0

مکہ مکرمہ خواب سے حقیقت تک کا سفر /تحریر/محمد مدثر دلشاد

“مکہ مکرمہ” خواب سے حقیقت تک کا سفر
محمد مدثر دلشاد/فکر فردا
۴ستمبر ۲۰۲۵ بروز جمعرات عشبء کے بعد نیند کررہا تھا کہ گیارہ بجے فون کال نے نیند سے جھنجھوڑا ۔ نیند سے اَٹی آنکھیں ملتے ہوۓ چارپائ ٹٹولتے ہوے ہاتھ موبائل تک پہنچے اور کال اٹینڈ کی تو آگے سے آواز گونجی کہ” آپ کا عمرہ ویزہ آگیا ہے مبارک ہو” ان الفاظ کا کان کے پردے سے ٹکرانا ہی تھا کہ نیند کوسوں دور بھاگ گئ، بے یقینی سے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں، آنکھوں کے سوتے بہنے لگے روح پر سکون کی بارش ہونے لگی اور آخر خواب سے حقیقت کا سفر آنکھوں کے سامنے جگمگانے لگا۔ شائد ہی کوی مسلمان ہو جس کا دل بیت اللہ کے لیۓ نہ تڑپتا ہو، کم ہی ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل میں مدینہ کی گلیوں کے سہانے موسم کو دیکھنے کی تمنائیں انگڑائیں نہ لیتی ہوں، دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے ہر مسلمان کا سب سے بڑا خواب یہی ہوتا ہے کہ وہ حرمین شریفین کی زیارت سے اپنے دل کو قرار بخشے اور جس کی یہ آرزو حقیقت کا روپ دھارنے والی ہو تو اس کی آنکھوں سے آنسو کیوں نہ جاری ہوں ، اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب کیوں نہ ہو۔جس دن ویزہ یا ٹکٹ ہاتھ میں آتا ہے، گویا انسان کی دنیا ہی بدل جاتی ہے۔ قدم وہیں ہوتے ہیں مگر دل پرواز کر کے خانہ کعبہ کے طواف میں مصروف ہوجاتا ہے۔ رختِ سفر باندھتے وقت ہر دھاگہ، ہر کپڑا، ہر کاغذ ایک یادگار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آنکھوں میں خواب، دل میں دعائیں اور لبوں پر لبیک کی سرگوشیاں جنم لینے لگتی ہیں۔
راستے کی تھکن بھی اس لمحے عبادت محسوس ہوتی ہے۔ جہاز کا ہر لمحہ، زمین و فضا کی ہر جنبش بندے کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے رب کے در کی طرف جا رہا ہے۔ یہ سفر بہت مبارک ہے یہ سفر ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا اور نہ ہر سفر کرنے والا نصیب والا ہوتا ہے۔ کسی کو اللہ اپنی محبت میں بلاتا ہے کسی کو ہدایت سے نوازنے کے لیۓ اپنے در کی حاضری کی توفیق دیتا ہے اور کسی پہ اپنی حجت تام کرنے کے لیۓ۔
یہ بیت اللہ کا شوقین آٹھ ستمبر کی پو پھٹنے سے پہلے اس مبارک سرزمین پر اتر چکا تھا ، دل و دماغ میں بیت اللہ کی سوچ تھی نہ دوری کا ڈر نہ اجنبیت کا خوف نہ وسوسے ، مسلسل سفر کے باوجود قدم تھے کہ بیت اللہ کی طرف ہی اٹھ رہے تھے اور جب کنگ فہد دروازے سے داخلے کی راہداری ملی تو سانسیں بے قابو ہونے لگیں پلکیں جھکاۓ قدم بڑھتے گۓ اور پھر اچانک سیاہ غلاف میں لپٹے کعبہ پہ نظر پڑی تو ایک لمحہ اپنی ہی آنکھوں پہ یقین نہ آیا اپنے آپ کو ٹٹولا کیا میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔ کعبہ کے جلال پہ نظر پڑتے ہی زبان گنگ ہو گئ ، قدم مقید ہو گۓ آنکھیں اشکبار اور روح سکون سے لبریز ہو گئ اور ہاتھ اٹھ گۓ اور پھر کتنی دیر قدم اٹھنا بھول گۓ اور کھڑے کھڑے آنسو جی بھر کر رقص بسمل کرتے ہوے آنکھوں سے نکلتے رہے نہ دعا یاد رہی نہ فریاد پس دل کی دھڑکنیں لبیک کی صداؤں سے ہم آہنگ ہو گئیں۔۔ عجیب ہے نہ یہ !! کتنا مسرت و لطف والا مقام ہے ۔ سفید احرام میں لپٹے نہ شوخی نہ اکڑ نہ مہنگے کپڑے نہ مہنگے جوتے بس ایک ہی صدا اور جب سیاہ غلاف میں لپٹے اور فرشتوں کے حصار میں گِھرے کعپے کا دیوانہ وار طواف ہو اور اسی اثناء دل کے دروازے کھلیں اور یہ بات یاد آۓ کہ اسی بیت اللہ کے گرد اسی جگہ اسی مقام پہ سرور کونین پھرتے تھے انہی گلیوں میں محمد عربی چلتے پھرتے تھے اسی ساۓ میں محمد مجتبی بیٹھتے تھے تو کیفیت ہی بدل جاتی ہے انگ انگ جھومنے لگتا ہے اور پھر فضل الہی کا اندازہ ہوتا ہے کہ اتنی خطاؤں کے باوجود اس نے اتنے بڑے شرف سے نوازا۔ اسی جگہ ابوبکر و عمر پھرتے تھے، اسی جگہ دین اسلام کی ترویج کے لیۓ صحابہ کا مقدس گلدستہ یہاں بیٹھ کر مذاکرے کرتا تھا۔تو طواف کا حرم میں چلنے پھرنے کا نمازیں ادا کرنے کا لطف ہی دوبالا ہوجاتا ہے۔ اللہ بار بار ہمیں اپنے گھر کی حاضری نصیب فرماۓ اور حج و عمرہ کے مقدس سفر کے لیۓ قبول فرماۓ یقینا اس سے بڑھ کر کوی اور سفر نہیں ہو سکتا۔۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یعنی ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے۔
آپ ﷺ نے ایک صحابیہ سے فرمایا:
“عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یعنی رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے:
“الْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللَّهِ، إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ، وَإِنِ اسْتَغْفَرُوهُ غَفَرَ لَهُمْ”
(سنن ابن ماجہ)
یعنی حاجی اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں، اگر دعا کریں تو اللہ قبول کرتا ہے اور اگر مغفرت چاہیں تو معاف فرماتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ”
(ترمذی، نسائی)
یعنی حج اور عمرہ پے در پے کرو، یہ فقر اور گناہوں کو ایسے مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو مٹا دیتی ہے۔۔۔۔ سبحان۔اللہ! ایسے عظیم فضائل ۔ اے اللہ! یہ سفر جسے تو نے اپنی عنایت سے نصیب فرمایا، اس کو ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بنا دے۔
اے رب کعبہ! ہمیں بیت اللہ کے طواف میں وہی اخلاص عطا کر جو تیرے محبوب ﷺ نے دکھایا۔
ہمارے دلوں کو اپنی محبت اور خوف سے منور کر دے، ہمارے گناہوں کو مٹا دے، ہماری دعاؤں کو قبول کر اور ہمارے سفر کو برکتوں اور رحمتوں سے بھر دے۔اے اللہ اس مبارک سفر کی بدولت ہماری زندگیاں بدل دے۔ ہماری ظاہری و باطنی بیماریاں ختم فرمادۓ ہمیں ایک حقیقی مسلمان بنادے۔
اے اللہ! ہمیں بار بار اس در پر حاضری کی سعادت نصیب فرما، اور ہماری زندگیاں تیرے ذکر اور تیرے دین متین کی خدمت میں گزریں۔
آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں