
قائداعظم اور سیکولر اسٹیٹ/ایک اہم تحقیقی کتاب/تبصرہ نگار/پروفیسر محمد اکبر خان
یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مدینۃ الاولیا ملتان میں مجھے ممتاز محقق ماہر تعلیم اور متعدد کتابوں کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہوا ان کے ذاتی کتب خانے میں گزرے لمحات حیات مستعار کا قیمتی اثاثہ ہیں.ان کا سپاس گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی قیمتی تحقیقی کتب عنایت فرمائیں انھی میں سے ایک معرکۃ الآراء کتاب “قائداعظم اور سیکولر سٹیٹ” ہے ۔ یہ کتاب نہ صرف ایک محقق کی گہری علمی نفاست کی آئینہ دار ہے بلکہ مصنف کے اسلوب تحقیق و تحریر کا شاہکار ہے اس کتاب میں ایک ایسی ادبی چاشنی موجود ہے جو قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔
مصنف کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ” قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے قبل کم. ازکم ایک سو سے زائد مرتبہ اسلامی ریاست ،اسلام کے تصورات اور نظریات پر بات چیت یا گفتگو کی ہے اور قیام پاکستان کے بعد متعدد بار پاکستان کے نظامِ حکومت یا آئین کی تشکیل کے سلسلے میں اسلامی نظریات اور تصورات پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے لوگوں کو اور نئی نسل کو بالخصوص تاریخی حقائق سے باخبر کیا جائے.”
یہی اس کتاب کی وجہ تصنیف ہے. ڈاکٹر صاحب نے قائداعظم کی شخصیت اور ان کے تصورات و خیالات کو سمجھنے کے لیے جوف محققانہ فراست برتی ہے، وہ ان کے وسیع مطالعہ اور موضوع سے گہری وابستگی کا پتہ دیتی ہے۔ انہوں نے قائداعظم کے خاندانی پس منظر، بچپن اور لڑکپن کی ان تفصیلات کو اس مہارت سے پیش کیا ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے محمد علی جناح کی شخصیت کے ارتقا کا ایک واضح نقشہ ابھرتا چلا جاتا ہے۔ ان کی تعلیمی اور ازدواجی زندگی کے وہ پہلو، جو عام کتب میں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، اس کتاب میں اس طرح شامل کیے گئے ہیں کہ قائد کی شخصیت ایک جیتی جاگتی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے.
مصنف نے قائداعظم کے تصور پاکستان کو نہایت ہی واضح اور دوٹوک انداز میں بیان کیا ہے، جس سے یہ غلط فہمی پوری طرح دور ہوجاتی ہے کہ قائداعظم کا پاکستان ایک سیکولر ریاست تھی۔ ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے نہایت مدلل طریقے سے یہ ثابت کیا ہے کہ قائداعظم کا تصورِ پاکستان ایک ایسی اسلامی جمہوری ریاست تھا جہاں شہریوں کو ان کے مذہبی عقائد کی آزادی حاصل ہو، جہاں کا آئین اسلامی اصولوں سے ماخوذ ہو، اور جہاں کی حکومت عوام کی نمائندہ ہو۔ انہوں نے قائداعظم کی تقاریر، بیانات اور تاریخی دستاویزات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری خود اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ قائداعظم کی سیاسی بصیرت نے ہمیشہ ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جو اسلامی اقدار کا احترام کرتی ہو اور جدید جمہوری اصولوں پر بھی پوری اترتی ہو۔ کتاب کا سب سے قابلِ ستائش پہلو یہ ہے کہ مصنف نے قائداعظم کی فکر اور پاکستان کے آئین کے درمیان موجود رشتے کو نہایت عرق ریزی سے واضح کیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ آئین میں قائداعظم کے تصورات کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی کا اسلوب تحریر نہایت شستہ،سادہ ،پرکشش اور دلوں کو موہ لینے والا ہے۔ ان کی عبارت میں جہاں علمی پختگی اور جامعیت کا گہرا احساس ہے، وہیں ادب کی لطافت اور شائستگی بھی موجود ہے۔ ان کی تحریر میں ایک ایسی دلکشی ہے جو اس پیچیدہ موضوع کو بھی عام قاری کے لیے قابلِ فہم بنا دیتی ہے۔ ان کی علمیت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے تاریخ، سیاسیات اور مذہبی علوم کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح ہم آہنگ کیا ہے کہ کتاب ایک جامع اور مستند حوالے کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ مختصر یہ کہ “قائداعظم اور سیکولر سٹیٹ” ایک ایسی شاہکار تصنیف ہے جو نہ صرف طالب علموں اور محققین کے لیے قیمتی خزانہ ہے، بلکہ ہر اس پاکستانی کے لیے ضروری مطالعہ ہے جو قائداعظم کے حقیقی تصورات کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر صدیقی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف قائداعظم کی فکر کو درست تناظر میں پیش کیا ہے بلکہ قوم کے سامنے ایک ایسی روشن شہادت رکھ دی ہے جس کے بعد اب کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔