0

تیس روپے کا جھگڑا یا معاشرے کی اجتماعی شکست؟ /تحریر / دلشاد/ فکر فردا/

تحریر/ محمد مدثر دلشاد
تحریر/ محمد مدثر دلشاد

تیس روپے کا جھگڑا یا معاشرے کی اجتماعی شکست؟
مدثر دلشاد/ فکر فردا/
روز نامہ دنیا کی رپورٹ کے مطابق:
“رائیونڈ میں 30 روپے کے تنازع پر پھل فروش نے اوباش دوستوں کے ساتھ مل کر 2 بھائیوں کو قتل کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ رائیونڈ میں 30 روپے کے تنازع پر زخمی دوسرا نوجوان بھی دوران علاج دم توڑ گیا، راشد اور اس کے بھائی واجد پر پھل فروشوں نے رقم کے تنازع پر تشدد کیا تھا۔ راشد کا بھائی واجد پہلے ہی ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا، مقدمہ مقتولین کے والد کی مدعیت میں تھانہ رائیونڈ سٹی میں درج ہے۔
پولیس کے مطابق موضع رتی پنڈی کے 2 بھائیوں 22 سالہ واجد اور 25 سالہ راشد نے ایک ریڑھی والے سے پھل خریدا، اس دوران ان کا محض 30 روپے پر جھگڑا ہو گیا۔
ریڑھی بان تیمور اور اویس نے اپنے 5 نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ مل کر دونوں بھائیوں کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے 22 سالہ واجد دم توڑ گیا جبکہ 25 سالہ راشد کو شدید زخمی حالت میں جنرل ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا، جو دورانِ علاج دم توڑ گیا” ( رپورٹ)
فیس بک سکرول کرتے ہوۓ جب اس خبر پر اچٹتی نگاہ ڈالی تو آنکھیں گَڑ سی گئیں انگلیاں مفلوج ہو گئیں دماغ ماؤُف ہو گیا کہ انسانی جان اتنی ارزاں ہو گئ؟ کیا ہم واقعی ہی انسانی سماج میں جی رہے ہیں؟ ہم اتنے گر گۓ کہ چند روپوں پہ دو جوان بیٹے لُٹا دیۓ گے۔ خون پھل سے بھی ارزاں ہو گیا؟ کبھی کبھی ہمارے معاشرے کے زوال کا پردہ چاک کرنے کے لیۓ بڑے حادثات رونما نہیں ہوتے بلکہ تیس روپے کا جھگڑا ہی ساری دینی ، مذہبی، معاشرتی، سماجی، سیاسی ، اخلاقی اور خاندانی طور پر زوال پذیر ہونے کی المناک داستان رقم کردیتا ہے۔ خون کی اس ارزانی پہ یقینا فرشتے بھی حیراں ہوں گے۔ یہ محض ایک قتل نہیں ہے یہ محض ایک جرم بھی نہیں ہے یہ ہمارے سماجی کی ہمارے معاشرے کی اجتماعی شکست اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں برداشت کا فقدان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ تیس روپے کے لیۓ دو جنازے نکال دیۓ ، تو کہیں اپنی حیوانیت کی تسکین کے لیۓ بہن کے محافظ بھای کو فائر کرکہ تاحیات معذور کردیا تو کہیں معمولی سی بات پر پورے معاشرے کو آگ میں جھونک دیا۔ یہ سب تربیت کے نہ ہونے سے ہے والدین کا بچوں پہ نظر نہ رکھنے کی بددولت ہے۔ والدین اپنے بچوں کی صحیح پیمانے اور معیار پر تربیت نہیں کررہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آے روز ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کے باوجود ان کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ انسانی اقدار کا جنازہ کیا ابھی اٹھے گا؟ انسانی اقدار کی تدفین کیا ابھی ہونی ہے؟ نہیں جناب ہم عاری ہو گۓ اقدار سے، اخلاقیات سے، علم و شعور سے۔ جہاں ہمارے پیارے رسول و نبی ﷺ نے فرمایا:
“طاقتور وہ نہیں جو کُشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)وہ محض چند روپے کی خاطر خون بہا سکتا ہے؟ ہم نے صحیح سنا نہیں اگر سنا ہے تو سمجھا نہیں ہم۔نے اپنے سچے مذھب کو دیکھا ہی نہیں۔ اسلام جیسا سچا پیارا مذھب اور اس کی اتنی ناقدری اس سے اتنی بے غوری اس سے اتنا اعراض کہ معاشرہ آگ میں جلنے لگ گیا۔
معمولی تنازع پر تشدد کرنے جھگڑا کرنے کے واقعات کا رجحان روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف ، عفو درگزر گمشدہ ہو چکا ہے۔ اور ہر طرف غصہ ، انتقام اور حسد اپنے بے رحم پنجے گاڑھ چکے ہیں۔ اس لیۓ ہمیں اپنی اور اپنی اولادوں کی تربیت اسلامی تعلمات اور مزاج کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ یہ سانحہ محض سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے بگڑتے رویوں کی افسوسناک کہانی اور تلخ حقیقت ہے جسے اگر ابھی نہ سنوارا گیا تو پھر کسی گلی میں دو جوان بیٹے جان کی بازی ہاریں گے یا شائد اس سے بھی زیادہ ۔ قرآن کریم کے اندر اللہ جلّ شانہ فرماتے ہیں:
“جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”
(سورۃ المائدہ: 32)
اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہوا:
“اور جو صبر کرے اور معاف کر دے تو یقیناً یہ بڑے حوصلے کے کاموں میں سے ہے۔
(سورۃ الشوریٰ: 43)۔ ۔صبر بہت بڑی نعمت ہے اس سے کئ مسئلے فورا حل ہو جاتے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہ فرماتے ہیں کہ اگر آپ کو کوئ بات بری اور ناگوار گزری ہے تو فورا ردعمل نہ دیں بلکہ اپنے آپ سے کہیں کہ میں چوبیس گھنٹے بعد اس بات کا جواب دوں گا اور اس وقت تک آپ کی حالت یکسر بدل چکی ہو گی ۔ ایک انسان کی قیمت ایک مسلمان کی قیمت اس کے حقوق اس کے ساتھ حسن سلوک یہ ہماری دینی ، مذہبی اور معاشرتی و سماجی ذمہ داری ہے۔
آقا دوجہاں رور کونین رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے آج کے دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔”
(صحیح بخاری و مسلم)
اس وقت ہمارا معاشرہ قابل رحم ہے قابل ترس ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں خون کی ارزانی، برداشت کا فقدان، غصے کی آگ، اخلاقی اقدار کا جنازہ، انصاف کی کمزور ڈور، رحم و درگزر کی گمشدگی، طاقت اور پیسے میں ڈوبا قاتل ذہن دندناتا پھر رہا ہے۔ اگر اس کی اصلاح نہ کی گئ اگر اس پہ توجہ نہ دی گئ اگر ابھی بھی والدین غفلت کی نیند سوے رہے تو پھر انتظار کیجیۓ ایک اور گھر کہ اجڑنے کا جو شائد تیس روپے سے بھی کم پہ اجڑے۔ ( اللہ ہم سب کی حفاظت فرماۓ) ۔سوال یہ نہیں ہے کہ ملزم پکڑے گۓ یا نہیں؟ یا کب پکڑے جائیں گے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب سدھریں گے؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں