئیوں کی رفتار اور اس کے ہندسوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو انتظار وقت کی رفتار کو کم کر کے انسان کی بےچینیوں کو بڑھاتا ہے جیسا کہ کسی نے کہا ہے،
“دیکھا نہ ہوگا تو نے مگر انتظار میں
چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ “

اس انتظار میں بنا آگ کے انسان کو جلا ڈالنے کی خوبی بھی پائی جاتی ہے۔ انسان کا روم روم منتظر ہو تو وقت کی روانی میں ایک ٹھہراؤ سا محسوس ہوتا ہے۔ اکثر انتظار تباہ کن حد تک انسانی خلیات کو متاثر کرتا ہے۔ ایک عربی کہاوت ہے،
“الانتظارُ اَشَدُّ من القتل” یا “الانتظارُ اَشَدُّ من الموت” یعنی انتظار ایسی آزمائش ہے کہ انتظار کی گھڑیاں گننے سے مر جانا آسان ہے۔جیسا کہ کسی کہنے والے نے کہا ہے “.The worst part of life is waiting”
یہی وجہ ہے کہ قوی اعصاب کے مالک بھی انتظار کرنا پسند نہیں کرتے۔ مگر ایک حیران کن بات یہ ہے کہ یہی ناپسندیدہ انتظار بہت سوں کی تسکین کا باعث بھی بنتا ہے۔ لوگ دوسروں کو کسی نہ کسی شکل میں انتظار کی بھٹی سے گزار کر راحت پاتے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ مقصد کوئی بھی ہو لوگ اوروں کو انتظار میں رکھ کر ایک بے طرح خوشی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک کسی محفل میں دیر سے جاکر دوسروں کو انتظار کروانا باعثِ عزت ہے تو کچھ سمجھتے ہیں لوگوں میں اپنی اہمیت اجاگر کرنے کا واحد ذریعہ انہیں منتظر رکھنا ہے۔ خاص طور پر اگر کسی کی مدد کرنا مقصود ہو گویا کسی کو لارا لگا کر جسٹ فار فن اسے منتظر رکھنا بہت سوں کی ایک ادا ہے۔ یعنی

یہ انتظار نہ ٹھہرا کوئی بلا ٹھہری
کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری

جبکہ اخلاقی اقدار یہ کہتی ہیں کہ انسان کو اپنے وعدے کا پابند ہونا چاہیے۔ کسی کو ملنے کا کوئی خاص وقت دے رکھا ہے تو لازم ہے آپ مقررہ وقت پہ اپنی تمام سرگرمیاں ترک کر کے پہلے اس سے ملاقات کا اہتمام کیجیے۔ صاحب! اگر واقعی کسی کے کام آنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو بہتر ہے بنا انتظار کروائے جلد از جلد اس کے کام آیا جائے یہ کیا کہ امید کی ایک جھلک دکھلا کر آپ کہیں غائب ہوجائیں کہ
کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
دوسروں کو منتظر رکھنے کو باعثِ شرف سمجھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کبھی کبھی یہ ادا عزت میں کمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ جب آپ وعدہ کر کے اس پہ پورا نہیں اترتے تو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار ٹھہرتے ہیں۔ اسی لیے تو اسلام ایفائے عہد پر بہت زور دیتا ہے۔ صاحبِ اخلاق ہے وہ شخص جو وعدہ کرے تو وقت پہ اسے نبھائے۔ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا نہ ہو سکے۔
کچھ لوگ دوسروں سے جان چھڑانے کے لیے بھی انہیں انتظار کرواتے ہیں۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کسی ناپسندیدہ شخص کو ٹالنے یا اس سے جان چھڑانے کے لیے لوگ بے دھڑک کہہ دیتے ہیں، ‘ابھی مصروف ہوں ہم پھر بات کریں گے’ بہت سے اداروں میں نوکری کی تلاش میں آئے ہوؤں کو لال جھنڈی دکھانے کی غرض سے رٹا رٹایا جملہ ‘ابھی کوئی سیٹ خالی نہیں ہے جیسے ہی سیٹ خالی ہوگی ہم آپ کو کال کریں گے’ کہہ کر بے وجہ انتظار میں رکھا جاتا ہے جس کا نتیجہ فرسٹریشن اور ڈپریشن جیسی خطرناک صورتحال بھی ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ ایسا رویہ منفیت اور عدم اعتمادی کو بھی جنم دیتا ہے جس سے آپس کے تعلقات میں کمزوری واقع ہوتی ہے اور من حیث القوم یکجہتی کے فقدان کا بھی خدشہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ منفی رویہ تیزی سے لوگوں میں سرایت کر رہا ہے جن میں پڑھے لکھے باشعور لوگ بھی شامل ہیں اور نسبتاً کم شعور رکھنے والے بھی۔ ایک وقت آتا ہے جب سامنے والا اس رویے سے تنگ آکر
“آپکا اعتبار کون کرے
روز انتظار کون کرے”
کے مصداق آپ کو اہمیت دینا چھوڑ دیتا ہے
تو میرے دوست تمہاری زبان جہاں تمہارے کردار کی آئینہ دار ہے وہیں تمہارے عزت و وقار کی نگہبان بھی۔ اس لیے اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرو۔ جب وعدہ کرو تو اسے پورا کرو اور اپنے اخلاق کے دائرے کو بڑھاتے ہوئے ایسے منفی رویے کو اپنانے کی بجائے وقت کی اہمیت کو پہچانو تاکہ لوگوں کی نظر میں تمہاری اہمیت بڑھ سکے۔
دوسری جانب اسی انتظار کے حوالے سے ایک اور منفی رویہ دیکھنے میں آتا ہے اور وہ ہے بے صبرا پن اور کسی مثبت معاملے میں بھی انتظار کرنے کی اہلیت کا فقدان۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو انتظار کرنے کے سرے سے عادی ہی نہیں اور اپنے بے صبرے پن کے باعث جابجا ناکامیوں اور نامرادیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ انتظار جو ایک طرف موت سے بھی شدید تر ہے، اپنے ساتھ ایک مثبت پہلو بھی لاتا ہے۔ اس میں لوگوں کو منظم بنانے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ یہ انسان کو باوقار بناتا ہے اور جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے جیسے بہت سے معاملات میں اپنی باری کا انتظار کرنا آپ کو نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ کھانے کی میز پر دوسروں کو پہلے کھانا نکالنے کا موقع دے کر خود انتظار کرنا قربانی کا سبق سکھاتا ہے اور انسان کو دوسروں کے قریب لاتا ہے۔ Woodrow Wilson کہتا ہے
All things come to him who waits provided he knows what he is waiting for.
زندگی کے بہت سے معاملات میں انتظار بہترین نتائج کا ضامن ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کھانا پکاتے وقت اسے مناسب آنچ پر مناسب وقت تک بھوننا ہی لذت کا اصل راز ہے۔ لیکن بے صبرے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھنائی کا انتظار نہ کرنا کھانے کے ذائقے اور معیار کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ فصل کے تیار ہونے اور پھلوں کے پکنے کے لیے ایک مخصوص وقت درکار ہے۔ وقت سے پہلے کاٹی گئی فصل غیر معیاری اور پھل بے ذائقہ ہوتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ انتظار کا دوسرا نام صبر ہے اور صبر کا پھل میٹھا ہی پایا گیا ہے۔ اسی طرح زندگی کے بیشتر معاملات میں ہم انتظار کرنے کی بجائے فوری نتائج چاہتے ہیں جو کہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظار کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے مناسب رویہ اختیار کیا جائے تاکہ انتظار کی اس ناپسندیدہ کیفیت سے مثبت نتائج کشید کیے جاسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں