Mandanam/Episode No.1/Novelist/Safa Khalid 0

من دانم/قسط نمبر1/ناول نگار/صفا خالد

یہ ہےمحبت کی تین کہانیاں ہر کہانی جڑی ہے اک انوکھے بندھن میں۔ ہر عشق پہ جنون طاری ہے۔ ہر محبت میں شدت کا عالم ہے۔ آزربائجیان کی نارمن محبت سے بھر لے گی کیا اپنا دامن۔اک انوکھی محبت کرے گا پیرس کا آیان۔ کبیر کی محبت بنے گی ہر لڑکی کا خواب ۔اور کیا زیان محبت کی راہوں میں ہر حد سے گزر جاۓ گا۔
ناول *من دانم* کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو دل میں عزم لیے ہر حد سے گزر جاتی ہے کیونکہ اسکا محافظ اسے کبھی کمزور نہیں پڑنے دیتا۔ کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جسے محبت کا احساس تب ہوتا جب محبت بچھڑ چکی ہوتی ہے۔ کہانی ہے ایک ایسے انا پرست کی جسکی پہلی محبت اسکا آخری عشق ٹھہرتی ہے۔
“پیش لفظ:-
کچھ جھوٹ کتنے سچے لگتے ہیں نا۔ ہم حقیقت جانتے ہوئے بھی ان سے انکاری نہیں ہو سکتے۔ یا ہونا نہیں چاہتے۔ کبھی کبھی خود کو مغالطے میں بھی رکھ لینا چاہیے۔
اصل سامنے آ جائے تو تو سچ سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ چہرے عیاں ہو جائیں تو سب سے پہلے اپنی کم عقلی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس لیے دھوکے میں رہنا بھی کبھی کبھار مفید ہوتا ہے۔ بشرطیکہ آپ دھوکے دینے والے کے ہاتھ کی کٹ پتلی نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہے کی مالا جپتے جائیں مگر یاد رہے جہاں سب ٹھیک ہوتا ہے وہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ جس تن نے جو جو سہہ رکھا ہو وہی خاکی ان زخموں کے نشانات صحیح سے بتا سکتا ہے کہ کونسا زخم خون رستا ہے اور کونسا انگارے۔ بعض اوقات آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے پر بھی کراہت محسوس نہیں ہوتی۔ اور کئی بار نفیس اور اعلی ظرف چہروں پر بھی غلاظت اور گرد کی تہیں جمی نظر آنے لگتی ہیں۔
“من آنم کہ من دَانَم”
اپنے حال کو بس میں ہی جانتا ہوں کہ میں کیسا ہوں کوئی دوسرا مجھے نہیں سمجھ سکتا۔
یہ کہانی بھی کچھ ایسے ہی کرداروں کا اکٹھ ہے۔ ہر کردار ایک انوکھے راز میں مقید ہے۔ اپنوں کی سازشیں عیاں ہونا بھی کسی سزا سے کم نہیں ہوتا۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے تو بلا شبہ قیامت والے دن ہمارے ہاتھوں میں ہماری نیتیں رکھی جائیں گی۔ اچھی یا بری، ہماری نیت ہی ہمارے کردار کی ضامن ہے۔
آسانیاں پیدا کریں۔ تاکہ آپ کے لیے آسانی پیدا کی جا سکیں۔ خدا آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
صفاخالد
“انتساب۔
ایسے درخشاں چہرے کے نام جو محرومیوں میں قوسِ قزح کے رنگ بھرنا جانتا ہو۔ ایسا ماہر جو لفظوں سے کھیلے اور سحر طاری کر دے۔
صفاخالد

“من دانم۔

“اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا
اگر نہ آئے—–
مگر یہ ممکن ھی کس طرح ھے تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ھستی نہ بھول جائے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ھوا کی لہروں پہ ھاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجگھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئنوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ھوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا
کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو سوچ لینا
کہ ھر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ھوں
تم اپنے ھاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا
کسی نہ دیکھے ھوئے جزیرے پہ رک کے تم کو
صدائیں دوں گا
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو
اس جزیرے پہ بھی اترنا!

*امجد اسلام امجد*

‘آج یونیورسٹی میں معمول سے کچھ زیادہ ہی چہل پہل نظر آ رہی تھی۔ باکو اسٹیٹ یونیورسٹی آذربائیجان کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کا آج کانوکیشن ڈے ہے۔ ہر طرف کالے گاؤن پہنے طلبہ نظر آ رہے تھے جن کے کندھوں پر سرخ چوڑی پٹیاں لگی ہیں۔

۔۔ایما تم پلیز آگے آجاؤ تمہاری ہائٹ ویسے ہی اتنی چھوٹی ہے اوپر سے تم اس ایفل ٹاور جیسے پال کے پیچھے کھڑی ہو گئ ہو۔
کارل DSLR
سے بے ڈھنگی تصویریں بناتے ہوئے بولا ۔

۔۔تمہیں ایما کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ادھر دو کیم۔۔۔۔ہارڈی نے آگے بڑھ کر اس سے کیمرہ چھین لیا۔
کارل منہ بسورتا ہوا ایما کے پاس پہنچا۔مگر ایما کے بلش کرتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کارل نرمی سے مسکرادیا۔

فوٹو سیشن کے بعد وہ سب کینٹین میں پہنچے ہی تھے کہ وہاں کا منظر دیکھ کر سب کے ہوش گم ہو گئے۔
ایک بڑے سے ٹیبل پر بے تحاشا پھول اور گفٹس پڑے تھے۔ سب سٹوڈنٹس حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
اچانک ایرک ہاتھ میں گٹار پکڑے کچھ گنگناتا ہوا ٹیبل کے پاس پہنچا۔
نارِ من نے خوش دلی سے اپنی عزیز از دوست منکشے کو دیکھا۔
منکشے حیرانی کا مجسمہ بنے ایرک کو دیکھ رہی تھی۔
پلیز نارِ من میرا ہاتھ پکڑ لو مجھے لگتا ہے میں بے ہوش ہونے والی ہوں۔۔۔ منکشے نے زور سے نارِمن کے ہاتھ کو دبایا۔

ایرک گانا ختم کرکے منکشے کے عین سامنے کھڑا ہوا۔ اس کے ماتھے پر مہر ثبت کرنے کے بعد اس کے ذرا قریب ہو کر بولا۔
۔۔گریجویشن بہت بہت مبارک ہو میری جان۔
منکشے محبت پاش نظروں سے ایرک کو دیکھ رہی تھی۔
پھر اس نے اس گڑیا جیسی نظر آنے والی لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور سنوارے گۓ ٹیبل کے بالکل سامنے لے آیا۔ وہاں پر موجود سب سے بڑا گفٹ باکس اس کے سامنے کیا۔
وہاں پر موجود تمام کراؤڈ اب باقاعدہ ہوٹنگ شروع کر چکا تھا۔
منکشے نے باکس کو ان ریپ کیا۔ اس میں ایک بڑا سا خوبصورت ٹیڈی بیئر تھا جس کے گلے میں سرخ پٹی مالا کی طرح ڈالی ہوئی تھی۔
دو خوبصورت انگوٹھیاں سرخ پٹی میں جھول رہی تھیں۔
منکشے نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا۔
ایرک نے وہ پٹی ٹیڈی بیئر کی گردن سے اتاری اور منکشے کے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھا۔

ہال میں ایک بار پھر ہوٹنگ کی آواز گونجی۔ آس پاس موجود تمام طلبہ ان دونوں کے گرد گھیرا بنا کر کھڑے ہوگئے۔ بہت سے طلبہ اس سین کو آپنے اپنے موبائل میں کیپچر کر رہے تھے۔

Would you like to spend the rest of your life marrying me.
ایرک کے الفاظ سن کے اب کی بار منکشے کی آنکھیں بھیگ گئ تھیں۔
کراؤڈ say yes
کے نعرے لگا رہا تھا۔
وہ بس اثبات میں سر ہلا پائی تھی۔
محبت آنکھوں کی بینائی چھین لیتی ہے مگر شاید اب کئی بار قوتِ گفتگو بھی چھین لی تھی۔
ایرک نے اسے سرخ پٹی میں موجود انگوٹھی پہنائی۔

۔۔اگر آپ کا دل چاہے تو یہ انگوٹھی آپ مجھے پہنا سکتی ہیں۔۔۔ منکشے اب بھی حیران سی تھی۔ اسے گم سم دیکھ کر ایرک نے آگے کی بات بھی خود ہی کہہ دی۔
ہال میں ہنسنے کی آواز گونجی۔
منکشے نے جھجکتے ہوئے انگوٹھی ایرک کو پہنا دی۔ ایرک نے آگے بڑھ کر اسے باہوں میں لیا۔
پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج رہا تھا۔
اس کے گروپ کے تمام دوست آگے بڑھ کر اس خوبصورت کپل کو مبارکباد دینے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیان پیرس میں اٹیلین طرز کے ریسٹورنٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھا۔
سامنے ٹیبل پر طرح طرح کے لوازمات پڑے تھے۔
تو آخر کار تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ Landmark
سچ میں بہت شاندار بلڈنگ ہے۔۔۔

زیان کا کلاس فیلو ڈینیئل ٹیبلٹ پر ستائیشی نظروں سے بلڈنگ دیکھ رہا تھا۔

البتہ مایئکل آرکیٹیکچرل فرم کو حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

۔۔اس دنیا میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے انسان حاصل نہ کر سکے۔ بس سچی لگن ہونی چاہیے۔ اور ذرا سا دماغ بھی!۔۔۔
زیان کچھ زیادہ ہی پراعتماد تھا۔

۔۔تو تمہیں لگتا ہے کہ تم سب کچھ حاصل کر سکتے ہو۔؟ مایئکل کو شاید اس کا لہجہ پسند نہیں آیا تھا۔

۔۔جی ہاں بالکل۔ میرا بھائی سب کچھ کرسکتا ہے۔ آپ اس کی وِل پاور کو انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کر سکتے۔۔
آیان نے فوراً اپنے بڑے بھائی کی سائیڈ لی۔

۔۔اچھا چلو پھر ایک گیم کھیلتے ہیں۔ اس سے زیان کی وِل پاور بھی ٹیسٹ ہو جائے گی اور ہم انجواۓ بھی کریں گے۔ کیا خیال ہے؟۔۔۔ مائیکل نخوست سے ہنسا۔

‘کیسی گیم؟۔۔۔زیان نے سنجیدگی سے مائیکل کو دیکھا۔

‘وہ سامنے ٹیبل پر ایک لڑکی بیٹھی ہے نا۔ یار وہی جو لیپ ٹاپ پرکچھ کر رہی ہے۔ وہ بلیک سٹریپلیس ڈریس میں۔۔

زیان اور آیان نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔

‘تم اس کے پاس جاؤ گے اور اسے ڈیٹ کرنے کے لیے کہو گے۔۔۔!
مائیکل چیلنجنگ انداز میں مسکرایا۔

۔۔کیا بچپنا ہے یار۔ یہی سب کچھ ہم یونیورسٹی میں کرتے آۓ ہیں۔ کچھ تو نیا کرو۔۔۔
زیان اکتایا کے بولا۔

‘کیوں ڈر گۓ ہو۔ ؟
مایئکل نے ایک بار پھر اسے چیلنج ہے۔

‘ڈرتا تو میرا بھائی کسی کے باپ سے بھی نہیں ہے۔۔۔
آیان میں بھائی کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

‘ٹھیک ہے مگر لڑکیاں اتنی جلدی لائن پر نہیں آتی۔ میں جاؤں گا اس سے بات کروں گا۔ ممکن ہے کہ وہ پہلی بار میں نا مانے۔ لیکن اگر وہ ایک گھنٹے کے اندر اندر دوبارہ مجھ سے ملی تو آج کے بعد تم مجھے دی باس کہہ کے پکارو گے۔

زیان کا لہجہ پھر سے پر اعتماد تھا۔

مائیکل نے اسکی بات تو زرا برابر بھی ترجیع نہ دی تھی

‘مگر میری ایک شرط ہے۔۔۔
زیان نے مائیکل کو انگلی سے قریب آنے اشارہ کیا۔

‘کیا؟
تمہارے فادر پاکستان میں جو پروجیکٹ شروع کرنے والے ہیں اس کا ٹینڈر تم مجھے لے کر دو گے۔۔مایئکل نے حیرانی سے اسے دیکھا۔

ڈینئیل آیان کے ذرا سا قریب ہو کر بولا۔
‘تمہارا بھائی واقعی بزنس دماغ رکھتا ہے۔

ویٹر نے اب تمام پردے ہٹا دیے تھے۔گلاس وال کے پار شام گہری ہوتی دکھائ دے رہی تھی۔ ہوٹل کے باہر سنگی بینچ پہ ایک نو عمر جوڑا بیٹھا دکھائ دے رہا تھا۔

‘ٹھیک ہے۔ لگ گئ شرط! مگر ایک گھنٹہ کچھ زیادہ ہے۔ ہمیں واپس بھی جانا ہے۔ ۔۔
مائیکل اسکے اعتماد سے شاید ڈر گیا تھا۔

‘اس سے کم وقت بھی لگ سکتا ہے۔ اٹ ڈیپینڈز۔ یو نو۔۔۔!

وہ کہتا ہوا کرسی سے اٹھا اور اس لڑکی کی طرف بڑھ گیا۔

‘اب آۓ گا مزا۔
مائیکل زیرے لب بڑبڑایا تھا۔

‘کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔؟ مردانہ بھاری آواز پر لڑکی نے ناسمجھی سے زیان کو دیکھا۔

‘ایم سوری لیکن مجھے بیٹھنا پڑے گا۔ اگر آپ اجازت نہ بھی دیں تو بھی!!۔۔
زیان اس کے بالکل سامنے کرسی پہ بیٹھا۔

لڑکی کچھ دیر اسے نا سمجھی سے دیکھتی رہی۔ پھر بولی
پچھلے ٹیبل پر موجود تین لوگ اس منظر سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

sorry i have a boyfriend. you can see someone else.

لڑکی خاصی اونچی آواز میں بولی تھی۔

اس ہال میں موجود تمام لوگوں نے کچھ برہم سا چہرہ بنا کر زیان کو دیکھا۔ ساتھ والے ٹیبل پہ لڑکیاں اب باقاعدہ اس کی طرف دیکھ کے سر گوشیاں کر رہی تھیں۔

زیان کے دماغ کی رگیں تن گئی۔ وہ غصے سے اس ٹیبل سے اٹھا اور ریسٹورنٹ کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

مائیکل اب شیطانی ہنسی ہنس رہا تھا۔ جبکہ ڈینیل اور آیان پریشان سے زیان کے پیچھے گئے۔
وہ جیسے ہی ریسٹورنٹ سے باہر آئے تو زیان روڈ پار کرکے سامنے بار کے بیرونی دروازے میں داخل ہو گیا۔
ڈینیل نے حیرانی سے دوسرے دو لوگوں کو دیکھا۔ وہ بھی اب حیران نظر آ رہے تھے۔
زیان پیرس میں چار سال رہا تھا۔ اسے بار جانا پسند نہیں تھا۔ اس نے کبھی ڈرنک کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔

پھر آج وہ اس ناپسندیدہ جگہ پر کیا لینے جا رہا ہے۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
Nevcilar street
پر ساحل سمندر کی جھلک ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ باکو سٹی کی یہ سٹریٹ بہت سے سیاحوں کی کشش کا باعث بنتی رہتی ہے۔
خاص طور پر ورگو ٹاور،کارپیٹ میوزیم اور تھیٹر آف برائیڈز۔
اسی پر ستائش ایریا میں
Orchard the chain of hotels
آرچرڈ ہوٹل کی خوبصورت عمارت بھی موجود ہے۔ اس ہوٹل پر پہلی نظر پڑتے ہی کسی قلعے کا گمان ہوتا ہے۔ ہوٹل کی دیواریں نیلے اور سفید رنگ کی ٹائلوں کا امتزاج ہیں۔

بارش کے بعد آج باکو شہر کا موسم اور بھی نکھر گیا تھا۔ ہوٹل میں معمول سے زیادہ رش نظر آ رہا تھا۔ ایسے ہوٹل میں عموما اپر الیٹ کلاس لوگ ہی پائے جاتے ہیں۔

اس ہوٹل کے چوتھے فلور پر ایک آفس نما کمرے کا ماحول کچھ گھٹن زدہ لگ رہا تھا۔
کمرے میں موجود قیمتی فرنیچر،دیواروں پر نیوی بلیو پینٹ،مشہور مصوروں کی پینٹنگز، لکڑی کے ریک میں بے شمار میڈل اور ٹرافیاں
صدر چیئر کے بالکل سامنے کی پوری دیوار میں نصب شیشہ اس کے مالک کی شخصیت کا پورا آئینہ دکھا رہا تھا۔

‘دیکھو کبیر۔ میں تمہیں پہلے دن سے سب صاف صاف بتا چکا ہوں۔ شک کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔۔۔۔

‘انکل میں شک نہیں کر رہا۔ بس تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ماضی میں جو ہوا اس کا ثبوت ڈھونڈ رہا ہوں بس۔۔۔

‘تم جسے تصدیق کرنا کہتے ہو۔ میرے نزدیک وہ کمزور ہونا ہے۔ تم کمزور پڑ گئے ہو۔ تم اپنے دشمن سے ڈر گئے ہو نا؟۔۔۔۔

بہزاد صاحب نے کبیر کو شہادت کی انگلی دکھائی۔

‘آپ جانتے ہیں میں ڈرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میں اس وقت ایک رسی پر چل رہا ہوں تا کہ اُسی رسی کا دوسرا سرا ڈھونڈ سکوں۔
کبیر کا لہجہ اٹل تھا۔

‘ٹھیک ہے بچے۔کرو جو کرنا ہے۔ مگر یاد رکھنا وہ صرف تمہارا باپ ہی نہیں میرا بڑا بھائی بھی تھا۔

بہزاد صاحب اس سے مزید بحث ترک کر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔

ان کے جانے کے بعد کبیر نے دائیں ہاتھ کی پہلی دو انگلیوں سے اپنی کنپٹی کو مسلا۔ اور دوسرے ہاتھ سے اپنے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کیا۔

جیسے اسے کچھ اچانک سے یاد آیا تھا۔

‘مبارک ہو بہت بہت لڑکی۔ اب تمہارا شمار بھی اس شہر کے پڑھے لکھے لوگوں میں ہوگا۔

نارِمن نے کبیر کالنگ دیکھ کر پہلی گھنٹی پر ہی کال رسیو کر لی تھی۔

‘شکریہ بہت بہت۔ تو پھر میں انٹرویو دینے کب آ سکتی ہوں؟۔

‘تم انٹرویو کے بغیر ہی آپوانٹیڈ ہو لڑکی! بلکہ انکل کو تو لگتا ہے اب تم ان سے پاور آف اٹارنی بھی لے لوں گی۔۔۔

کبیر ایک وجیہ انسان تھا۔ اونچے لمبے قد پر کالے سیاہ بالوں کو جیل سے سیٹ کر کے رکھتا تھا۔ اس کے چہرے کے تیکھے نقوش، سیاہ گھنی آنکھیں، اور ہلکی ہلکی شیو اس کے عکس کو مزید نکھار دیتی تھی۔
اس کی شخصیت میں ایک عجیب ٹھہراؤ تھا۔ بات کرتا تو مقابل کو اس کی شخصیت ایک معمہ لگتی۔

‘ارے نہیں نہیں۔ میرے ایسے کوئی ارادے نہیں ہیں۔ آپ، انکل اور میں ‘آرچڑڈز ‘کے برابر مالک ضرور ہیں۔ مگر اس میں محنت تو سراسر آپ کی اور انکل کی ہی ہے۔

نارِمن کے لہجے میں آج بھی خوشی کا تاثر کم ہی تھا۔ اور کبیر اس کی وجہ اچھے سے جانتا ہے۔

آنٹی کے پاس جاؤ گی۔؟
کبیر نے سنجیدگی سے پوچھا۔

‘جانا تو چاہتی ہوں۔ مگر جا کر کہوں گی کیا۔ وہ مجھے پہچانتی ہی نہیں ہیں اب۔۔

جواب بھی اتنی ہی سنجیدگی سے دیا گیا۔

‘میں دو گھنٹے تک فری ہو جاؤں گا۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں MHI (مینٹل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ) لے جاؤں گا۔

‘ٹھیک ہے۔ شکریہ
وہ اپنی نم آنکھوں کی وجہ سے بس اتنا ہی کہہ پائی۔

‘چلو ٹھیک ہے تم کر لو اپنے کام کمپلیٹ تب تک۔ پھر آتا ہوں میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیان ڈینیئل اور مائیکل تینوں ایک ساتھ بار میں داخل ہوئے۔ معمول کے مطابق اندرونی منظر تاریک تھا مگر جلتی بجتی سرخ ،نیلی، ہری، پیلی روشنیاں وہاں موجود انسانوں کی پہچان کروانے کا کام کر رہی تھی۔
تییز بے ڈھنگا میوزک سماعت کو تکلیف دینے والا تھا۔ ایسے حالات میں بھی وہاں لوگوں کا ایک میلہ سا لگا ہوا تھا۔ کسی کے پیر زمین پر ٹک ہی نہیں رہے تھے۔

ویٹرز مختلف قسم کے ڈرنکس پیش کرنے میں مصروف تھے۔ لڑکیاں منی سکرٹ پہنے ڈروکس سرو کرنے میں مصروف تھیں۔

وہ تینوں لوگوں کی بھیڑ میں سے راستہ بناتے ہوئے زیان کو ڈھونڈ رہے تھے۔

کچھ دیر کی تگ و دو کے بعد آخر میں وہ بار میں لگائے گئے ٹیبلز پے بیٹھا نظر آیا۔

‘زیان تم یہاں کیوں آگئے ہو۔ مائیکل نے بس مذاق کیا تھا۔ تم اس بات کو اتنا ڈیپلی کیسے لے سکتے ہو۔

ڈیئنل اس کے سر پر کھڑا چلا رہا تھا۔ جبکہ مائیکل ان لمحات سے مکمل لطف اندوز ہوتے ہوئے زیان کے عقب میں کرسی پر بیٹھا۔

آیان فکرمندی سے بھائ کو دیکھ رہا تھا۔

اس سے پہلے زیان کچھ بولتا ویٹر نے اسے فروٹ کاکٹیل سرو کیا۔

‘تو تم بار میں بھی بچوں والے جوس پیو گے؟ مایئکل نے پھر سے زہر اگلا۔

‘بس بہت ہو گیا۔۔مایئکل پلیز۔ ایسے کیوں بیہیو کر رہے ہو ہم دوست ہیں۔
ڈیئنیل نے مائیکل کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔

‘ہم دوست ہیں اسی لیے میں اپنے دوستوں کو کمزور نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے اپنے اردگرد بہادر لوگ پسند ہیں۔ نہ کہ ایک لڑکی سے ہار کے بار میں چھپ جانے والے۔
مایئیکل باتیں ادھوری نہیں چھوڑا کرتا تھا۔

‘زیان اس سب معاملے میں چپ رہا۔ فروٹ کاکٹیل گھونٹ گھونٹ اپنے حلق سے اتارتا مسلسل بیرونی دروازے کی طرف نظریں گھاڑے بیٹھا رہا۔ بظاہر پرسکون لگ رہا تھا۔

وہ سب اسے کسی نہ کسی بات میں الجھا رہے تھے۔ مگر وہ ہنوز ادھر ادھر دیکھنے میں مصروف رہا۔

اچانک ایک لڑکی ان کے ٹیبل کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی۔

‘کیا میں بیٹھ سکتی ہوں؟ سوری بٹ مجھے بیٹھنا ہی ہو گا۔
وہ زیان کے بالکل عین سامنے بیٹھی۔ وہی بلیک سٹریپلیس ڈریس والی لڑکی

‘میں ایک سائیکیٹرک ہوں۔ لوگوں کے دماغ پڑھنے اچھے سے جانتی ہوں۔ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ آپ کس مقصد کے تحت میرے پاس آئے ہیں۔ میں اس وقت پہلے ہی کسی پریشانی میں بیٹھی تھی۔ مگر اس کے بعد آپ کا رویہ دیکھ کر مجھے افسوس ہوا۔ سوری۔

وہاں تیز میوزک کی وجہ سے زیان کے زرا قریب ہو کر بول رہی تھی۔
sorry i don’t spend money on girls you can see someone else.!

اس بار زیان کی آواز بھی اتنی ہی بلند تھی۔ آس پاس موجودہ ٹیبلز کے افراد بالخصوص مرد حضرات نے مڑ مڑ کر اس لڑکی کو دیکھا۔

اب کی بار لڑکی کو ٹھیک ٹھاک شرمندگی محسوس ہوئی۔

‘میں ایک بزنس مین ہوں۔ سچویشن دیکھ کر ہی سمجھ جاتا ہوں اسے کور کیسے کرنا ہے۔ بٹ سوری۔!

وہ اپنی کرسی سے اٹھ کے اس لڑکی کے ذرا قریب ہو کر بولا تھا۔
لڑکی اسے دروازے کے پار جاتے دیکھتی رہی اور وہ بنا مڑے بیرونی دروازہ عبور کر گیا تھا۔

‘مجھے ایسے ہی دوست چاہئے تھے ہمیشہ سے۔ مائیکل نے نعرہ لگایا
جب کہ آیان اور ڈینیئل ابھی تک شاک میں تھے۔

مایئکل ایسا ہی تھا۔ دکھنے میں بہت ضدی اور بدتمیز قسم کا انسان لگتا تھا۔ خاص طور پر اس کے آی بروز پرکٹ بالوں میں پونی اور ایک بازو پر مکمل ٹیٹو،
اسے کسی مافیا کا حصہ بتاتےتھے۔مگر وہ ایسا ہی تھا دنیا سے بے گانہ۔

لوگوں کو عجیب عجیب سے چیلنج دینا اس کی ہابی مشغلہ تھا۔ مگر وہ تھا یاروں کا یار!

یونیورسٹی کے چار سال اس نے اپنے مسلم دوست کو مذہبی گروپس کے انتشار سے بچا کر رکھا تھا۔ مگر کبھی زیان کو یہ محسوس نہیں ہونے دیتا تھا۔ کہ زیان اس پہ منحصر ہے۔
اس نے زیان کو نہ صرف بولنا بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا بھی سکھایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیان کا لیسا سکول آف ڈیزائن پیرس میں پہلا دن تھا۔
جب اسے اس کے پروفیسر نے اپنا تعارف کرنے کو کہا۔
وہ نہایت شائستگی سے کھڑا ہوا اور اپنا تعارف دیا۔
میرا نام زیان سفیر ہے۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں چاہتا ہوں میں یہاں سے جو کچھ بھی سیکھوں۔ اس سے اپنے ملک و قوم کو فائدہ دوں۔ بالخصوص میں یہاں کا کلچر اپنے ملک پاکستان میں متعارف کروانا چاہتا ہوں۔

زیان بہت پرجوش نظر آ رہا تھا۔ تبھی اس کے کانوں میں اس کے کلاس فیلو کی آواز پڑی۔
Pakistani! bloody the criminals

اس نے رخ موڑ کر غصے سے ایڈورڈ کو دیکھا۔ مگر اس کے ساتھ چار اور لڑکے اس کا مذاق بنانے میں مصروف تھے۔

تبھی اس کو پروفیسر صاحب نے بیٹھنے کا کہا۔ اور وہ اپنا سر جھٹک کر بیٹھ گیا۔

وہ وہاں نہیتا آیا تھا۔ گروپ سے پنگا نہیں لے سکتا تھا۔ سمجھداری سے کام لیتے ہوئے ان آوازوں کو ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکال دیتا۔
ہاسٹل میں ڈینییل اور مایئکل اس کے روم میٹس تھے۔ مگر ڈینئل سے اس کی زیادہ بنتی تھی۔اور مایئکل ہمیشہ اسے کوئی نہ کوئی چیلنج دیتا رہتا۔

پہلے سمسٹر کے فائنل پیپرز نزدیک تھے۔ ہاسٹل میں نیو ایئر پارٹی بھرپور طریقے سے سیلیبریٹ ہو رہی تھی۔ مایئکل اسے بھی اپنے ساتھ پارٹی میں گھیسٹ لایا۔

وہ اپنے پیپرز کی تیاری میں مصروف تھا۔ ویسے بھی اس قسم کی پارٹیز اسے پسند نہیں تھی۔ وہ ایک مسلم فیملی سے تھا۔ اپنے عقائد و نظریات کا پابند لڑکب تھا۔

مگر مائیکل کے پاس ہزار ایسے بہانے تھے جس سے وہ زیان کو قائل کر لیتا۔

‘تو تم پاکستانی ڈر گئے۔ میں نے تو سنا تھا پاکستانی قوم بہت بہادر ہوتی ہے۔ وقت آنے پر ان کی فوج خود پہ بم لگا کر دشمن کی چوکیوں میں بھی گھس جاتی ہے۔ پھر تم شاید کسی اور پاکستان سے آئے ہو۔ جو محض پانچ لڑکوں سے ہی ڈر گئے۔
زیان چپ رہا

‘چچچچ چچچچ تم اپنے ملک کا نام برباد کرو گے لڑکے۔۔۔!

‘میں ڈرتا نہیں ہوں کسی سے۔ میں سچے مذہب کا پیروکار ہوں۔ میں بہادر قوم کا بہادر سپوت ہوں۔

زیان نے تقریر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جوگرز پہنے جیکٹ اٹھائی۔ اور ان کے ساتھ پارٹی میں جانے کے لئے ریڈی ہو گیا۔

ڈینیل اور مائیکل نے ایک دوسرے کو مسکرا کے دیکھا۔

پارٹی کا اہتمام یونیورسٹی کے قریب ہی کلب نما ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ تقریبا تمام ہی طلباء امتحان کی پرواہ کیے بغیر پارٹی سے لطف اٹھانے پہنچ گئے تھے۔

مائیکل اور ڈینیئل زیان کو باقی جاننے والوں سے متعارف کروا رہے تھے۔ جب سپیکر پر ایک آواز گونجی۔

‘سیکورٹی کے لحاظ سے امپورٹنٹ اناؤنسمینٹ ہونے جا رہی ہے۔دھیان سے سنیں۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ یہاں کوئی کریمینل گھس آیا ہے۔ تمام لوگ چوکنے رہیں۔ کریمنل کی شناخت کرنے والے کو کمیونٹی کی طرف سے شاندار انعام دیا جائے گا۔

تمام طلباء میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی بدنظمی ہوتی ایڈی اور اس کے ساتھ موجود چار لڑکے ڈی جے فلور پہ زور زور سے ہسنے لگے۔

طلباء ان کی شرارت سمجھ کر زیان کی طرف سے جوابی کارروائی کے انتظار میں تھے۔

ہوٹل میں اب پہلے جیسا شور نہیں رہا تھا۔ طلباء کی سرگوشیاں جاری تھیں۔ کچھ طلباء ویڈیو بنا رہے تھے۔

زیان کا چہرہ غصے سے لال ہوا۔ تب ہی مائیکل بولا۔
don’t tell me Zayyan
تم یہاں کسی منصوبے کے تحت آئے ہو۔ مجھے بتاتے۔ میں تمہیں ایفل ٹاور لے جاتا وہاں تو یہاں سے بھی زیادہ رش ہونا ہے۔ تمہیں بہترین موقع مل جاتا فائدہ اٹھانے کا۔

ایڈی گروپ کے ایک ممبر جیسپر نے زیان کی طرف مائیک اچھالا۔ زیان نے اسے فوراً سے پہلے کیچ کیا۔

مایئکل نے اسے مسکرا کے دیکھا۔

‘افسوس ہوا۔ بلکہ انتہائی افسوس ہوا۔ شکر کرتا ہوں کہ یہاں اور پاکستانی موجود نہیں ہے۔ ورنہ ہمارے لوگوں کے تم لوگوں کےمتعلق ایسے نظریات رکھنے پر ہمارے لوگ شرم سے ہی مر جاتے۔

‘کیسے نظریات مسٹر زیان۔؟ ذرا تفصیل سے بتائیں۔

دوسری طرف ایڈی نے اسے مزید بولنے پر اکسایا۔

‘پہلے آپ سب لوگ مجھے بتائیں۔ کیا آپ لوگوں میں سے کسی کوکبھی پاکستان جانے کا اتفاق ہوا ہے؟

وہاں موجود تین چار طلباء نے ہاتھ بلند کیے

‘ٹھیک ہے اب میں جو جو بتانے جا رہا ہوں۔ آپ نے اسکی تصدیق کرنی ہے اگر میں کہیں غلط بیانی سے کام لوں۔
وہ اشارتاً کہتا ہوا پھر بولا۔

‘ہم لوگ بہت سادہ طبیعت لوگ ہیں۔ جو سامنے ہوتا اسے ہی سچ جان لیتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ جان کے بھی رشتے بچانے کے لیےانجان بنے رہتے ہیں۔جب جدید معاشرے کی مثال دینی ہو تو آپ جیسے انگریزوں کی مثال دیتے ہیں۔آپ لوگوں کو ذہین ترقی پسند قوم سمجھا جاتا ہے۔ آپ کہ معاشرے کو تعصبات سے پاک مانتے ہیں۔

پتہ ہے ہمارے ہاں کوئ غیر ملکی آ جاۓ تو رحمت سمجھ کے ایسی مہمان نوازی کرتے ہیں کہ خود کے کھانے کے لیے چاہے کچھ موجود ہو نہ ہو۔

آپ کوئ سواری لے لو کوئ بھی آپ سے پیسے نہیں مانگے گا۔مارکیٹ چلے جاؤ ہر کوئ آپ کو کھانے کی دعوت دے گا۔ آپ بغیر کوئ پیسہ دیے کچھ بھی خرید سکتے ہو۔

کیوں ایسا ہی ہے نا۔؟

اس نے ان دو چار لوگوں سے آی برو اٹھا کے اشارے سے پوچھا۔

انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ پھر بولا۔

‘مگر افسوس آپ جیسے جدید لوگوں کی سوچ بھی بہت ہی چھوٹی ہے۔ آپ لوگ بھی تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

آپ لوگ مہمان نوازی چاہے نہ کریں مگر مہمانون کو کم از کم عزت تو دیں۔ تا کہ مجھ جیسے بھی ان لوگوں کی طرح ‘جو آپ میں سے ہی ہیں’ اپنے ملک جا کے آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔

اس کی آواز کا سحر پورے ہوٹل میں چھایا ہوا تھا۔ ویڑرز بھی خاموش سامعین بنے ہوۓ تھے۔ لڑکیاں اسکی فوٹوز بنانے میں مصروف تھیں۔

‘مجھے چلنا چاہیے اب شکریہ اس عزت افزائ کے لیے۔۔۔۔۔

زیان نے مایئک سامنے ٹیبل پہ رکھا اور وہاں موجود بہت سے نیک دل لوگوں کو اداس چھوڑ کے چلا گیا۔

اگلے دن یونیورسٹی کا ماحول خلافِ معمول بدلا ہوا لگ رہا تھا۔ تمام طلباء اس کے قریب سے گزرتے تو ہائے ہیلو کہتے۔ لڑکیاں اسے بالخصوص مسکرا کے دیکھتیں۔

وہ بلا شبہ ایک خوبصورت شکل والا مرد تھا۔ اس کی کیریمل براؤن آنکھیں مقابل کو اس کی طرف متوجہ کرتی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک سحر تھا۔ لڑکیوں کے گروپ میں وہ ہینڈسم پاکستانی نام سے مشہور ہونے والا تھا۔

کل رات کی پارٹی والی ویڈیوز یونیورسٹی ویب سائٹ پر مرچ مصالحے لگے کمنٹس کے ساتھ موجود تھیں۔
اور سونے پہ سہاگہ

امتحان میں اعلیٰ سکور حاصل کرکے اس نے پروفیسرز میں بھی اپنا ایک مقام بنا لیا تھا۔

ایڈی گروپ بھی بظاہر خاموش نظر آ رہے تھے۔ مگر یہ خاموشی محض چند دن ہی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آذربائجان میں تو جیسے تمام تتلیاں ایک شہزادی کو خوش کرنے کے لیے اکٹھی ہو گئیں تھیں۔ نہ جانے آج وہ اتنی خوش کیوں دکھائی دے رہی تھی۔ جیسے کسی نے اسکی مسکراہٹ کا صدقہ اتارا ہو جیسے کسی نے اسکے گرد قوس قزا پھیلا دی ہو۔

نارمن لان میں لگے پودں سے پھول توڑ کر لا رہی تھی۔ اس نے پھولوں سے بھری چھوٹی سی ٹوکری میز پر رکھی اور گھر کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
کبیر اوپر بالکنی سے اس کے پھول توڑتے ہاتھوں کو کب سے دیکھ رہا تھا۔ اسے پھولوں کا تاج بہت پسند تھا۔ وہ جب پھولوں کا تاج اپنے سیاہ بالوں پہ سجاتی تو دیکھنے والا پلک جھپکنے سے قاصر ہو جاتا تھا۔

وہ اب پھر سے پھولوں میں مگن ہو گئی تھی۔ کبیر بھی پاس پڑی کرسی جیسے پہ فرصت لے کر بیٹھا تھا۔

وہ اب ایک ایک پھول چن کر تاج بنا رہی تھی۔ جیسے ہی تاج مکمل ہوا اس نے اپنے چہرے کو موبائل کے سیلفی کیمرے میں دیکھا اور نزاکت سے پھولوں کا تاج اپنے بالوں پہ سجایا۔

اس نے مسکرا کر دو چار سیلفی بنائی اور ایک ایک تصویر کا جائزہ لینے لگی۔ مگر اپنی تصویر میں موجود کبیر پر نظر پڑتے ہی اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ بالکنی کی طرف دیکھا تھا۔
کبیر نے مسکرا کے ہاتھ ہلا تھا۔ جب کہ وہ شرمندہ سی رخ موڑ دی گئ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیان کو یونیورسٹی کے قریب ہی ایک بڑی لائبریری میں جاب مل گئی تھی۔ اسے پیسے کی ضرورت تو نہیں تھی مگر وہ خود اپنے اخراجات برداشت کرنا چاہ رہا تھا۔ کیونکہ وہاں موجود تقریبا 80 فیصد طلباء اپنے اخراجات خود اٹھاتے تھے۔

وہ لائبریری سے واپس آیا تو سٹوڈنٹس افیئر لیڈر مایئکل کی برتھ ڈے پارٹی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔

ڈینیل مائیکل کو ہاسٹل سے باہر لے گیا تھا تاکہ اس کی برتھ ڈے پارٹی سرپرائز رکھی جا سکے۔ لڑکیاں تھیم ڈریس میں الگ ہی مخلوقلگ رہی تھیں۔

بہت ہی شاندار ماحول میں کیک کاٹا گیا۔
مگر۔۔۔!
اس کیک کےنصیب میں نہیں تھا کسی انسان کے معدے میں اترنا!

ان سب نے مائیکل کا حشر بگاڑ دیا تھا۔ اسے کرسی سے باندھ کر اس پر انڈوں اور پانی والے غباروں کی بارش کی گئی۔

وہ دوبارہ اپنے روم میں آیا اور کپڑے تبدیل کر کر کے واپس پہنچا۔ مگر واپسی پر پارٹی کا ماحول بدل گیا تھا۔

زیان ایڈی گروپ سے ہاتھا پائی کر رہا تھا۔ ڈیئنیل اسے مسلسل روک رہا تھا۔ زیان نے شاید ڈرنک کی ہوئی تھی۔

مایئیکل نے زیان کو ایک گھونسا رسید کیا۔

‘ایڈیٹ۔۔چلو یہاں سے
اسے گھسیٹتا ہوا واپس کمرے میں لے گیا۔

صبح ہونے سے پہلے پہلے تمام واقعے کی ویڈیو نے یونیورسٹی ویب سائٹ پر ہنگامہ مچا دیا تھا۔

ایڈی اور اس کے گروپ نے باقاعدہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اس کے خلاف بیان دیا تھا۔

ہینڈسم پاکستانی اب دوبارہ سے کریمنل پاکستانی بن گیا تھا۔ اس کے مذہب کو بھی خوب نشانہ بنایا تھا۔

زیان صبح اٹھا تو اسے کل رات کا واقعہ یاد آیا۔ ڈیینیل نے اسے تمام ویڈیوز دکھایں۔ زیان نے اپنا سر پکڑ لیا۔

‘میں قسم کھاتا ہوں مجھے نہیں پتا وہ سب کیسے ہوا۔ میں نے بس ایک جوس پیا تھا۔ میں نے کیا میرے خاندان نے بھی کبھی الکوحل نہیں دیکھی ہو گی۔۔۔
وہ روہنسا ہوا۔

‘اوکے۔۔پھر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔
چلو اٹھو یونیورسٹی چلتے ہیں۔
مایئکل نے اسے تسلی دی۔ اور خود باہر نکل گیا۔

وہ اور ڈییئنل اپنی اپنی بائیسکل پر ابھی رستے میں ہی تھے۔ جب اسٹوڈنٹ افیر کورٹ کی طرف سے بلاوا آیا۔

وہ جب کورٹ پہنچے تو وہاں بے شمار رش دیکھ کر حیران ہوئے۔ تقریبا پوری یونیورسٹی ہی اس کیس کی سماعت کے لیے آ گئی تھی۔

پروفیسر تھامس اس کورٹ کے جج تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈورڈ نے اس پر اسے اور اس کے دوستوں سمیت زخمی کرنے کا کیس کیا ہے۔

واقعے کی تمام ویڈیو ملٹی میڈیا پر متواتر چل رہی تھی۔

‘مسٹر زیان آپ اپنی طرف کا موقف بتائیں۔

زیان ڈایز کے پیچھے کھڑا ہوا۔

‘سر میں اپنے خدا کو گواہ مان کے کہتا ہوں کہ مجھے نہیں پتا وہ سب کیسے ہوا۔ برتھ ڈے پارٹی پر میں نے صرف ایک جوس کا گلاس پیا تھا۔ بعد میں کیا ہوا مجھے یاد نہیں۔میں نے بھی خود وہ ویڈیوز میں دیکھا ہے۔ مگر مجھے یقین ہے اس جوس میں کسی اور نے ڈرگز ملادیے تھے۔

‘آپ کے پاس کوئی ثبوت ،کوئی گواہ ہے۔۔۔
جج نے سوال کیا۔

زیان نے نفی میں سر ہلایا۔

‘پھر ٹھیک ہے۔ فیصلہ واضح ایڈی کے حق میں جاتا ہے۔

‘اتنی بھی کیا جلدی ہے سر۔ اتنی جلدی تو ماں اپنے بچے کو دودھ نہیں پلاتی جتنی جلدی آپ نے فیصلہ سنا دیا۔
مایئکل کی بے باک آواز پر سب نے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا۔
وہاں موجود تمام سر پیچھے میں دروازے کے طرف گھومے۔

وہ ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے پاس پہنچا اور فلیش usb پورٹ میں لگا دی۔

ویڈیو دیکھ کر وہاں کے تمام لوگ حقا بقا رہ گئے۔

ایڈی نے جوس میں ڈھیر ساری ڈرگز ٹیبلٹ ڈالیں۔ اور ایک لڑکی کے ذریعے اس تک پہنچا دیں تھیں۔

جب زیان مکمل نشے میں تھا۔ تو اس کے قریب جا کر ایڈی نے اسے اکسایا۔

‘اچھا تو بتاؤ تمہارا مذہب کتنا سچا ہے؟ میں نے سنا ہے تم لوگوں کو پیسہ آتا ہے مذہب کے نام پہ انتشار پھیلانے کے لیے۔اسلام کوئ دین ہے ہی نہیں۔ یہ تم لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں۔ معصوم لوگوں کو بہکانے کے۔

‘اپنی ب**** بند کر کمینے۔۔۔
مسلمان کے دماغ کو چاہے خطر ناک ترین نشے میں جکڑ لیا جائے۔ وہ اپنے مذہب کے خلاف نہیں سن سکتا۔

تو آپ بتائیں سر فیصلہ کس کے حق میں ہے۔ ماییئکل مسکرایا۔

فیصلہ بالکل سب کے سامنے ہیں۔ ایڈورڈ کی غلطی ثابت ہوگی ہے۔
اسے یونیورسٹی کا ماحول خراب کرنے اور غیر مذہب کو نشانہ بنانے پر ایک ماہ کے لئے سسپینڈ کیا جائے گا۔
پروفیسر صاحب نے زرا گلا کھنکھار کے کہا۔

ایڈی کا رنگ بدلا تھا۔

‘مگر میں کسی پر کوئی کیس نہیں کرنا چاہتا۔
میں یہاں پڑھنے آیا ہوں۔ میرا مقصد کسی کو بھی نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ ایڈی کو مجھ سے جو بھی مسئلہ ہے میں اسے ابھی حل کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یقیناً میں کہیں نہ کہیں اس کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوں گا۔ ورنہ آج کل کے مصروف دور میں کون کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑے میں وقت ضائع کرتا ہے۔

میرے مذہب پر اس نے جو بھی کہا میں نے اس کے لیے بھی اسے معاف کیا۔ کیوں کہ وہ نادان ہے اس نے جس مذہب میں آنکھ کھولی اسی کو واحد سمجھا۔ اس کی غلطی ہے کہ اس نے ریسرچ نہیں کی۔ اس نے سچائی جاننے کی کوشش نہیں کی۔
ایڈورڈ میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں بلکہ آپ سب کو کہ آپ لوگ میرے مذہب میں کوئی ایک غلطی ڈھونڈ کے دکھاؤ۔ میں اسی وقت یہ یونیورسٹی اور اپنا کیریئر چھوڑ دوں گا۔

مسلم اسٹوڈنٹس نے تالیاں بجانا شروع کیں۔

‘اوکے سٹاپ۔۔۔۔
پروفیسر تھامس نے اسے مزید بولنے سے روکا۔

پہلی بار کورٹ بغیر کسی فیصلے کے برخواست ہوئ۔

سب لوگ اسے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

ڈگری مکمل ہونے کے وقت تک وہ وہاں ہینڈ سم پاکستانی نام سے پہچانا جاتا رہا۔ بہت سے طلباء نے اسلام پے ریسرچ شروع کر دی تھی۔
وہ اسلام کو ایک کامل دین ماننے لگے تھے۔

اس کے ڈیسک پر اکثر پھول ،چوکلیٹس اور گفٹس موجود ہوتے۔ لڑکیاں اسے لیٹر لکھتیں۔

وہ کسی گفٹ کو ہاتھ نہ لگاتا البتہ اس کے دوست تحائف سے بھرپور انصاف کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ لڑکی بار میں آئے گی؟
اس وقت وہ چاروں مائیکل کے ہی فلیٹ پر موجود تھے۔۔۔۔جب ڈینیل نے پوچھا۔

‘پہلی بات اس ہوٹل میں لوگ اکثر اُس بار کی وجہ سے آتے ہیں۔ کچھ تھک ہار کے کھانا کھانے آتے ہیں۔ اور کچھ کھانا کھا کر انرجیٹک ہوکر وہاں جاتے ہیں۔
وہ لڑکی بھی کسی سے ملنے کے لیے بار میں آئی تھی۔ مگر شاید مقابل لیٹ تھا۔ اس لیے وہ ہوٹل چلی آئی۔

پھر بھی بھائی تمہیں یہ سب کیسے پتا؟۔۔ آیان بولا

‘وہ بار بار وقت دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں بےاختیار ونڈو کے پار بار کے دروازے تک جا رہی تھیں۔
میں جیسے ہی اس کے سامنے بیٹھا اس کے موبائل پر ایک میسیج آیا۔اس نے بار کے دروازے کو دیکھا اور اس نے اپنی چیزیں سمیٹنا شروع کیں۔ مگر وہ اپھی تک کرسی سے اٹھی نہیں تھی۔
مطلب مقابل کچھ ہی لمحوں میں پہنچنے والا تھا۔

تم واقعی ایک شاطر آدمی ہو۔۔مایئکل کہ جواب پر زیان نے اسے گھورا۔

‘تم بس ڈیل یاد رکھو۔ میں یہاں سے دبئی جاؤ گا۔ واپسی پر یقینا تمہارے ڈیڈ سےکانٹریکٹ سائین ہو جائے گا۔

مائیکل نے بے زاری سے کندھے اچکائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نارِمن کبیر کے ساتھ گاڑی میں موجود تھی۔

‘آپ ویسے تو ڈرایئور کے ساتھ آتے جاتے ہیں مگر جب میرے ساتھ کہیں آنا جانا پڑتا تو خود
کیوں ڈرایئو کرتے ہیں۔؟

کبیر جب اس کے ساتھ ہوتا تو گاڑی خود ہی ڈرایئو کرتا تھا آج بلا آخر اس نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا تھا۔

‘ویسے ہی بس مجھے پسند نہیں کہ میرے گھر کی عورتیں کسی بھی غیر مرد کے سامنے میرے گھر کی پوری تفصیل سنا دیں۔کیونکہ بد قسمتی سے آپ عورتوں کے پاس بریک سسٹم نہیں ہوتا۔اوپر سے جہاں بریک لگانی پڑتی تم لوگ وہاں چیخیں مارنے لگ جاتی ہو۔

بہت دنوں بعد وہ کھل کے مسکرائ تھی۔

‘ہنستی رہا کرو۔ پیاری لگتی ہو۔ کبیر نے اس پہ ایک پیار بھری نظر ڈالی۔
نارمن کا دل عجب طرز پہ ڈھڑکا تھا۔

وہ معمول کی باتوں میں مشغول تھے
گاڑی جیسے ہی ایم ایچ آئ سینٹر کے قریب پہنچی نارِمن کے چہرے پہ ایک رنگ آیا۔

‘میں نے اگر زندگی میں کسی جگہ کے بار بار چکر لگاۓ ہیں تو وہ، یہ سلیمان رستم روڈ ہے۔

نارِمن کے چہرے پر دکھ صاف نظر آرہا تھا۔
جاری ہے

صفا خالد
لکھو کے ساتھ لکھو
ناول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں