0

جنگِ ستمبر 1965 کے ملی نغمے/تحریر/مصعب شاہین/میانوالی

اے راہِ حق کے شہیدو": شہداء کے خون کو سلام اور زندہ دلوں کو دعوتِ قربانی۔
"میریا دھرتی دھرتی آپے جان": سرزمین کے ساتھ والہانہ عشق کا استعارہ
Miyanwali

جنگِ ستمبر 1965 کے ملی نغمے/تحریر/مصعب شاہین/میانوالی

محترم قارئین!
اقوام کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے زوال کو چیر کر ابدیت حاصل کرلیتے ہیں۔ ستمبر 1965 بھی پاکستان کی قومی تاریخ کا ایسا ہی لازوال باب ہے۔ یہ وہ ساعت تھی جب ہندوستان نے ہمارے وطنِ عزیز پر جارحیت کی اور یوں خطۂ پاک کے افق پر ایک ایسی آزمائش ابھری جس نے ہماری قومی غیرت، ملی حمیت اور اجتماعی وجود کو پرکھا۔ توپ و تفنگ کی گھن گرج کے بیچ جو چیز قوم کو نئی روح عطا کرتی رہی، وہ ملی نغموں کی وہ جادوئی دنیا تھی جس نے دلوں کو گرمایا، خون کو دوڑایا اور جذبوں کو بالیدگی بخشی۔
ستمبر کی وہ رات جب دشمن نے لاہور کی جانب یلغار کی، دراصل پاکستان کے عزم و استقلال کو آزمانے کی گھڑی تھی۔ مگر دشمن یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ قوم محض خاک و سنگ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایمان افروز نظریے کی پاسدار ہے۔ وقت آنے پر یہ اپنے جسموں سے بم باندھ کر دشمنوں کے ٹینکوں کے آگے لیٹ جاتے ہیں۔ ایسے میں ریڈیو پاکستان کی فضا سے ابھرتے وہ ملی نغمے گویا اذانِ حریت بن گئے۔ ہر لفظ سپاہی کے جذبوں کو جلا بخشتا اور ہر دھن عوام کے سینوں میں چراغ روشن کرتی۔
جنگی فضا میں شاعری اور موسیقی نے مل کر ایک ایسا فکری محاذ تشکیل دیا جو توپوں اور ٹینکوں سے زیادہ کارگر ثابت ہوا۔ شاعر نے لفظوں کو تلوار بنایا اور موسیقار نے انہیں ایسی دھنوں میں پرویا کہ دل سے نکلنے والی صدا براہِ راست دل میں اتر گئی۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی پر سوز آواز جب “اے پُتر ہٹاں تے نئیں وِکدے” گنگناتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے ہر ماں اپنے بیٹے کو جہاد کی دعا دے رہی ہو۔ وہ باڈر پر جاکر جواں کو رزمیہ اشعار سناتیں اور پھر ہمارے فوجی جوان جان دینے اور جان لینے کے جذبے سے معمور دشمن پر جھپٹ پڑتے۔
اسی طرح مہدی حسن، مسعود رانا اور شوکت علی کی آوازیں محاذ پر موجود جوانوں کے لیے آبِ حیات بن گئیں۔ ان گلوکاروں کی فنی مہارت نے محض دھنیں نہیں تخلیق کیں بلکہ پوری قوم کی دھڑکن کو ایک تار میں پرو دیا۔

وہ نغمے آج بھی وقت کی گرد سے آزاد ہوکر ہمارے دلوں میں زندہ ہیں مثلاً:
“اے راہِ حق کے شہیدو”: شہداء کے خون کو سلام اور زندہ دلوں کو دعوتِ قربانی۔
“میریا دھرتی دھرتی آپے جان”: سرزمین کے ساتھ والہانہ عشق کا استعارہ۔
“ترانہ پاسبان”: وطن کے دفاع کو ایمان کا جزو ثابت کرنے والا ترانہ۔
یہ نغمے محض غزلیں یا گیت نہ تھے بلکہ اجتماعی دعا تھے۔ ایک ایسی دعا جو ہر زبان پر تھی اور جس نے خوف کو امید اور کمزوری کو قوت میں بدل ڈالا۔
دوستو! ان نغموں کا اثر محض محاذِ جنگ تک محدود نہ رہا بلکہ گھروں، بازاروں، مدرسوں اور کھیتوں تک پھیل گیا۔ مائیں اپنے بیٹوں کو رخصت کرتیں تو نورجہاں کے نغمے ان کے آنسوؤں کو صبر کا جام بنا دیتے۔ بچے ان نغموں کو گنگناتے اور اپنے خوابوں میں بھی سپاہی بننے لگتے۔ یہ وہ سماجی فضا تھی جس میں ہر فرد سپاہی، ہر عورت مجاہدہ اور ہر بچہ محاذ کا ساتھی بن گیا۔

تحقیقی زاویے سے دیکھا جائے تو 1965 کے یہ ملی نغمے اردو اور پنجابی شاعری کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ادب محض کتابی الفاظ کا کھیل نہ رہا بلکہ میدانِ جنگ کا ہتھیار بن گیا۔ پاکستانی ادب اور ثقافت کا مستقل جزو بن گیا۔ موسیقی محض دل لُبھانے کا فن نہ رہی بلکہ قومی بقا کی ضامن ٹھہری۔ یوں یہ نغمے ہماری اجتماعی یادداشت میں امر ہوگئے اور بعد ازاں ہر بحران میں یہی دھنیں قوم کو مجتمع کرنے لگیں۔

آج نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود جب یہ نغمے سنے جاتے ہیں تو دلوں میں وہی حرارت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں محض اسلحے سے نہیں بلکہ ایمان اور عزم سے جیتا کرتی ہیں۔ ہماری نئی نسل کے لیے ان نغموں میں یہی سبق مضمر ہے کہ وطن کی محبت ایک عہد ہے، اور اس عہد کی پاسداری کے لیے قربانی ناگزیر ہے۔

میرے دوستو! جنگ ستمبر کے ملی نغمے ہمارے قومی وجود کی گواہی ہیں۔ یہ وہ آوازیں ہیں جو وقت کے اندھیروں کو چیر کر آج بھی روشنی بانٹتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ انہیں محض یادگار نہ سمجھیں بلکہ اپنے دل کی دھڑکن اور اپنے وجود کا حصہ بنائیں۔ کیونکہ قوم کی اصل قوت توپوں اور ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان نغموں میں رچے جذبوں میں ہے جو نسل در نسل سفر کرتے ہیں اور آنے والے وقت کو نئی توانائی بخشتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں