
پاکستان کا یومِ دفاع اور قومی وحدت کا پیغام
تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی
یوم دفاع پاکستان ہر سال 6 ستمبر کو اس عہد کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے کہ پاکستان کے دفاع، خودمختاری اور سلامتی پر کوئی آنچ آنے نہیں دی جائے گی۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہماری مسلح افواج، عوام اور پوری قوم نے مل کر دشمن کی جارحیت کو کس طرح شکست دی اور وطن کی سرحدوں کو محفوظ بنایا۔ 1965 کی جنگ کے پس منظر اور اس کے اثرات نہ صرف عسکری تاریخ میں سنہرے باب کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ یہ قوم کے اتحاد، قربانی اور وطن سے محبت کی ایک لازوال داستان ہے۔ 6 ستمبر 1965 کی صبح بھارت نے رات کی تاریکی میں اچانک لاہور کے محاذ پر حملہ کر دیا۔ دشمن کا گمان یہ تھا کہ پاکستانی افواج کو اچانک حملے میں شکست دے کر وہ چند ہی دنوں میں لاہور فتح کر لیں گے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی بنیادوں کو ہلا دیں گے۔ لیکن بھارت یہ بھول گیا تھا کہ پاکستان کی سرزمین کے بیٹے جاگ رہے ہیں اور وطن کی ایک ایک انچ زمین کے دفاع کے لیے کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ پاک فوج نے جس جرات، دلیری اور عزم کا مظاہرہ کیا اس نے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔ اس دن کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ پاکستانی عوام فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ لاہور کے شہری، کراچی، کوئٹہ، پشاور، چمن، سوات اور گلگت بلتستان کے عوام نے یک زبان ہو کر یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے جو کبھی کسی جارحیت کے آگے سر نہیں جھکائے گی۔ ہر گلی، محلے اور بازار سے یہی صدائیں بلند ہو رہی تھیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ( لا الہ الا اللہ ) خواتین نے گھروں سے کھانے تیار کر کے محاذ پر روانہ کیے، نوجوانوں نے خون کے عطیات دیے اور بچے اپنی جیب خرچ فوجی بھائیوں کے لیے وقف کرنے لگے۔ یہ وہ اتحاد تھا جس نے پوری قوم کو ایک جسم بنا دیا تھا۔ اس جنگ کے ہیرو بے شمار ہیں جنہوں نے اپنے خون سے تاریخ لکھی۔ میجر عزیز بھٹی شہید نے لاہور کے محاذ پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا لیکن دشمن کو آگے نہ بڑھنے دیا۔ پاک فضائیہ کے جوانوں نے بھی اپنی مثال آپ قائم کی۔ ایم ایم عالم کا نام آج بھی تاریخ کے روشن باب کے طور پر زندہ ہے جنہوں نے ایک ہی منٹ میں پانچ بھارتی طیارے تباہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ ان کی بہادری نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے۔ اسی طرح بری اور بحری فوج کے جوانوں نے بھی اپنی جرات اور استقامت سے دشمن کو ناکام بنایا۔ پاکستان کی افواج نے اس جنگ میں جو حکمت عملی اپنائی وہ دشمن پر کاری ضرب تھی۔ بھارتی فوج تعداد اور اسلحے میں برتری رکھتی تھی لیکن پاکستانی فوج نے اپنی تنظیم، تربیت اور ولولہ ایمانی سے اسے ناکام کر دیا۔ یہ صرف توپوں اور ٹینکوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ ایمان اور یقین کی جنگ تھی جس میں پاکستانی فوج کے جوان نعرہ تکبیر (اللہ اکبر) بلند کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے دیکھا کہ چھوٹی مگر پرعزم فوج نے بڑی اور طاقتور فوج کو میدان میں شکست دی۔ اس دن کو منانے کا مقصد صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ اپنی نئی نسل کو یہ بتانا ہے کہ آزادی اور سلامتی کی قیمت ہمیشہ قربانیوں سے ادا کی جاتی ہے۔ اگر آج ہم آزاد فضاء میں سانس لے رہے ہیں تو یہ انہی شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ یوم دفاع ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جب بھی وطن کو خطرہ لاحق ہو گا پوری قوم اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ یقیناً 1965 کی جنگ کے بعد پاکستان نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا مگر قوم کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوئے۔ اس جنگ نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اور دشمن لاکھ سازشیں کرے اس کو کبھی کامیابی نہیں ملے گی۔ یہ دن ہمارے دلوں میں یہ جذبہ اجاگر کرتا ہے کہ ہم سب کو اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہوگا کیونکہ داخلی اتحاد ہی دفاعی قوت کی اصل بنیاد ہے۔
یوم دفاع کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، شہداء کی قبور پر حاضری دی جاتی ہے اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ ملک بھر اسکولز بالخصوص گورنمنٹ پرائمری سکول مدرسہ بحرالعلوم گھوڑا ہسپتال روڈ چمن اور کالجز میں تقاریر، ملی نغمے اور مشاعرے منعقد ہوتے ہیں جن میں طلبہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ میڈیا پر خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں تاکہ نئی نسل کو بتایا جا سکے کہ پاکستان کن قربانیوں سے حاصل کیا گیا اور کن قربانیوں سے اس کی حفاظت کی گئی۔ 6 ستمبر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دشمن کبھی موقع ملنے پر ہمیں کمزور کرنے سے باز نہیں آتا۔ آج بھی پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ کبھی دہشت گردی کی صورت میں، کبھی سیاسی عدم استحکام میں اور کبھی معاشی مشکلات کی شکل میں۔ ایسے میں ہمیں اپنے شہداء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک کی حفاظت کرنی ہے۔ ہماری اصل طاقت ہمارا اتحاد، ایمان اور قربانی کا جذبہ ہے۔ جب تک یہ جذبہ زندہ ہے پاکستان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستان کی عوام اور افواج کا یہ رشتہ لازوال ہے۔ 1965 میں بھی یہ رشتہ اپنی انتہا پر نظر آیا اور آج بھی یہ رشتہ قائم ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے شہداء کو یاد رکھتی ہیں اور ان کے خون کی قدر کرتی ہیں۔ پاکستان کے شہداء نے اس وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور ہمیں یہ سبق دیا کہ وطن کی مٹی کی حفاظت سب سے بڑی عبادت ہے۔ یقیناً وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ دفاع صرف ہتھیاروں سے نہیں ہوتا بلکہ تعلیم، معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی سے بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے شہداء کے وارث ہیں تو ہمیں ہر شعبہ زندگی میں محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ پاکستان ایک مضبوط اور خوشحال ملک بن سکے۔ یوم دفاع کی اصل روح یہی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو یاد رکھیں، اپنی قربانیوں کو فراموش نہ کریں اور اپنے آنے والے کل کو محفوظ بنانے کے لیے آج سے ہی محنت کریں۔ یہ دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہی کامیابی کا راز ہے اور اتحاد کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ 6 ستمبر کا دن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم سب پاکستانی ایک ہیں اور ہمارا مقصد بھی ایک ہے یعنی پاکستان کی سلامتی اور بقا۔ 1965 کی جنگ میں پاکستانی قوم نے جو کردار ادا کیا وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ اس دن کو منانے سے ہمارے اندر حب الوطنی کے جذبات تازہ ہوتے ہیں اور یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے وطن کی آزادی اور وقار کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ یہ دن اس پیغام کا دن ہے کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا کیونکہ یہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں سے حاصل کیا گیا ہے اور لاکھوں شہداء کی قربانیوں سے ہی قائم ہے۔ لہٰذا یوم دفاع صرف ایک دن کی تقریب نہیں بلکہ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو ہمیں ہر وقت زندہ رکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد، اپنی سوچ میں مثبتیت اور اپنے عمل میں خلوص پیدا کرنا ہوگا۔ یہی اصل پیغام ہے جو 6 ستمبر ہمیں دیتا ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں تو پاکستان ان شاء اللہ دنیا کی عظیم ترین قوموں میں شمار ہو گا۔