
*عنوان “نوجوان اور محنت”*
*مضمون نگار: نوید شہزاد*
محنت خواہ زندگی کے کسی میدان میں کی جائے آدمی کو ترقی نصیب ہوتی ہے. اگر غور سے دیکھا جائے تو نظامِ کائنات کی کسی شے کو ثبات (سکون) نہیں، شمس و قمر مسلسل حرکت میں ہیں، رات دن میں کہیں سکون نہیں، موسموں میں ٹھہراؤ نہیں، پانی، ندی نالوں میں قرار نہیں، غرض ہر طرف زندگی پکار پکار کر کہہ رہی ہے.
“زندگی حرکت اور محنت کا نام ہے” جہاں ٹھہر گئے وہی منزل ہو گئی خواہ ادھوری یا مکمل.
جن قوموں نے دنیا میں عروج و اقبال پایا ہے ان کی زندگی جُہدِ مسلسل سے تعبیر ہے. محنت کرنے والوں نے جب سمندر کا رُخ کیا تو اس کے سینے کو چیر کر اس کی تہوں تک کو کھنگال لیا. ہواؤں کی طرف مڑے تو فضاؤں سے نکل کر خلاؤں تک جا پہنچے اور نئی زمینیں تلاش کر لیں.
برگ و بار پر نگاہ ڈالی تو ان کی باریک پتیوں کے بھی جگر چاک کر کے دیکھ لیے. کھالِ ٹہنی سے لے کر زمین میں دفن ان کی جڑوں تک سے علوم و فنون کے دفن خزینے باہر نکالے. میدانِ محنت کا رُخ جب خود انسان کی طرف بڑھا تو دل کی ڈھڑکنوں سے لے کر رگوں، پٹھوں کی ماہیت و کیفیت تک معلوم کر لی. خون کے اجزائے ترکیبی معلوم ہوئے. دماغ کی فکری گہرائیوں میں اترے تو تخریب و تعمیر کے نئے جہاں سامنے لائے گئے. خشکی و تری کو اس قدر باریکی اور گہرائی سے دیکھا کہ اس کی تہہ میں پوشیدہ ذرہ برابر نفع بھی ڈھونڈ نکالا.
عناصر کی تقسیم و تجزی اور تجزیہ و تحلیل ایٹم کی تلاش تک جا پہنچی. پھر ایٹم کی تقسیم کے عمل نے دنیا کو “ایٹم بم” دیا.
آج ہمارے نوجوانوں کے اندر اگر محنت کرنے کا شوق ترقی کر جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی.
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محنت کو اپنائیں. تن آسانی کی زندگی کامیاب زندگی نہیں ہے. کامیاب زندگی ہمیشہ محنت، لگن، مجاہدے کی زندگی ہوا کرتی ہے.
دنیا کے مشہور سائنسدان آئن سٹائن کے بارے میں لکھا ہے کہ بچپن میں جب سکول پڑھنے جاتا تھا تو اس کو پیسوں کا حساب نہیں آتا تھا. وہ اکثر اوقات کنڈیکٹر سے لڑتا تھا کہ تو نے اتنے پیسے لینے تھے اور اتنے پیسے واپس کرنے تھے، جب حساب کیا جاتا تو کنڈیکٹر ٹھیک ہوتا.
جب دو چار مرتبہ ایسا ہوا تو ایک مرتبہ کنڈیکٹر نے کہہ دیا کہ تو بھی کیا زندگی گزارے گا تجھے تو جمع تفریق نہیں آتی. وہ بات اس کے دل میں بیٹھ گئی تو کہنے لگا اچھا میں حساب پڑھوں گا. اب اس نے Mathematics پر محنت کرنا شروع کر دی. محنت کرتے کرتے ایک وقت وہ بھی آیا کہ اس نے Theory of Relativity (نظریہ اضافت) پیش کر کے دنیا کی سائنس میں ایک انقلاب پیدا کر دیا. سچ ہے کہ محنت کا پھل ضرور ملتا ہے.
ایک مرتبہ کالج کے ایک فنکشن میں ڈاکٹر عبدالسلام (نوبل پرائز ونر) مدعو تھے. چائے کی پارٹی میں سب اکٹھے ہوئے آپس میں بات چیت ہوئی. ایک پروفیسر نے عبدالسلام سے پوچھ لیا کہ آپ نوبل پرائز ونر کیسے بنے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں بہت محنتی ہوں. اس پروفیسر نے کہا کہ سائنس سٹوڈنٹس تو سارے ہوتے ہی محنتی ہیں، سارے ہی پڑھاکو ہوتے ہیں، اس نے کہا نہیں میں زیادہ محنتی ہوں. اس پروفیسر نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب وہ کونسی محنت ہے جو دوسرے لڑکے نہیں کرتے، سب سائنس پڑھنے والے لڑکے بڑے ذہین ہوتے ہیں بڑی محنت کرتے ہیں لیکن نوبل پرائز ونر تو نہیں بنتے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ نہیں میں بڑا محنتی ہوں پھر کہا میں ذہین اتنا نہیں ہوں محنتی زیادہ ہوں. انہوں نے بڑی عجیب مثال دی، ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے کیمسٹری کی ایک کتاب پڑھی وہ مجھے سمجھ نہیں آئی میں نے پھر پڑھی مجھے سمجھ نہیں آئی میں نے تیسری مرتبہ پڑھی مجھے سمجھ نہیں آئی حتی کہ میں نے اس کتاب کو تریسٹھ مرتبہ پڑھا وہ کتاب مجھے تقریباً حفظ ہو گئی.
اس بات کو سن کر سب حیران ہوئے، واقعی جس کے اندر اتنی محنت کا شوق ہو تو وہ مستحق ہے کہ اسے دنیا میں نوبل پرائز دیا جائے.
اس محنت اور کوشش نے ذرہ کو حیات بخشی، اس اندھیری دنیا کو جھلملاتی روشنیاں دیں، پرِ پرواز دیا، تیرنے کے لیے کندھا دیا، زمین کی تہوں میں اترنے کو زینہ دیا، کہکشاؤں تک پہنچنے کو سفینہ دیا. محنت کے آگے فلک بوس پہاڑ زمین بوس ہوئے اور خود محنت کی ہمتیں آسمان کے کناروں کو چھونے لگیں، سمندر سمٹ کر قطرہ بنے اور خود اس کے جذبات کا سمندر گہرا ہوا، اس محنت نے نئے جہاں ڈھونڈ دئیے مگر یہ سب کچھ کیا تن آسانیوں، راحت پسندیوں، خوابوں کی سر مستیوں، شکم پرستیوں کا مرہونِ منت تھا؟ ہرگز نہیں، یہ فقط محنت کا ہی مرہونِ منت تھا.
دوستو!یہ محنت و کوشش کسی کی میراث اور جاگیر نہیں، ادنٰی کرے اعلٰی بن جاتا ہے اور اعلٰی کرے تو اعلٰی تر بن جاتا ہے.لہذا آپ بھی آج ہی سے محنت کو شعار بنالیں۔