24

بسوں کے ڈرائیوروں کی لاپرواہی/تحریر/ اقراء جبین، ہارون آباد

انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ تحریر لکھ رہی ہوں کیونکہ بعض اوقات ایسے واقعات سننے یا دیکھنے کو ملتے ہیں کہ دل درد سے بھر جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسو خودبخود رواں ہو جاتے ہیں۔ جب آپ ان حادثات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں یا وہ آپ کے ساتھ پیش آتے ہیں، تو یہ تکلیف مزید بڑھ جاتی ہے۔
بسیں ہماری سہولت کے لیے بنائی گئی ہیں تاکہ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ باآسانی سفر کر سکیں، لیکن بعض اوقات ڈرائیوروں کی غفلت کے باعث یہ سہولت خطرہ بن جاتی ہے اور کئی حادثات جنم لیتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بسوں کے ڈرائیور اکثر آپس میں ریس لگاتے ہیں، جس کی وجہ سے بسیں اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتیں اور حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ڈرائیور اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ انہیں بس میں سوار مسافروں کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ وہ اپنی دھن میں چند ہزار روپے کی شرطوں کے پیچھے ایسی قیمتی جانیں گنوا دیتے ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ وہ بسیں اتنی تیز چلاتے ہیں جیسے نشہ کر کے گاڑی چلا رہے ہوں۔
اب تک ہزاروں خاندان ڈرائیوروں کی نااہلی اور ریس کے شوق کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان حادثات کے دوران کئی ڈرائیور بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لیکن ان متاثرین کو انصاف نہیں ملتا۔ آخر میں بات صلح صفائی پر ختم ہو جاتی ہے، اور یوں یہ مسئلہ مزید بگڑتا چلا جاتا ہے۔
اسی طرح لکڑیوں سے بھرے ٹرالے اور کپاس سے لدے ٹرالے بھی حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ یہ ٹرالے اس قدر بھرے ہوتے ہیں کہ ان کی سائیڈیں باہر کو نکلی ہوتی ہیں، اور روزانہ کی بنیاد پر ان کی وجہ سے حادثات پیش آتے ہیں۔ ٹریفک پولیس نہ انہیں روکتی ہے اور نہ ہی ان کے چالان کرتی ہے۔ قانون پر عملدرآمد کی شدید کمی نظر آتی ہے۔
آج کل سردیوں کا موسم ہے، اور دھند کے باعث ٹریفک کو آہستہ چلایا جانا چاہیے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے، لیکن یہاں قانون کا کوئی اطلاق نظر نہیں آتا۔ ایسے واقعات زیادہ تر چھوٹے شہروں میں پیش آتے ہیں کیونکہ وہاں نہ تو ٹریفک رولز ہیں اور نہ ہی ٹریفک سگنلز۔
میری حکومتِ وقت سے اپیل ہے کہ ان حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ٹریفک پولیس اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرے۔ ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں