0

شادی :پاکیزگی کا حصار /زنا :بربادی کا راستہ/تحریر/محمد حسنین معاویہ

شادی: پاکیزگی کا حصار
زنا: بربادی کا راستہ

تحریر: محمد حسنین معاویہ

دنیا کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق بسر کرے۔
اسلام نے انسان کے ہر عمل کے لیے رہنمائی دی ہے — حتیٰ کہ محبت اور تعلق جیسے لطیف احساسات کے لیے بھی ایک پاکیزہ، محفوظ اور بابرکت راستہ بتایا، جسے نکاح کہا جاتا ہے۔

آج جب مغربی ذہنیت کے زیرِ اثر کچھ لوگ — جیسے ملالہ یوسفزئی — یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ “لوگ شادی کیوں کرتے ہیں؟ اگر دو لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو دستخط کیوں ضروری ہیں؟”
تو دراصل یہ سوچ اسلامی تہذیب پر فکری حملہ ہے۔
یہ وہ سوچ ہے جو انسان کو حیا سے نکال کر حیوانیت میں دھکیلتی ہے، جہاں نہ عزت باقی رہتی ہے نہ نسب، نہ خاندان باقی رہتا ہے نہ انسانیت۔


—
قرآن کا تصورِ نکاح

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
“اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔”
(الروم: 21)

یہ آیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ شادی محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ اللہ کی نشانی ہے۔
نکاح سے دو انسانوں میں محبت، سکون اور رحمت پیدا ہوتی ہے۔
یہ وہ رشتہ ہے جو انسان کو گناہ سے بچاتا ہے، عزت بخشتا ہے اور نسلوں کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔

—
شادی: سنتِ نبوی ﷺ اور عبادت

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

“نکاح میری سنت ہے، اور جو میری سنت سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں۔”
(بخاری و مسلم)

نکاح محض جسمانی ضرورت کا نام نہیں بلکہ یہ سنتِ رسول ﷺ ہے، جس سے انسان اپنی روحانی اور اخلاقی زندگی میں پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔
شادی انسان کے کردار کو مضبوط کرتی ہے، ضبطِ نفس سکھاتی ہے، ذمہ داری کا شعور پیدا کرتی ہے، اور معاشرے میں نظم و وقار لاتی ہے۔

—
زنا: تباہی، ذلت اور گناہِ کبیرہ

قرآنِ مجید زنا کے بارے میں نہایت سخت لہجہ اختیار کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک یہ بے حیائی ہے اور بہت بُرا راستہ ہے۔”
(الإسراء: 32)

یہاں اللہ تعالیٰ نے “زنا کے قریب نہ جانے” کا حکم دیا —
یعنی نظر، خیال، دوستی، خلوت، یا وہ سب راستے جو زنا کی طرف لے جائیں، وہ بھی حرام ہیں۔
زنا انسان کی روح کو گندہ کر دیتا ہے، عزت کو پامال کرتا ہے، اور ایمان کی روشنی کو بجھا دیتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

> “زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔”
(صحیح بخاری و مسلم)


یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ زنا کے وقت ایمان دل سے نکل جاتا ہے —
کیونکہ ایمان اور بے حیائی ایک دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

—
زنا کے دنیاوی نقصانات

1. عزت و ناموس کی بربادی:
زنا سے نہ عورت کی عزت باقی رہتی ہے، نہ مرد کا وقار۔
وہ قومیں جو زنا کو “آزادی” کہتی ہیں، آج وہاں خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے۔
یورپ میں کروڑوں بچے ایسے ہیں جنہیں اپنا باپ نہیں معلوم — یہی ہے “شادی کے بغیر پارٹنرشپ” کا انجام۔


2. نفسیاتی اور جسمانی بیماریاں:
جدید تحقیق کے مطابق زنا کی کثرت سے ذہنی دباؤ، بے سکونی، بے اعتمادی، ایڈز اور دیگر خطرناک امراض پیدا ہوتے ہیں۔
اسلام نے نکاح کے ذریعے ان تمام تباہیوں سے انسان کو محفوظ رکھا۔


3. روحانی تباہی:
زنا دل کو سیاہ کر دیتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:

> “جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ دل سیاہ ہو جاتا ہے۔” (ترمذی)



4. معاشرتی انتشار:
زنا سے نسب گڈمڈ ہوتے ہیں، غیرت مر جاتی ہے، اور سماج بے مقصد ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج مغربی دنیا آزادی کے نام پر ذلت کی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے۔

—
شادی کے روحانی اور عملی فوائد

1. عفت و پاکیزگی:
شادی انسان کو زنا جیسے گناہ سے بچاتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:

> “اے جوانو! جو تم میں سے نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔” (بخاری)




2. محبت اور سکون:
شادی دو دلوں کے درمیان محبت اور سکون پیدا کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی سکون ہے جسے دنیا کے کوئی عارضی رشتے نہیں دے سکتے۔


3. نسلِ انسانی کا تحفظ:
نکاح کے ذریعے نسلیں پہچان کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں، جبکہ زنا نسلوں کو بے نام اور خاندانی نظام کو برباد کرتا ہے۔


4. سنت پر عمل:
نکاح کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے، اس سے زندگی میں برکت اور دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔

—
ہماری ذمہ داری

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں اسلامی ماحول پیدا کریں۔
ہم اپنی بیٹیوں کو شرم و حیا کا زیور پہنائیں،
اپنے بیٹوں کو غیرت و ایمان کی تربیت دیں،
اور میڈیا کے اس فتنہ انگیز طوفان سے اپنی نسلوں کو بچائیں۔

فحاشی سے لبریز ڈرامے، عریانی کو فروغ دینے والی فلمیں، اور زنا کو “محبت” کے نام پر پیش کرنے والا کلچر — یہ سب ہمارے ایمان کے دشمن ہیں۔
اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ شرم ایمان کا حصہ ہے، اور حیا والی قوم کبھی ذلیل نہیں ہوتی۔

—
نتیجہ: ایک پکارِ ایمان

اے نوجوانو!
یاد رکھو، شادی عزت ہے، زنا ذلت۔
شادی محبت ہے، زنا ہوس۔
شادی عبادت ہے، زنا گناہ۔

اگر ہم نے اپنے گھروں میں ایمان، قرآن اور شرم و حیا کو زندہ کر لیا،
تو ملالہ جیسے ذہن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے:

> “پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں، اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے۔” (النور: 26)


لہٰذا آؤ!
اپنی نسلوں کو اس فکری گندگی سے بچائیں،
شادی کو سنت سمجھ کر اپنائیں،
اور دنیا کو بتا دیں کہ اسلام کی شرم و حیا ہی اصل آزادی ہے۔
—
اللہ تعالیٰ ہمیں نکاح کی برکت، عفت کی دولت، اور ایمان کی روشنی عطا فرمائے۔
اور ہمیں زنا کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں