0

خواب/اخبار بینی کا عالمی دن/تحریر/محمد عارف سعید/جہانیاں

خواب/اخبار بینی کا عالمی دن/تحریر/محمد عارف سعید/جہانیاں

پاکستان بھر میں 25 ستمبر جمعرات کو اخبار بینی کا قومی دن منایا جارہا ہے،اس کا اہتمام اے پی این ایس(آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی) کی جانب سے ہر سال25ستمبر کو کیا جاتا ہے اس دن کے منانے کا مقصد موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی یلغار میں اخبارات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کی یلغار سے بچا کر اخبار بینی کی جانب راغب کرنا ہے۔ دور حاضر میں ملک بھر میں ٹیلی ویژن پر مختلف چینلز کی چوبیس گھنٹے کی نشریات اور ڈیجیٹل میڈیا کے باوجود اخبارات کی خبروں کو ہی سب سے قابل بھروسہ ذریعہ مانا جاتا ہے، فیک نیوز اور منفی پروپیگنڈے کیلئے سوشل میڈیا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہو رہا ہے،ایسے میں سوشل میڈیا کی یلغار کا مقابلہ کرنے اور نوجوان نسل کی ذہنی آبیاری کیلئے اخبارات و جرائد کے مطالعے کی جانب توجہ دلانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔راقم کا ایک پیارا دوست ”را ہ گیر “ ہے جس سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے وہ ایک ہی بات کہتا ہے کہ ”چھڈو جی ہن کیہڑے اخبار تے کیہڑے اخبارپڑھن دے قومی تے عالمی دن،ہن موبائل تے سوشل میڈیا دے عالمی دن منایا کرو“ !!!!۔راقم کے دوست راہ گیر کی بات بالکل درست ہے اب اخبار بینی کے بجائے موبائل بینی اور سوشل میڈیا کے ایام منائے جائیں تو ٹھیک رہے گا۔راہ گیر اس بات سے تو اتفاق کرتا ہے کہ حقائق پر مبنی سچی خبریں تو اخبارات میں ہی نظر آتی ہیں لیکن سچی بات یہ بھی کہ اخبارات کاتو اب دور ختم ہو چکا ہے اب تو سوشل میڈیا کا راج ہے۔ راقم نے اپنے دوست راہ گیر کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ واقعی اخبارات کا ایک دور تھا جبکہ صبح ہی صبح اخبار پڑھنا قارئین کیلئے ایک ”نشہ ہوتا تھا“،ناشتے کی ٹیبل پر اخبار موجود نہ ہوتا تو ناشتہ ادھورا تصور کیا جاتا تھااپنے شہر جہانیاں میں علی الصبح آٹھ سے دس اخبار فروش علاقہ میں اخبارات تقسیم کرنے نکل جایا کرتے تھے،بلا شبہ ہزاروں اخبارات تقسیم ہوتے تھے، شہروں اور دیہاتوں میں حمام،ہوٹلوں،سکول،کالج،ہسپتال،کارخانوں،فیکٹریوں،چائے خانوں،دکانوں کے باہر اور مختلف چوکوں چوراہوں پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوتا تھا جو کہ اخبارات پڑھ رہے ہوتے تھے،ان میں ایک بندے کو وی آئی پی درجہ حاصل ہوتا تھا وہ جو کہ اخبار کی سرخیاں پڑھ پڑھ کر دوسروں کو بلند آواز سے سنا رہا ہوتا تھا،گھروں میں اخبارات لازم وملزوم تھے،بڑے بڑے شہروں میں اخبارات کے سٹالز ہوتے تھے،بس اڈوں،ریلوے اسٹیشن اور دیگر مقامات پر اخبار فروش آواز لگا کر اخبار بیچا کرتے تھے۔راقم کو یاد ہے کہ جہانیاں سمیت ملک بھر کے سکول و کالجز میں طلبہ کیلئے کتب خانوں میں اخبار بینی کیلئے ایک مخصوص وقت مقرر کیا گیا تھا کتب خانوں میں ہر قسم کے اردو انگریزی اخبارات میسر ہوا کرتے تھے اور ہر ایک ایک طالب علم اپنی اپنی پسند کے اخبارات کا مطالعہ کیا کرتا تھا،آج صورتحال یکسر مختلف ہے آج کا نوجوان فیس بک،واٹس ایپ،ٹک ٹاک پر موجود خبر کو ہی مستند سمجھتا ہے جبکہ اس کے سامنے ٹیبل پر اخبار موجود ہو وہ اسے ہاتھ تک نہیں لگائے گا۔اپنے شہر جہانیاں کی اگر بات کروں تو کوئی وقت تھا یہاں بھی ہزاروں کی تعداد میں اخبارات آیا کرتے تھے۔راقم کو لڑکپن سے ہی مطالعہ کا شوق رہا ہے اخبارات سے تو یک گونہ عشق تھا اسی عشق کے ہاتھوں مجبور ہو کر موجودہ نیوز ایجنٹ مشبر کریم سے راہ و رسم پیدا کیے اور ”مفت“ میں تمام اخبارات پڑھنے کیلئے مبشر کریم کی شاپ پر جایا کرتا تھا اور اخبار سے عشق کا یہ سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔حاصل شدہ معلومات کے مطابق جہانیاں شہر میں اخبارات و جرائد فراہم کرنے کیلئے سب سے پہلے نیوز ایجنٹ مولوی عبدالکریم مرحوم و مغفور تھے جو کہ عبدالخالق خاکی ٹھیکیدار،عبدالباسط عرف باسی،عبدالماجد اور مبشر کریم کے والد محترم تھے۔بزرگ بتایا کرتے تھے کہ تب اخبار کی قیمت60پیسے ہوتی تھی روزنامہ مشرق لاہور،روزنامہ جنگ،ہفت روزہ چٹان،ملتان کے اخبارات میں امروز،نوائے وقت اور سنگ میل معرو ف اخبارات ہوتے تھے۔جہانیاں میں نیوز ایجنٹ مولوی عبدالکریم کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عبدالباسط باسی نے اخبارات کی ترسیل کی ذمہ د اری سنبھالی لیکن جلد ہی کنارہ کشی اختیار کر لی جس کے بعد مبشر کریم نے یہ ذمہ داریاں سنبھال لیں جو کہ تا دم تحریر جہانیاں میں نیوز ایجنٹ ہیں۔راقم کو تھوڑا تھوڑا یاد ہے کہ تب اخبار کی قیمت تین روپے ہوتی تھی جہانیاں شہر میں ملک نذیر مرحوم،رانا یامین،مولوی فدا حسین اور دیگر اخبارات تقسیم کیا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نئے نئے اخبارات متعارف ہوتے گئے جن میں جنگ گروپ والوں کا شام کا اخبار روزنامہ آواز بھی بہت پاپولر ہوا تھا تب اس کی قیمت ڈیڑھ روپے ہوتی تھی جبکہ سال1997ء کے لگ بھگ ملتان سے روزنامہ خبریں متعارف ہوا جس کے بعد جنوبی پنجاب میں اخبار بینی کو بے پناہ فروغ حاصل ہوا،خبریں گروپ والوں کی جانب سے شام کے اوقات میں روزنامہ نیا اخبار بھی متعارف کروایا گیا جبکہ انہی ایام میں وہاڑی کے معروف بزنس مین اکبر بھٹی مرحوم نے لاہور سے روزنامہ پاکستان اخبار متعارف کروا کر ایک تہلکہ مچا دیا تب اس اخبار کے چیف ایڈیٹر ضیاء شاہد مرحوم(چیف ایڈیٹر خبریں گروپ) ہوتے تھے اسی دوران لاہور سے ہی معروف صحافی مصطفی صادق کی زیر ادارت روزنامہ دن اخبار منظر عام پر آیاجس سے جہانیاں شہر میں اخبار بینی میں ایک مقابلے کی سی فضاء بن گئی۔جہانیاں کے معروف صحافی چوہدری محمد اسلم وفا مرحوم جہانیاں شہر میں روزنامہ پاکستان اورروزنامہ دن کے نیوز ایجنٹ تھے، ہفت روزہ زندگی اور کراچی کے معروف صحافی صلاح الدین کی زیر ادارت شائع ہونے والا ہفت روزہ تکبیر بھی آیا کرتا تھا جبکہ کراچی کا معروف اخبار جسارت بھی جہانیاں آیا کرتا تھا جو کہ ایک روز بعد دستیاب ہوتا تھا ان کے قارئین میں معروف ادبی شخصیت چوہدری محمد صادق مرحوم (لالہ صحرائی) قابل ذکر ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے احباب بھی ان کے قارئین تھے۔چوہدری محمد اسلم وفا مرحوم کی وجہ سے جہانیاں میں نوائے وقت کی شناخت ہوئی ان کا نوائے وقت میں ہفتے کے روز ”مکتوب جہانیاں“ کے عنوان سے شائع ہونے والا کالم آج بھی قارئین کو یاد ہے جبکہ چوہدری محمد اسلم وفا مرحوم نے علم کی روشنی (اخبار بینی) کو عام کرنے کیلئے اخبار فروشوں کی مدد سے جہانیاں شہر سے باہر پل چودہ،ٹھٹھہ صادق آباد،بدھلہ،مخدوم رشید سمیت ملحقہ علاقوں میں اخبارات کے قارئین پیدا کیے روزنامہ دن لاہور نے جہانیاں میں سرکولیشن کے ریکارڈ قائم کر دیے۔اخبار بینی کو جہانیاں میں عام کرنے میں مقامی صحافی عبدالمجید رحمانی مرحوم کا بھی اہم کردار رہا ہے انہوں نے جہانیاں شہر میں خانیوال کا ہفت روزہ اخبار شب و روز متعارف کروایا جبکہ میلسی کا اخبار عوامی گونج اور ملتان کا روزنامہ حرارت بھی انہوں نے ہی جہانیاں میں متعارف کروایا تھا ان کا ایک اخبار فروش اخبارات کے ترسیل کے دوران چوک میتلا کے قریب بس حادثے میں بھی جاں بحق ہو گیا تھا۔ان کے علاوہ مبشر کریم کے ہی قریبی عزیز عبدالصمد بلوچ بھی بدھلہ سنت میں بطور نیوز ایجنت اخبارات کی ترسیل کرتے رہے ہیں۔راقم نے بھی شوق چرایا تو نیوز ایجنٹ اور رپورٹر بن بیٹھا،سال یاد نہیں ہے،تب جہانیاں شہر میں ایک شریف النفس انسان قیام پذیر تھے ملک سکندرحیات اعوان ایڈووکیٹ مرحوم(اللہ کریم جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے،آمین)وہ سابق تحصیل نائب ناظم ملک اظہر حیات اعوان کے بھائی تھے۔ملک سکند رحیات اعوان مرحوم کا ملتان میں روزنامہ اعلان کے چیف ایڈیٹر ملک عبدالرحمن حر سے یارانہ تھا،میرا طالب علمی کا دور تھا تب ملک سکندرحیات اعوان ایڈووکیٹ مرحوم کی وساطت سے راقم پہلی مرتبہ روزنامہ اعلان کا نمائندہ اور نیوز ایجنٹ بنا تھا تب پانچ سو روپے سکیورٹی جمع کروائی تھی جو کہ آج کے پچاس ہزار کے برابر ہو گی،بعدازاں روزنامہ کارنامہ کے ساتھ منسلک ہو گیا۔اس کے بعد مبشر کریم کریم کی وساطت سے ٹھٹھہ صاداق آباد میں روزنامہ نوائے وقت اور خبریں کے نیوز ایجنٹ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔اخبارات پہلے بلیک اینڈ وائٹ شائع ہوتے تھے ایران عراق جنگ کے دوران جبکہ دنیا کی نظریں میڈیا پر ہی ہوتی تھیں پرنٹ میڈیا اور بی بی سی ریڈیو کو عروج حاصل تھا ایسے میں پاکستان میں سب سے پہلے اخبارات میں رنگین تصاویرروزنامہ پاکستان نے لگ بھگ1990کو شائع کیں جس کے بعد دیگر قومی اخبارات نے بھی اخبارات میں رنگ بھرنے شروع کر دیے ۔قومی اخبارات کی ایجنسیاں مبشر کریم کے پاس تھیں جن میں جنگ،خبریں،اوصاف،ایکسپریس،نوائے وقت اور دیگر اخبارات شامل تھیں اسی دوران مبشر کریم نے روزنامہ انصاف لاہور جہانیاں میں متعارف کروایا جو کہ بہت پاپولر ہوا۔جنوبی پنجاب میں اخبارات کی بڑھتی ہوئی سرکولیشن کو دیکھتے ہوئے بہت سے قومی اخبارات متعارف ہوئے جن میں سر فہرست روزنامہ ایکسپریس تھا،ملتان میں روزنامہ ایکسپریس کا آغاز ہوا تو اس کے شعبہ سرکولیشن کے ذمہ داران جہانیاں مبشر کریم کے پاس آئے اور انہیں ایکسپریس اخبار کی ایجنسی کی آفر کی تب راقم کی تجویز پر علاقائی خبروں کیلئے راقم کو ایکسپریس کا جہانیاں میں پہلا اعزازی نمائندہ مقرر کیا گیا تھا،راقم ایک عرصے تک بطور ”خبر نگار“ ایکسپریس اخبارات میں علاقائی مسائل کے حوالے سے خبریں بھجواتا رہا جس سے جہانیاں میں روزنامہ ایکسپریس کی سرکولیشن میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ کاروبار چمک جانے پر ایکسپریس اخبار نے مزید نئے رپورٹر بنا لیے۔ اخبارات کے عروج کا زمانہ رواں دواں تھا پھر وقت تبدیل ہو گیا اور سوشل میڈیا نے اپنے رنگ جمانے شروع کر دیے،اخبارات میں اشتہارات کی کمی اور کاغذ مہنگا ہونے سے قیمتیں بھی بڑھنے لگیں ساڑھے تین روپے سے اخبار کی قیمت پانچ روپے پھر سات روپے اور دس روپے تک پہنچ گئی جو کہ بڑھتے بڑھتے پینتیس چالیس اور پینتالیس روپے تک جا پہنچی ہے۔سوشل میڈیا کے آنے سے اخبارات کے قارئین کم نہیں ہوئے لیکن اخبارات کی تعداد کم ہونے لگی،صفحات کم ہونے لگے پندرہ بیس صفحات کا اخبار سکڑ کر آٹھ صفحات تک محدود ہو گیا،پہلے جب بھی ملک میں کوئی اہم واقعہ رونما ہوتا تو چند گھنٹوں ہی اخبار کا ضمیمہ شائع ہوجاتا تھا آج کل مکمل اخبار بھی ضمیمہ ہی محسوس ہوتا ہے،اخبارات آج بھی کشش رکھتے ہیں صبح ناشتے پر چائے کے ساتھ اخبار کے کاغذ کی مہک،اخبارات کے کالم،اداریے،سپورٹس صفحات،خبروں کی ترتیب،بہت کچھ ہے لیکن قارئین اب انتظار نہیں کر سکتے ہیں ان کے پاس موبائل فون اور انٹر نیٹ کنکشن ہے،پل پل کی خبریں آتی ہیں،تصاویر،کمنٹ سیکشن میں رنگا رنگ تبصرے،عوامی ردعمل اور سب کچھ ہوتا ہے،فیس بک،یوٹیوب،واٹس ایپ،ٹویٹر،انسٹا گرام جیسی ایپلی کیشنز نے اخبارات کو دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے،اس کے علاوہ سوشل میڈیا نے جدید موبائل رکھنے والے ہر بندے کو صحافی بنا دیا ہے،اب رپورٹر ہی نہیں ہر صاحب موبائل بندہ خبر اور تصویر اپ لوڈ کرسکتا ہے،اسی آزادی نے اخبارات کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے لیکن خبروں میں صداقت،معیار اور گہرائی کیلئے اخبارات کی اہمیت برقرار ہے،سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر کی تصدیق تب تک نہیں ہوتی جب تک کہ وہ خبر اخبار میں نہ چھپ جائے،اس کے باوجود من حیث القوم ہم سوشل میڈیا پر سنسنی خیز خبروں کے عادی بن چکے ہیں اگرچہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سوشل میڈیا پر جھوٹ کی بھرمار ہوتی ہے۔آج اگرچہ سوشل میڈیا کی موجودگی میں اخبارات زوال پذیر ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک میں اخبار بینی کی عادت ابھی تک موجود ہے،وہاں اخبار کی اہمیت ابھی تک برقرار ہے لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے،تعلیمی معیار کمزور،نوجوان نسل صرف اور صرف سوشل میڈیا و ٹک ٹاک کی رسیا نظر آتی ہے اسے مطالعے کا کوئی شوق ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اخبارات بہت پیچھے جا چکے ہیں۔اخبار اگرچہ ہماری روایت تھی،اخبار ہماری روایت ہے، اورراقم چاہتا ہے کہ یہ روایت برقرار رہے قوم موبائل فون،ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کے سحر سے باہر نکلے،پہلے کی طرح اخبار بینی عام ہو جائے پہلے کی طرح لوگ اخبار کا انتظار کریں اور ہر جانب اخبار ہی اخبار ہو جائیں۔لیکن شاید یہ خواب ہے اور خواب ہی رہے گا !!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں