میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے/تحریر/ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن 0

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے/تحریر/ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے/تحریر/ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن

ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں صحرائی علاقے کا سفر درپیش ہوا۔ ہم ایک تانگے پر سوار تھے کہ اچانک فضا کا رنگ بدلنے لگا۔ آسمان پر گرد کے بادل چھا گئے اور ہوا کے دوش پر خوف کے سائے لہرانے لگے۔ تانگے والے نے گھوڑے کو روک لیا اور گھبراہٹ کے عالم میں بولا: یہ خطہ تیز و تند آندھیوں کے لیے مشہور ہے۔ ایسی آندھیاں جو بڑی بڑی چیزوں کو جڑ سے اکھاڑ کر آسمان کی وسعتوں میں بکھیر دیتی ہیں۔ آج کے آثار بتا رہے ہیں کہ انہی میں سے ایک خوفناک آندھی آ رہی ہے۔ اگر اپنی جان بچانی ہے تو تانگے سے اتر جائیے اور بچاؤ کی تدبیر کیجیے۔ہم نے جلدی سے تانگے سے قدم باہر رکھا اور ایک درخت کی طرف لپکے کہ شاید اس کی اوٹ میں کچھ پناہ مل سکے۔ مگر تانگے والے نے ہمیں دیکھ لیا۔ اس کی آواز میں لرزہ تھا، وہ چیخ اٹھا: خبردار! درخت کی پناہ نہ لیجیے۔ یہ آندھی بڑے بڑے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ ان کے قریب جانا موت کو دعوت دینا ہے۔ اس طوفان سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ آپ کھلی زمین پر اوندھے منہ لیٹ جائیں۔ہم نے اس کی ہدایت پر عمل کیا۔ خاک آلود زمین پر جھک کر منہ کے بل لیٹ گئے۔ کچھ لمحے گزرے تھے کہ آندھی نے پوری شدت سے حملہ کیا۔ فضا میں قیامت کا سماں تھا۔ درخت دھڑام سے گرتے، شاخیں ٹوٹ کر اڑتی، اور ریت کے طوفان نے ہر منظر کو نگل لیا۔ لیکن زمین کی سطح پر ہم محفوظ تھے۔ طوفان ہمارے سروں کے اوپر سے گزر گیا اور ہمیں چھو تک نہ سکا۔کچھ دیر بعد جب ہوا کا شور تھما اور گرد و غبار بیٹھنے لگا تو ہم اٹھ کھڑے ہوئے۔یہ منظر دیکھ کر دل کانپ اٹھا۔ کئی درخت جڑ سے اکھڑ گئے تھے، کئی ٹوٹ کر بکھر گئے تھے۔ مگر ہم سلامت کھڑے تھے۔
یہ واقعہ آج کی دنیا کی ایک روشن تمثیل ہے۔ آج بھی زندگی طوفانوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ طوفان کبھی جھوٹی شہرت کے، کبھی مادیت پرستی کے، کبھی سوشل میڈیا کی اندھی مقبولیت کے، اور کبھی سیاسی و سماجی انتشار کے روپ میں ہم پر ٹوٹتے ہیں۔ ایسے میں انسان فطری طور پر کسی بڑی طاقت یا بڑے سہارا دینے والے کے قریب ہونا چاہتا ہے۔ کوئی اپنی امیدیں سیاسی جماعتوں سے وابستہ کرتا ہے، کوئی بڑے کاروباریوں اور سرمایہ داروں کو مضبوط پناہ گاہ سمجھتا ہے، کوئی طاقتور اداروں کے سائے میں عافیت ڈھونڈتا ہے، اور کوئی شخصیات کے جاہ و جلال کو اپنا سہارا بنا لیتا ہے۔ لیکن وقت کا تجربہ گواہ ہے کہ یہ سب درختوں کی مانند ہیں۔ جب تیز آندھیاں چلتی ہیں تو یہ سب اپنی جڑوں سمیت اکھڑ جاتے ہیں۔ ان پر بھروسہ کرنا درخت کے نیچے پناہ لینے جیسا ہے۔یعنی موت کو دعوت دینا۔
اصل بچاؤ کا راستہ وہی ہے جو صحرا کے مسافر نے اختیار کیا تھا: اپنی انا کو زمین پر رکھ دینا۔ عاجزی اپنانا، سادگی کو شعار بنانا، حقیقت پسندی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بلند کر دیتا ہے۔” (ابن ماجہ)
بے شک یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے: جو رب کے سامنے جھک گیا، وہی زمانے کے طوفانوں میں سرخرو ہوا۔ عاجزی ہی اصل بلندی ہے، یہی غلامی اصل آزادی ہے، اور قربِ الٰہی ہی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے/تحریر/ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں