
ایک شام مفکر اسلام حضرت مولانا علامہ زاہدالراشدی صاحب کے نام/ تحریر/حافظ محمد عمرفاروق بلالپوری
خطیب العصر مولانا محمد شاہ نواز فاروقی صاحب
اس نشست کی غرض و غایت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور اس کے انعقاد پر برادر عزیز حضرت مولانا عمر فاروق صاحب بلال پوری حفظہ اللہ تعالی کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین بھی پیش کرتا ہوں۔ برادر مکرم مولانا جواد محمود قاسمی صاحب نے جو بات کہی وہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر ہم اپنے اکابر کا، اپنے بزرگوں کا ان کی زندگی میں تذکرہ کریں تو ان سے فائدہ اٹھانا ہم سب کے لیے آسان ہو جائے گا اور فائدہ اٹھانے والوں کی توجہ اور رجوع ان کی طرف بڑھے گا۔ اس سے جو فوائد حاصل ہوں گے شاید وہ چلے جانے کے بعد ذکر خیر سے حاصل نہ ہو سکیں۔
اس وقت باقاعدہ کسی تمہید اور خاکہ کے تحت گفتگو کرنا وقت کی قلت کی وجہ سے ممکن نہیں ہے، لہٰذا اپنی گفتگو کے چند اجزاء بلا تمہید آپ کی توجہ کی نظر کرنا چاہوں گا۔
ایک تو حضرت استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی برکاتہم العالیہ کی شخصیت یقیناً کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اور ہم سے زیادہ حضرت کو وہ جانتے ہیں جو ہمارے نہیں ہیں۔ شاید ہمیں اتنا علم اور ادراک نہ ہو جتنا ہمارے نظریہ اور فکر سے اختلاف رکھنے والوں کو ہے کہ حضرت کس حیثیت اور کس شخصیت کے مالک ہیں۔ کمال اور خوبی ہوتی بھی وہی ہے جس کا اغیار اعتراف کریں۔ عربی کا ایک مقولہ ہے ”الفضل ما شہدت بہ الاعداء“ یہ حضرت استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی دامت برکاتہم العالیہ پر کما حقہ صادق آتا ہے۔ حضرت استاد جی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت اور ذات گرامی صفات کے اعتبار سے ہمہ گیر ہے، خدمات کے اعتبار سے ہمہ جہت ہے۔ اس پر استاد العلماء حضرت مولانا عبدالواحد صاحب رسول نگری دامت برکاتہم العالیہ نے تفصیل کے ساتھ بات چیت کی۔ میں صرف اتنا کہہ کے آگے بڑھنا چاہوں گا
”عباراتنا شتی وحسنک واحد، کل الی ذاک الجمال یشیر“
حضرت استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت اور ذات گرامی صفات کے اعتبار سے ہمہ گیر ہے۔ اللہ نے ظاہری اور باطنی تمام خوبیوں سے آپ کو مالامال فرمایا۔ آپ خود ایک محقق اور مدبر عالم ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے محققین اور مدبرین کے رہبر و رہنما ہیں۔ اور کہوں تو یوں کہوں گا کہ کنز العلماء ہیں، استاذ الکل فی الکل ہیں، علم و عمل اور اخلاص و احسان کے پیکر ہیں، ظاہر و باطن میں یکساں ہیں۔ جن کی حیات قلندرانہ ہے، صفات سکندرانہ ہیں، طبیعت اور مزاج میں سادگی اور متانت ہے۔ کس کس خوبی اور کمال کا ذکر کروں۔ انداز ناصحانہ، طبع و مزاج عاجزانہ، علم میں ابو حنیفہؒ کے وارث، عمل میں اسلاف کی روایات کے امین۔ الغرض آپ کی صفات میں سے کس کس صفت کو ذکر کیا جائے۔
اور جہاں تک آپ کی خدمات کا تعلق ہے وہ ہمہ جہت ہیں۔ کون سا میدان ہے جو استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی دامت برکاتہم العالیہ کی جدوجہد کا شاہد عدل نہیں ہے ؟ آپ مسند تدریس پر جلوہ افروز ہو کر نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزر چکا ہے تشنگانِ علوم دینیہ کی پیاس بجھاتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر آپ کی تحریکی زندگی دیکھی جائے تو آپ ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ کوئی بھی اسلام کی پکار ہو، سب سے پہلے لبیک کہنے کا شرف حضرت استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی دامت برکاتہم العالیہ کو حاصل ہوتا ہے۔ اسلام نے جب بھی اپنے ماننے والوں کو پکارا آپ ”السابقون الاولون“ نظر آئے، ہر فرد بشر سے پیش پیش نظر آئے۔ کوئی پرواہ نہیں کی کہ کوئی ساتھ ہے یا نہیں ہے۔ اکیلا ہوں یا ساتھ کوئی کارواں ہے۔ لیکن اخلاص اور استقامت اس قدر ہوتے تھے کہ پھر ابتدا بھلے اکیلے ہونے کی صورت میں ہو انتہاءً آپ کے ساتھ ایک جم غفیر ہوتا تھا۔
حضرت استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی دامت برکاتہم العالیہ ہمارے اکابر کے اسلاف کے معتمد ہیں، فنون اور علوم کے ماہر ہیں اور ایک بات یہاں اور عرض کرنا چاہوں گا کہ افکار کے حوالہ سے کچھ لوگ اس وقت اپنے آپ کو فائنل اتھارٹی سمجھ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فکر وہی صحیح ہے جس پر ہماری جانب سے مہر لگی ہو۔ جبکہ ان کی حیثیت ”انف فی الماء واست فی السماء“ والی ہے۔ میں یہ بات عرض کرنا چاہوں گا کہ حضرت استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی ہی نہیں، سیاق و سباق سے ہٹا کر، سیاق و سباق سے الگ کر کے آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کوئی قول بھی پیش کریں گے تو اس پر بھی طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ سیاق و سباق سے الگ کر کے ابن تیمیہؒ کی کوئی بات بھی ذکر کریں گے تو اس پر بھی نہ جانے کیا حالات پیدا ہو جائیں گے۔ تو ایک تو بات پوری نقل کی جائے، سیاق و سباق سے ہٹا کر نہ کی جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب کسی بات کا قائل موجود ہو تو ضابطہ یہ ہے کہ بات مبہم اور مجمل ہو، قول مبہم اور مجمل ہو تو اس کی تفسیر وہی معتبر ہوتی ہے جو متکلم کرتا ہے، اور اگر متکلم دنیا میں نہ ہو تو پھر اس کی وہ تشریح وہ تفسیر اور تاویل معتبر ہوتی ہے جو اس کی فکر کے وارث و امین کرتے ہیں۔ وگرنہ ”تاویل القول بما لا یرضی بہ القائل“ کا نقشہ نظر آتا ہے۔ لہٰذا اس پر نظر رکھی جائے اور استاد محترم علامہ زاہدالراشدی دامت برکاتہم العالیہ کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے پہلے حضرت کا دائرہ کار دیکھ لیا جائے۔ ”ضفادع حیاض“ ( حوض کے مینڈک)کے مصداق اگر اتنے وسیع دائرہ کار رکھنے والی شخصیت کے بارے میں اپنے محدود ذہن اور سوچ کے ساتھ بات کریں گے تو خود پٹری سے اتر جائیں گے۔
ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا وہ یہ کہ جب کوئی شخص بات کرتا ہے تو اس میں دلالت حال کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ اس کے صحیح مصداق کے تعین میں دائرہ کار کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی مسجد اور محلے تک محدود ہو، دوسری دفعہ گھر میں اسے سالن بھی نہ ملے وہ اس شخصیت کے بارے میں تبصرے کرتا پھرے کہ جسے ماضی کا کامل احساس ہے، حال سے مکمل باخبر ہے، مستقبل پر پوری نظر ہے، اور پروردہ آغوشِ ولایت ہے۔ اس شخصیت کے علوم و فنون اور فیوض و برکات کا وارث و امین ہے کہ جب دنیا سے وہ شخصیت گئی تو ہر زبان یہ کہتی ہوئی نظر آئی، ہر شخص یہ کہتا ہوا نظر آیا
؎ کئی دماغوں کا اک انسان سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے زباں کا زور بیاں گیا ہے
اتر گئے کئی منزلوں کے چہرے میر کیا کارواں گیا ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
اور مجھے تعجب ہے کہ مدت تھوڑی کام بہت زیادہ، اگر انصاف دنیا سے ختم نہیں ہو گیا تو سوچیے اور اپنے طرز عمل کو درست کرنے کی کوشش کیجئے۔
وقت مختصر تھا میں جیسے گفتگو کرنا چاہتا تھا کر نہیں سکا۔ اب یہ جو سلسلہ چل پڑا ہے ان شاءاللہ العزیز چلتا رہے گا۔ مواقع بار بار آئیں گے اور ہم بتائیں گے کہ ہم کتنی عظیم شخصیت کی پیروی اور اتباع کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی حضرت استاد محترم مولانا علامہ زاہدالراشدی دامت برکاتہم العالیہ کا سایہ تادیر ہم سب کے سروں پر، اہل حق کے سروں پر سلامت با کرامت رکھے واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین