0

مانگے ہوئے سورج سے سویرا نہیں کرتے /تحریر/راکعیہ راہی

مانگے ہوئے سورج سے سویرا نہیں کرتے
تحریر:
راکعیہ راہی

اس خطہ گیتی کے حصول کے لیے اسلامیان ہند مشت واحد کی طرح یک جان ہوئے گو کہ ہر رنگ و نسل ، مسلک و مذہب سے آزاد ہو کر ایک دیرینہ خواب کو اپنی آنکھوں میں سجایا اور اس کی تعبیر کی صورت پاکستان حاصل کیا ۔ مردان حر نے اپنے خون اور عصمتوں کے بدلے یہ مٹی خرید لی ۔ حصول پاکستان سے ہم نے سمجھا کہ کہ ہم نے منزل پا لی ہے۔ اس سے بے خبر کہ حصول پاکستان منزل نہیں بلکہ مسلسل جدو جہد کے سفر کا آغاز ہے۔ ہر شخص اپنی من مستی میں مگن ہو کر اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے لگا ، اس نقطے کو نظر انداز کر کے کہ ابھی تو اقوام غالب کے سحر سے آزاد ہونا ہے۔ جسموں کی آزادی کے بعد اپنی روحوں کو آزاد کرنا ہے۔ انگریز قوم کے خون آشام جال سے نکل کر اس قوم کو نجات دیدہ و دل کی وہ گھڑی حاصل کرنی ہے کہ دنیائے عرب و عجم اس روشن چراغ سے جگمگا اٹھے اور ہر ذرہ چمک اٹھے۔ لیکن ہم نے جن اعلیٰ جذبوں ، عظیم قربانیوں اور ہمت پیہم سے خون کے نذرانے پیش کر کے یہ وطن حاصل کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ کی مثال اس پچھتر سالہ تاریخ میں نظر نہیں آتی ۔
کیونکہ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی اس میں نسلی امتیاز ، لسانی ،مذہبی اور علاقائی تعصبات کے زہریلے بیج بو دیے گئے ۔ ہمارے سیاسی افق پر نااہلی، خود غرضی، اور مفاد پرستی کے سائے منڈلانے لگے۔ ایک طرف منتخب حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہوئیں، تو دوسری طرف غیر منتخب قوتوں نے اقتدار کو اپنی جاگیر سمجھ لیا۔ نظریہ پسِ پشت ڈال دیا گیا اور مفادات کو اولیت دے دی گئی۔ آئین و قانون کی حرمت مجروح ہونے لگی، اور ادارے سیاست کی چکی میں پسنے لگے۔ 1971 میں ہم نے مشرقی پاکستان گنوا دیا ۔ ذولفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کی سیاسی چپقلش نے پاکستان کے نظام کو نقصان پہنچایا۔ کہیں ہم نے اپنے ہی محسن ڈاکٹر عبد القدیر خان کو نظر بند کر دیا اور کہیں امریکہ کے انصاف پر یقین رکھتے ہوئے اپنی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی انصاف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ کہیں ہم نے اپنے ہوائی اڈوں کو بیچ ڈالا اور کہیں ہم اربوں ڈالر کے مقروض ہو گئے ۔ قیام پاکستان سے لے کر موجودہ حکمران تک کوئی ایسی حکومت مکمل نہیں ہوئی جو اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر سکی ہو۔
نوجوان جنہیں قوم کا سرمایہ کہا جاتا ہے، تعلیم، روزگار اور رہنمائی کے بحران کا شکار ہو گئے۔ جو ہاتھ کتاب تھام کر ملک کی تقدیر بدل سکتے تھے، وہ یا تو بیروزگاری کے سبب خالی رہ گئے یا بے سمتی کے باعث تشدد اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہو گئے۔ جو ذہن سوچنے اور تجزیہ کرنے کے لیے پیدا کیے گئے تھے، وہ یا تو مایوسی کا شکار ہو گئے یا تفریح کی فضا میں گم ہو گئے۔
ادب، تحقیق، سائنس اور مکالمہ — سب کچھ بتدریج دم توڑنے لگا۔ ادب کی خود افزائش کرنے والے ، ادب لکھنے والے خود دوسری اقوام کے بنائے گئے تعلیمی نظام پر چل پڑے ۔
اسی دوران، حکمران طبقہ عوامی فلاح کی بجائے ذاتی مفادات کے گرد گھومنے لگا۔ منصوبے بنتے رہے، افتتاح ہوتے رہے، فیتے کاٹے جاتے رہے، مگر قوم کی تقدیر جوں کی توں رہی۔ تعلیم و صحت کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہوتے گئے، جب کہ ایوانوں میں شاہانہ طرزِ زندگی بڑھتا گیا۔ حکمرانوں کا عوام سے فاصلہ اتنا بڑھ گیا کہ ریاست اور رعایا دو الگ دنیائیں بن گئیں۔
ہماری خارجہ پالیسی بھی مستقل مزاجی سے محروم ہو گئی۔ کبھی مغرب کی آغوش میں جا بیٹھے، تو کبھی مشرق کے ساتھ گرمجوشی دکھانے لگے۔ لیکن ہر بار سودے بازی کا مرکز قومی مفاد نہیں بلکہ وقتی فائدہ اور اقتدار کا تحفظ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم عالمی سطح پر کبھی قابلِ بھروسا دوست بن سکے، نہ باوقار مد مقابل۔
ملک کے معاشی حالات بھی انہی غلط پالیسیوں کی بدولت دن بہ دن بگڑتے گئے۔ بیرونی سرمایہ کاری کی کمی، برآمدات میں کمی، کرپشن، بدعنوانی، اور ناقص حکمرانی نے وہ حالات پیدا کیے کہ آج ہم قدم قدم پر عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہیں۔ قرض پر قرض، قسط پر قسط، اور سود در سود کی اس زنجیر نے ہمیں خودمختاری کی اصل روح سے محروم کر دیا ہے۔ جو قوم کبھی دنیا کو راستہ دکھانے کا خواب دیکھتی تھی، آج دوسروں کے اشارے پر چلنے کی پابند ہے۔

وادیِ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہا
قیس دیوانۂ نظارہ ، محفل نہ رہا

یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ یہ ایک مسلسل انحطاط کا نتیجہ ہے۔ ایک ایسا زوال جو نہ صرف معیشت، سیاست اور خارجہ پالیسی کو کھوکھلا کر گیا، بلکہ قومی کردار اور سوچ کو بھی مجروح کر گیا۔ آج اگر کوئی عام پاکستانی یہ سوال اٹھائے کہ
“کیا یہی ہے وہ پاکستان جس کے لیے ہم نے قربانیاں دیں؟”
تو اس کے پاس اس سوال کا جواب دینے کو کوئی نمائندہ موجود نہیں۔
ہم نے اس ملک کو آئی پی پی ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسا کر اسے نعروں ، دعووں ، بیرونی دوروں ، بے نظیر انکم سپورٹ کی صورت میں عام عوام کو بھیک کے سوا عدالتوں کے دھکے اور قتل و غارتگری ہی دی ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران ایسی صورت حال سے بقائے پاکستان دیوانے کا خواب ہے۔ اگر حکمران اپنی زمہ داری احسن طریقے سے نبھائیں ، عوام کو جوابدہ ہونے لگیں، اور اگر عوام بیدار ہو کر اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائیں، تو یہی پاکستان ایک بار پھر عظمت کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ہمیں مانگے ہوئے سورج سے سویرا کرنے کی امید ترک کرنی ہو گی۔ ہمیں اپنے اندر وہ روشنی پیدا کرنی ہو گی جو اندھیروں کو چیر دے، جو غلامی کی زنجیروں کو توڑ دے، اور جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک باوقار، باخبر، اور خودار ریاست بنا دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں