88

محبت اور احترام سعید/تحریر/ مسعود ساوند

ہم اور آپ ایک ہوسکتے ہیں، مگر احترام شرط ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان محبت ہوسکتی ہے، مگر محبت کا ہاتھ بڑھانا شرط ہے۔ یہ دو چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جو آپس کے تعلقات میں کافی گہرا اثر رکھتی ہیں۔ جہاں بڑے بھائی کی جانب سے احترام ہوتا ہے، وہاں چھوٹا بھائی محبت سے بھی نوازتا ہے، جہاں چھوٹا بھائی ادب کا لحاظ رکھتا ہے، وہاں بڑے کی طرف سے محبت کا اظہار بھی غیر معمولی ہوتا ہے۔ آپ کا گمان ہے ، چونکہ میں بڑا ہوں، تو فقط میرا ہی احترام کیا جائے، تو بھائی یہ گمان، گمان ہی کی حد تک رہے گا حقیقت کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔میرے سامنے ایک دوست نے، اپنے چھوٹے بھائی کی شکایت رکھی: سعید بھائی! یہ میرا احترام نہیں کرتے۔ ابھی اس کی بات مکمل ہی نہیں ہوئی تھی۔ چھوٹے نے بیچ میں جواب دیا: سعید بھائی! آپ خود ہی بتائیں جب یہ موصوف مجھے مارتے پیٹتے رہیں گے،ہر چھوٹی بات پر اپنا ہاتھ صاف کرتے رہیں گے، تو میں کیوں اس کا احترام کروں گا؟ بات تو اس کی ٹھیک تھی، جو ایک سبق دے گئی۔حضرت والد ماجد دامت برکاتہم العالیہ ہر مرتبہ مجھے بھائیوں کے متعلق سمجھاتے ہیں، کہ یہ آپ کے چھوٹے بھائی ہیں، ان سے بھائیوں کی طرح رویہ اختیار کیا کریں، والد بننے کی کوشش کبھی نہیں کرنا۔ الحمد للّٰہ اس نصیحت پر عمل کرنے کا اتنا فائدہ ہوا، کہ آج جب ہم سب بھائی، مدرسے سے واپس گھر آتے ہیں، تو ایک رونق سی ہوتی ہے، ایک دوسرے کا احترام تو ہوتا ہی ہے، بس اس دوران جو مزاح کا سلسلہ ہوتا ہے، کیا ہی خوب ہوتا ہے۔ والد صاحب بھی ہمارے مزاح سے خوش ہوتے ہیں۔دیکھیں!! احترام کا مطلب یہ نہیں، کہ ہر جگہ پہلے آپ، پہلے آپ، لگائے رکھیں۔ بلکہ اپنے چھوئے بھائیوں کا ان دوستوں کے سامنے احترام کریں۔ کسی عام مجلس میں چھوٹے کو ذلیل نہ کریں، ان سے برا برتاؤ نہ کریں تو چھوٹا بھائی خود ہی آپ کا احترام کرے گا۔ اسی طرح آپ اپنے گھر کے ماحول کو بھی خوش گوار بنا سکتے ہیں۔ کیوں کہ خوشگوار ماحول تب ہی پروان چڑھتا ہے، جب جانبین سے محبت اور احترام کا تعلق ہو۔ اس کے بغیر مکتب ہو، یا گھر یا کچھ اور آخر اجڑ ہی جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں