قومی اتحاد اور ہماری ذمہ داری از قلم ام حسن
اتحاد
اتحاد کے لغوی معنی ہیں۔ ”ایک ہونا“ دو یا دو سے زیادہ افراد، گروہ کا مل جانا اتحاد کہلاتا ہے، پھر اگر اتحاد کا لفظ اتحاد عالم پر بولا جائے تو مطلب دنیا کے مختلف ممالک چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کا ایک بات پر متفق ہونا اور اگر عالم اسلام کی بات کی جائے تو مطلب ہے تمام مسلمان ممالک کا ایک ہونا اور اگر قومی اتحاد کی بات کی جائے تو مطلب ہے کسی ملک میں رہنے والے لوگوں کا متفق اور متحد ہونا۔
فرد قائم ربت ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں۔
اتحاد میں بڑی طاقت ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ قوم کی بقاء اور سلامتی کے لیے اتحاد ناگزیر ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ہمارا ملک اس وقت بہت سی مشکلات کا شکار ہے بیرونی قوتیں ہمارے ملک میں انتشار پھیلانے کی بھرپور کوشش میں ہیں، ایسے میں مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں۔ اتحاد کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ مسلمانوں کی اسی اتحاد کی کمی کو علامہ اقبال نے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
منفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایک۔
ایک ہی سب کا نبی بھی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک۔
علامہ اقبال کی نظر میں اتحاد کی اہمیت
علامہ اقبال ذات پاک، نسل پرستی اور جغرافیائی حدود سے مسلمانوں کو آزاد تصور کرتے ہیں۔ یعنی مسلمان دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں وہ ایک قوم ہیں۔
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں۔
اسلام میں اتحاد کی اہمیت
اسلام ہمیں بار بار متحد ہونے کا درس دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی مسلمانوں کو کئی مقامات پر اتحاد کے رشتے میں بندھنے کا کہتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
”سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔“
(سورہ ال عمران)
مسلمانوں کا باہمی اتفاق و اتحاد اختلافات کی نظر نہ ہو جائے اور کہیں یہ علاقائی، قومی، لسانی، تعصب میں مبتلا ہو کر آپس کے جھگڑوں میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اللہ تعالی نے صلح کو پسند کیا ہے جیسے کہ ارشاد ہے۔
”تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں لہذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان ملاپ کر لیا کرو۔ (سورۃ الحجرت)
قرآن پاک نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اختلافات کی وجہ سے تم کمزور پڑ جاؤ گے اور بیرونی قوتیں تمہارے اوپر حملہ آور ہوں گی۔ اللّٰہ کا ارشاد ہے۔
”اللّٰہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔“ (سورۃ الانفال)
احادیث میں اتحاد کی اہمیت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں انصار اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنا کر اتحاد کی بہترین مثال قائم کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو متحد رہنے کی بے انتہا تلقین کی۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر فرمایا۔ ”میں اپنے بعد تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ جن کو مضبوطی سے پکڑو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا میری سنت۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح کی بات کو بہت پسند کرتے تھے خود موجود ہوتے تو کسی بھی دو جھگڑنے والوں کے درمیان خود صلح فرماتے، یہاں تک کہ کفار بھی آپ سے صلح کروا لیا کرتے تھے۔ معلوم تھا کہ انصاف کے ساتھ صلح کریں گے۔ ابو دردہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں روزہ، صدقہ اور زکوۃ سے بھی افضل چیز بتاؤں۔ ہم نے کہا کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا لوگوں کے درمیان باہمی خلش کو دور کرنا اور صلح کر دینا۔(سنن ابو داؤد 4919)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم کی طرح قرار دیا ہے کہ جس کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔ ارشاد ہے۔ ”تم مومنوں کو آپس میں رحم کرنے محبت رکھنے اور مہربانی کرنے میں ایسا پاؤ گے جیسے کہ ایک بدن ہو جب اس کے کسی عض میں تکلیف پہنچتی ہے تو پورے جسم کے سارے اعضاء بے خوابی، بے تابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔“ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اتحاد کامیابی کا ذریعہ
تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اپنی عظیم ثقافت اور ملی اتحاد اور دین کے ساتھ جڑے رہے تو اس وقت کے سپر پاورز بھی مسلمانوں کے زیر نگین آئے اور دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو زیر نہ کر سکی۔ لیکن جب مسلمان اختلاف میں مبتلا ہوئے تو انتشار نے انہیں آ لیا۔
وطن عزیز پاکستان میں بھی ہم نے پچھلے دنوں یہ خوبصورت نظارہ دیکھا کہ دشمن نے اگرچہ رات کے اندھیرے میں بزدلانہ کاروائی کی لیکن پوری قوم نے مکمل اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”بنیان مرسوس“ کا مکمل ساتھ دیا، تو اللہ کی مدد شامل حال رہی اور دشمن کو ناکو چنے چبوانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
اس ملک خداداد میں کئی قسم کی زبانی بولی جاتی ہیں مثلا سندھی، بلوچی، سرائکی، بروہی، پنجابی، پشتو، فارسی، ہنکو اور بہت سے علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن کسی زبان اور قوم کی وجہ سے تعصب میں پڑھنا پوری قوم کے لیے ناسور کا کام کرتی ہے۔ تعصب کی بنا پر ہمارا ملک مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور اسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ”جو عصبیت پر مرا وہ جہالت پر مرا اور جو عصبیت کا علمبردار ہو وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مرا وہ بھی ہم میں سے نہیں۔“ (سنن ابن ماجہ 3948)
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں جب فتوحات کا سیلاب رواں جاری تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے سپہ سالاروں سے مسلسل یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالی نے ہمیں اسلام کی وجہ سے عزت دی ہے۔ اسی بات کو علامہ اقبال نے بڑے اچھے انداز میں بیان کیا ہے۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قران ہو کر
الطاف حسین حالی کا شعر ہے۔
قوم جب اتفاق کھو بیٹھی
اپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
ملک خداداد پاکستان میں اندرونی اور بیرونی خلفشار کی وجہ سے قوم مختلف سیاسی، لسانی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک قوم ہو کر ثابت کریں کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان جب متحد ہو جائیں تو انہیں ہرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور پاکستان کو اللہ تعالی نے تمام امت مسلمہ میں جو مقام عطا کیا ہے اس کے لیے ہمارے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم پاکستان کو ان معمولی اختلافات اور ان سیاسی جھگڑوں کی نظر نہیں کرسکتے لہذا اپنی نوجوان نسل اور بچوں کو اپنی سنہری تاریخ بتانی ہوگی اور ایک مضبوط نسل تیار کرنی ہوگی تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ہر ممکن کوشش کریں گے تو انشاءاللہ اللّٰہ پاک کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی۔