
فخرِ پاکستان: شہیدِ پاکستان، جنرل محمد ضیاء الحق رحمہ اللہ
تحریر ـــــ محمد حسنین معاویہ
پاکستان کی تاریخ ایسے عظیم سپوتوں سے مزین ہے جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملت اسلامیہ کی بقا اور پاکستان کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دیں۔ انہی شخصیات میں ایک نمایاں نام فخرِ پاکستان، شہیدِ پاکستان اور امت مسلمہ کے عظیم رہنما جنرل محمد ضیاء الحق رحمہ اللہ کا ہے۔ ان کی زندگی عزم، قربانی اور خدمتِ اسلام کا ایسا روشن مینار ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
محمد ضیاء الحق 12 اگست 1924 کو جالندھر (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور بعد ازاں فوجی زندگی کا انتخاب کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ پاک فوج میں شامل ہوئے اور اپنی غیر معمولی قابلیت، دیانت داری اور جرأت مندی کے باعث ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے جلد ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ ان کی شخصیت میں وقار، سنجیدگی اور خدمتِ اسلام کا جذبہ ہمیشہ نمایاں رہا۔
جنرل ضیاء الحق 1977 میں پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کے نظریاتی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ ان کے دور میں ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔ زکوٰۃ و عشر کا نظام، سود کے خلاف عملی قدم، حدود آرڈیننس، اسلامی بینکاری اور نصاب میں قرآن و سنت کو شامل کرنے جیسے اقدامات ان کی اسلامی فکر اور دینی غیرت کی زندہ مثال ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو صحیح معنوں میں “اسلامی جمہوریہ پاکستان” بنانے کی بنیاد ڈالی۔
جنرل ضیاء الحق کا سب سے بڑا کارنامہ افغان جہاد کی سرپرستی تھا۔ جب روس نے افغانستان پر جارحیت کی، تو جنرل ضیاء نے امت مسلمہ کی غیرت کا علم بلند کیا۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کو روسی توسیع پسندی سے بچایا بلکہ پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی کا پرچم لہرایا۔ افغان مجاہدین کی مدد کرکے انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان غلامی قبول نہیں کرتے۔ ان کی بصیرت اور حکمت عملی کے نتیجے میں سوویت یونین جیسی سپر پاور کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ کارنامہ ہے جس نے نہ صرف امت مسلمہ کے وقار کو بلند کیا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم مقام دلایا۔
17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ایک فضائی حادثے میں جنرل ضیاء الحق شہید ہو گئے۔ اس حادثے نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ بلاشبہ یہ کوئی عام حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک عظیم رہنما کو امت مسلمہ سے چھین لیا گیا۔ ان کی شہادت آج تک ایک راز میں لپٹی ہوئی ہے، مگر یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ان کی شہادت پاکستان اور عالم اسلام کے دشمنوں کے لیے خوشی کا باعث بنی۔ ان کی رخصتی سے پاکستان ایک ایسے قائد سے محروم ہو گیا جو نہ صرف قوم کو اسلام کے سنہری اصولوں پر جمع کر رہا تھا بلکہ امت مسلمہ کو ایک قوت بنانے کی جدوجہد میں مصروف تھا۔
جنرل ضیاء الحق کی شہادت پاکستان کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔ ان کے بعد ملک میں نظریاتی قیادت کا خلا پیدا ہوا، اور دشمن قوتوں کو موقع ملا کہ وہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو کمزور کریں۔ آج بھی بہت سے دانشور اور مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر جنرل ضیاء زندہ رہتے تو پاکستان ایک مختلف اور زیادہ مضبوط اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرتا۔ ان کی شہادت نے نہ صرف پاکستان بلکہ امت مسلمہ کو بھی کمزور کیا، کیونکہ وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی آواز بنے ہوئے تھے۔
جنرل محمد ضیاء الحق شہید رحمہ اللہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو اسلام، پاکستان اور امت مسلمہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ دین کی سربلندی اور وطن کی حفاظت کے لیے وقف تھا۔ وہ سچ مچ کے “شہید پاکستان” تھے۔ ان کی شہادت نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ اسلام کی خدمت اور پاکستان کے دفاع کے لیے قربانی کا راستہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آج بھی ان کی یاد ایک چراغ کی طرح دلوں کو منور کرتی ہے، اور ان کا نام تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔