0

عنوان : احساس ذمہ داری صنف : اطفال کہانی تحریر /مہر ہمیش گل

/تحریر/مہر ہمیش گل
تحریر/مہر ہمیش گل

ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں ایک ننھا سا لڑکا رہتا تھا، اس کا نام عمران تھا۔ عمران کی عمر 15 سال تھی اور وہ اٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ عمران کے والد ایک چھوٹی سی کریانہ اسٹور چلاتے تھے جہاں وہ روز سامان بیچتے تھے۔ ایک دن عمران کے والد نے اسے کہا، “بیٹا، میں آپ کو کریانہ اسٹور کا کام سونپ رہا ہوں، آپ کو یہ کام ذمہ داری کے ساتھ کرنا ہوگا ہوگا۔”
عمران نے والد کی بات مان لی،جیسے ہی دن ہُوا عمران سکول کے لیے اٹھا اور نماز پڑ هنے کے بعد سکول کی تیاری میں مصروف ہو گیا جیسے ہی عمران سکول سے واپس آیا، تو کھیلنے چلا گیا آتے آتے شام ہو گئی، جب کہ کریانہ اسٹور کے گاہک انتظارِ کر کے واپس چلے گئے۔عمران کے والد نے عمران سے پوچھا بیٹا آپ کو میں نے کام دیا تھا، آپ کی اس نادانی کی وجہ سے مجھے کس قدر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، عمران کی آنکھیں نم ہو گئی، اور شرم سے سر جھکا لیا عمران نے والد سے کہا، “ابو جی، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ میں سکول سے آ کر کھیلنے چلا گیا اور اسٹور کی ذمہ داری کو بھول گیا۔”
والد نے عمران کو دیکھا اور کہا، “بیٹا، میں نے آپ کو یہ کام اس لیے دیا تھا تکہ آپ اپنے فری وقت کو بہتر طریقے سےاستعمال کر سکو اور ذمہ داری کا احساس سیکھ سکو۔ آج آپ کی غلطی کی وجہ سے ہمارے گاہک چلے گئے ہیں اور ہمارا بہت نقصان ہوا ہے۔”
عمران نے والد سے وعدہ کیا، “ابو جی، میں دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔ میں اسٹور کی ذمہ داری کو پوری طرح سے نبھاؤں گا۔”
والد نے عمران کی بات مان لی اور کہا، “ٹھیک ہے بیٹا، میں آپ کو ایک اور موقع دیتا ہوں۔ کل سے آپ اپنے فری وقت میں اسٹور کی ذمہ داری سنبھالو گے۔”
عمران بہت خوش ہوا، عمران نے والد کی بات پر عمل کیا اور اگلے دن سے اسٹور کی ذمہ داری کو پوری طرح سے نبھانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد عمران نے کبھی بھی اپنی کسی ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کیا۔ عمران کے والد نے کہا بیٹا میں آپ پر فخر محسوس کرتا ہوں، آپ نے اپنی غلطی سے سبق سیکھا اور اپنی زمہ داری کو اچھے طریقے سے سرِ انجام دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں