اہلِ ادب! قوم کا فکری سرمایہ/تحریر/حفیظ چودھریادب کسی قوم کی روح ہوتا ہے اور اہلِ ادب اس روح کے محافظ۔ ایک مہذب معاشرہ انہی افراد کے قلم سے جنم لیتا ہے جو نہ صرف الفاظ کو نبضِ وقت سے ہم آہنگ کرتے ہیں بلکہ اپنے قلم سے تاریخ کو رخ دیتے ہیں۔ ایسے ہی اہلِ قلم ہماری قومی پہچان اور فکری اساس کا سرمایہ ہیں۔
مجھے ہمیشہ سے ادیبوں سے عقیدت رہی ہے۔ ادب سے محبت مجھے ورثے میں ملی۔ میرے والدِ محترم مفکرِ اسلام، خطیبِ بے مثال، حضرت مولانا اللہ وسایا قاسم رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف منبر و محراب کے سپہ سالار تھے بلکہ ایک پختہ ادیب بھی تھے۔ 1987ء سے 2003ء تک ملک کے معروف قومی اخبارات میں ان کے مضامین اور کالمز ایک فکری مشعل کی مانند شائع ہوتے رہے۔
آج بھی جب قلم اٹھاتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ والدِ محترم کی فکر میرے قلم میں سانس لیتی ہے۔ اسی نسبت کے تسلسل میں، مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ “آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن” کی جانب سے دیا جانے والا “شانِ پاکستان ایوارڈ” میں اپنی پوری ٹیم اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان کے نام کرتا ہوں، جو اہلِ قلم کی بیداری اور تربیت کے مشن پر رواں دواں ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی نامور ادبی ہستیوں کی طرف سے اعزاز و ایوارڈ سے نوازنا میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ معروف شاعر محترم جناب شہزاد نیئر صاحب، معروف استاد و کالم نگار محترم جناب ناصر بشیر صاحب اور صدارتی ایوارڈ یافتہ مصنف محترم جناب مشرف انجم صاحب جیسے معتبر ناموں کی موجودگی میں یہ لمحہ میرے لیے ناقابلِ فراموش بن گیا۔
یہ ایوارڈ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ اس فکری جدوجہد کا اعتراف ہے جو “اسلامک رائٹرز موومنٹ” نے ملک بھر میں ادب، دین اور نظریۂ پاکستان کے فروغ کے لیے کی۔ ہم سب اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ایک ایسی سوچ کی بنیاد رکھ چکے ہیں جو نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ بنے گی۔
آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ساری ٹیم بالخصوص ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، عابدہ نذر، توصیف ملک و دیگر کیلئے نیک خواہشات و خصوصی دعائیں۔
دعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے، اور ہمارا قلم ہمیشہ ملتِ اسلامیہ کے وقار، اتحاد اور نظریاتی بیداری کے لیے وقف رہے۔