0

نثر کا امام ، امام الہند بھی /تحریر/ مالک تمیمی

نثر کا امام ، امام الہند بھی/تحریر/مالک تمیمی

میں نے اپنی شعوری عمر میں امام الہند کی جو پہلی کتاب پڑھی وہ غبار خاطر تھی …… کلام کی نزاکتوں ، نثر کی گہرائیوں اور الفاظ کی رعنائیوں سے ناواقفیت کے باوجود مکمل غبار خاطر پڑھ لی ….. کچھ سمجھ آئی کچھ اوپر سے اڑ گئی ……. یہ کم و بیش بھی 9 سال پہلے کا قصہ ہے ……
یہ پہلا حملہ عشق تھا جو ابو الکلام آزاد کے الفاظ نے کیا…… اردو پڑھنے والا ہر قاری امام الہند کو پڑھے بغیر یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ اس نے اردو پڑھنے کا ذوق پا لیا ہے …… غبار خاطر تو مکرر و سہ کرر بالاستیعاب اور کئی مرتبہ چیدہ چیدہ خطوط پڑھے….. کسی وقت میں تو غبار خاطر کے جملے زبان پر جاری رہنے لگے تھے …… پھر تذکرہ ، تحریک آزادی ، ترجمان القرآن ، انسانیت موت کے دہانے پر ، انڈیا ونس فریڈم اور چنیدہ مضامین الہلال کے پڑھے ….. مزید مارا مارا پھرتا ہوں کہیں سے الہلال کے تمام شمارے میسر آجائیں …… بہت کم لوگ جانتے ہیں یہ کلام کا باپ صرف نثر ہی نہیں نظم میں بھی بے مثال ہے……
آخر کیا ہے اس نثر میں ؟ کیوں پڑھتے ہیں بار بار ؟ آخر ان کو پڑھنے کے بعد کسی دوسری اردو کی کتاب یا کسی دوسرے ادیب کی نثر پھیکی کیوں لگتی ہے؟؟ یہ شاید بیان کرنا سب سے مشکل کام ہے…… کوئی ایک خصوصیت ہو تو بیان ہو…… کوئی ایک کمال ہو تو بیان ہو…..
کون ہے جو دل کا حال لکھنے بیٹھے تو غبار خاطر کے نام سے مجموعہ ترتیب دے …… مگر ہر ہر خط کے آخر میں ظاہراً یا پس لفظ یہ شکوہ چھوڑ جائے کہ ابھی داستان باقی تھی ، ورق ختم ، وقت ختم یا لکھنے کا وعدہ فردا …..
کون ہے جو عزیمت پر قلم اٹھائے تو کہتا ہے ” رخصت و عزیمت کی تفریق اور اعلی و ادنی کا امتیاز اصحاب عمل کے لیے ہے نہ اصحاب عشق کے لیے ، عشق کی راہ ایک ہی ہے اور اس میں جو کچھ ہے عزیمت ہی عزیمت ہے ، ضعف و بیچارگی کا تو ذکر ہی کیا ، وہاں رخصت کا نام لینا بھی کم از معصیت نہیں ۔ کما قال بعض المحبین العارفین…..
ملت عشق از ہمہ دیں ہا جدا است
عاشقاں را مذہب و ملت خدا است “

امام الہند کا حافظہ کمال کا ہے….. برصغیر میں چند لوگ ہی اس پائے کے ہوئے ہیں جو اس قدر قوی الحافظہ اور دقیق النظر تھے…… تحریر لکھتے لکھتے اشعار کا برمحل استعمال کوئی آزاد سے سیکھے …… کیا فارسی کیا اردو اور کیا عربی …. اشعار کے دیوان ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہیں اور جہاں جس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اشارے سے درمیان میں فٹ بیٹھنے کا کہہ دیتے ہیں اور انگشتری کے نگینے کی طرح کامل کر دیتے ہیں ……

تقلید شخصی کی بندشوں کو توڑ کر جو اجتہادی شان پیدا کرنے کا ولولہ امام الہند دیتے ہیں کسی دوسرے کے ہاں نہیں ملتا ، حریت کی ایسی روح پھونکتے ہیں کہ دل و دماغ کا تمام جمود کھرچ دیتے ہیں …… بند دلوں میں سوختگی و حرارت کا سامان بہم مہیا کرتے ہیں تو کچھ یوں لکھتے ہیں … ” بڑوں بڑوں کا عذر یہ ہوتا ہے وقت ساتھ نہیں دیتا اور سر و سامان و اسباب کار فراہم نہیں لیکن وقت کا عازم و فاتح اٹھتا ہے اور کہتا اگر وقت ساتھ نہیں دیتا تو میں اس کو ساتھ لوں گا ، اگر سر و سامان مہیا نہیں تو میں اپنے ہاتھوں سے تیار کر لوں گا ، اگر زمین موافق نہیں تو آسمان کو اترنا چاہیے ، اگر آدمی نہیں ملتے تو فرشتوں کو ساتھ دینا چاہیے ، اگر انسانوں کی زبانی گونگی ہو گئی ہیں تو پتھروں کو چیخنا چاہیے …..“

پڑھتے جائیں اور بہتے جائیں جیسے کسی مادر زاد کالے جادو گر کے ماہر نے اپنے خاص جادو کے ذریعے قاری کو جکڑ لیا ہو…… اب نہ چیں ہے نہ چناں ہے اب تو امام الہند کی نثر ہے اور تم ہو اور علوم و معرفت و وجدان کا آسمان ہے…….

یہ کلام کا باپ جب مروجہ مولویانہ ذہنیت پر نقد کرتا ہے تو بڑے بڑوں کی دستاروں کی تاریں کھولتا ہے اور حقیقتیں عیاں کرتا ہے اب دیکھیے نا لکھتے ہیں ” اصل یہ ہے کہ علمائے دنیا کو فقرائے حق کی اذیت و مخالف کے لیے ہر عہد میں کسی نہ کسی آلہ تضلیل و حیلہ قتل کی تلاش رہتی ہے اور وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال ہی لیتے ہیں ، پھر جہاں کسی کو راہ حق و اصلاح میں سرگرم اور اپنی نفس پرستیوں کی راہ میں مخل دیکھا ، جھٹ وہی الزام اس کے سر تھوپ دیا اور عوام و حکومت دونوں کا فتنہ اس کے پیچھے لگا دیا ، ہر زمانے کے حالات اور عوام کے میلان و عقائد کے مطابق یہ آلہ بھی ڈھلتا رہتا ہے ، اور گوہیا بدلتے رہے ، لیکن کاٹ سب کی یکساں رہی……“

صرف یہی نہیں مزید سنیے… خود ہی اپنی اس بات کا حاشیہ لگاتے ہوئے جو لکھتے ہیں وہ کتنی بڑی اور سچی چوٹ ہے……. ” بڑی جلن ان لوگوں کو اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم شریعت کے مالک ہیں ، جب تک مسئلہ نہ بتلائیں نہ کسی کا غسل ٹھیک ہو اور نہ وضو ، پھر کیا ہے کہ دنیا ہمیں چھوڑ کر دوسروں کی طرف جاتی ہے؟ ہم نے بھیک کی روٹیاں … الخ ( مزید نقل کرنے سے قاصر ہوں ، ”تذکرہ“ میں صفحہ 297 ملاحظہ فرمائیں ، ساڑھے چودہ طبق روشن ہوں گے)

ممکن ہے یہ باتیں ہماری فہم نارسائی پر گراں گزریں لیکن اصل حقیقت اس سے بھی بلند تر ہے…… علمائے سوء اور علمائے دنیا اور طالبان شہرت و نمود و حشم و جاہ پر جو تازیانے مولانا سندھی کے علاوہ امام الہند نے برسائے ہیں وہ در حقیقت اصلاح کا رخ دیتے ہیں ….
مختصر کہوں گا…. میری کیا مجال کہ امام الہند پر تبصرہ کروں یا کسی کو مشورہ دوں …. ایک طالب علم ہو کر کہتا ہوں…. اگر نظریات ٹٹولنے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر فراست چاہتے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر علم کی راہ چننی ہے تو آزاد کو پڑھیں ، اگر آزادی محسوس کرنا چاہتے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر حریت پسندی کا جنون ہے تو آزاد کو پڑھیں ، اگر ادب پڑھنا چاہتے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر وسعت مطالعہ چاہتے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر وسعت نظری چاہتے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر فرسودہ نظام سے نکلنا چاہتے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر علمائے حق اور علمائے سوء کا بین فرق جاننا ہے تو آزاد کو پڑھیں ، اگر ذوق کو مہمیز لگانی ہے تو آزاد کو پڑھیں ، اگر حق گوئی کا ہنر چاہتے ہیں تو آزاد کو پڑھیں ، اگر چشم کشا چاہیے تو آزاد کو پڑھیں اور اگر کسی کو پڑھنے کا شوق ہے آزاد کو پڑھے …….

کیونکہ یہ عبقری دماغ اپنی حیات کا قصہ لکھتا ہے تو کہتا ہے ” جتنی گزر چکی ہے گردن موڑ کر دیکھتا ہوں تو ایک نمود غبار سے زیادہ نہیں اور جو کچھ سامنے ہے وہ بھی جلوہ سراب سے زیادہ نظر نہیں آتا ، قلم درماندہ تذکرہ و نگارش عاجز اور فکر گم گشتہ حیرانِ اظہار و تعبیر ، اپنی سرگزشت و روئداد لکھوں تو کیا لکھوں ؟ ایک نمود بے غبار و جلوہ سراب کی تاریخ حیات قلم بند ہو تو کیوں کر ہو ؟ دریا میں حباب تیرتے ہیں ، ہوا میں غبار اڑتا ہے ، طوفان نے درخت گرا دیے ، سیلاب نے عمارتیں بہا دیں ، عنکبوت نے اپنی پوری زندگی تعمیر میں بسر کر دی ، خرمن و برق کا معاملہ ، آتش و خس کا افسانہ ، ان سب کی سرگزشتیں لکھی جا سکتی ہیں تو لکھ لیجیے میری پوری سوانح عمری بھی انہی میں مل جائے گی ، نصف افسانہ امید اور نصف ماتم یاس..!!! پہلے مجسم امید تھا اب سر تا سر حسرت ہوں ،
مختصر حال چشم و دل یہ ہے
اس کو آرام ، اس کو خواب نہیں

گزشتہ کل 17 اگست اس عظیم دماغ عالی انسان کا یوم وفات تھا…. یہ چند سطور اور اقتباسات ان کے نام ہیں اور چند مرثیہ اشعار جو اس محسن کی وفات پر شورش نے کہے تھے…..
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبین نہیں ہے
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

اگرچہ حالات کا سفینہ اسیرِ گرداب ہو چکا ہے
اگرچہ منجدھار کے تھپیڑوں سے قافلہ ہوش کھو چکا ہے
اگرچہ قدرت کا ایک شاہکار آخری نیند سو چکا ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں