
بھوک، محبت اور عزت کا کڑا امتحان/تحریر /محمد اکبر خان
فلسطینی کہاوت ہے کہ
> “جن قوموں کے بچے بھوکے ہیں مگر سر جھکا کر نہیں مانگتے،
ان کے ماتھے پر تاریخ ہمیشہ تاج رکھتی ہے۔”
کہا جاتا ہے کہ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ انسان جب اپنی بنیادی ضرورت یعنی خوراک سے محروم ہو جاتا ہے تو آداب، اصول اور سماجی رویے سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پیٹ کی آگ وہ طاقت ہے جو انسان کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جنہیں وہ عام حالات میں کبھی نہ چنتا جن کا انتخاب تو دور کی بات کبھی ان کے قریب بھی نہ پھٹکتا.
اسی تناظر میں کہا گیا ہے کہ بھوک خاک میں ماں کی محبت کو ملا دیتی ہے۔ ماں جیسا مقدس رشتہ، جو دنیا میں سب سے بے لوث اور مضبوط مانا جاتا ہے، غربت اور بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے۔ کوئی ماں اپنے بچوں کو یتیم خانوں یا فلاحی اداروں کے حوالے کر دیتی ہے تاکہ وہ کم از کم زندہ رہ سکیں، اور کوئی ماں ایسی راہوں پر چل نکلتی ہے جہاں اپنی عزت اور وقار کو داؤ پر لگانا پڑتا ہے۔ یہ منظر صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کی ناکامی کا اعلان ہے، کیونکہ اگر بنیادی ضرورتیں پوری ہوں تو ممتا کبھی خاک میں نہ ملے۔ جب شام خون آشام درندے کے ماتحت تھا جس نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے بلا تفریق عوام الناس پر چڑھائی کر دی تو اہل ایمان کی ایک بڑی تعداد لبنان پہنچی جہاں کتنی ماؤں نے بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر عیسائیت اختیار کر لی اور کتنی ہی ان راہوں پر چل نکلیں جہاں عفت و عصمت دم توڑ دیتی ہے.
یہاں ایک پرانا قول یاد آتا ہے کہ عزت دولت سے بڑھ کر ہے۔ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو دولت کے انبار رکھتے ہیں مگر عزت سے محروم ہیں۔ فاحشہ کے پاس شاید مال و دولت کی کثرت ہو، لیکن اسے وہ احترام اور مقام کبھی نہیں ملتا جو ایک غریب مگر باعزت عورت کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ غربت عزت کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اور ناجائز دولت عزت کو مٹا دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھوک انسان کی بنیادی جبلت ہے اور عزت اس کی فطری ضرورت۔ اگر پیٹ خالی ہو تو اخلاق و تہذیب کمزور پڑ جاتے ہیں، اور اگر عزت چلی جائے تو دولت بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے لیے اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ اپنے افراد کو بھوک سے نجات اور عزت کے ساتھ جینے کا حق دے۔
یہ صرف حکومت یا ریاست کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا فرض ہے کہ وہ نئی نسل کو ایسے اقدار سکھائے جو انہیں باعزت، محنتی اور خوددار شہری بنائیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں صرف علم نہیں بلکہ ہنرمندی، کردار سازی اور حب الوطنی کی تعلیم کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
بچوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ ملک کی خدمت صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ ایمانداری، محنت اور دیانت سے کام کرنے سے ہوتی ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماج — سب کو یہ کردار ادا کرنا ہوگا کہ نئی نسل کو سکھائیں:
کوئی کام چھوٹا نہیں، کوئی محنت بے وقعت نہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے وطن کی عزت اپنی ذاتی عزت کا ہی دوسرا نام ہے۔
جب یہ شعور نسلوں میں رچ بس جائے تو قومیں بھوک، غربت اور ذلت کے طوفانوں سے نکل آتی ہیں —
اور پھر وہی جذبہ انہیں مظلوموں کی صف میں کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔
فلسطین کے عوام اس شعور اور غیرت کی زندہ مثال ہیں۔ وہاں بھوک اور غربت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، مائیں اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھتی ہیں، مگر ان کے دلوں میں عزت اور آزادی کی چنگاری بجھنے نہیں دیتیں۔ فلسطینیوں نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ کبھی کبھی بھوک اور خوف سے بھی زیادہ قیمتی چیز آزادی اور وقار ہوتی ہے۔ ان کے خیموں میں شاید روٹی نہ ہو، مگر غیرت اور عزم کی خوشبو اب بھی موجود ہے۔
جب ظلم اور قبضے کے سائے میں ایک پوری قوم سانس لے رہی ہو، تب بھوک ایک وقتی مسئلہ بن جاتی ہے. کیونکہ پیٹ کی بھوک تو چند لقموں سے مٹ سکتی ہے، مگر غلامی کی ذلت روح کو بھوکا رکھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بھوک، محبت اور عزت کا سب سے کڑا امتحان شروع ہوتا ہے.
جہاں مائیں اپنے بچوں کو بھوک سے تڑپتا دیکھ کر بھی ہتھیار نہیں ڈالتی،
جہاں جوان اپنی جان دے کر بھی سر نہیں جھکاتے،
اور جہاں عزت، محبت اور آزادی ایک دوسرے میں یوں مدغم ہو جاتے ہیں کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔
> بھوک جسم کو مار دیتی ہے، مگر بے عزتی قوم کو ناکارہ کر دیتی ہے.
اور جو قومیں عزت کے لیے بھوکی رہنا سیکھ جائیں، وہ کبھی مر نہیں سکتیں.
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
آتی ہو جس رزق سے پرواز میں کوتاہی