علی کاکڑ 0

پاکستان کی کہانی – میں بدلوں گا /تحریر/علی کاکڑ

پاکستان کی کہانی – میں بدلوں گا /تحریر/علی کاکڑ

1947 میں پاکستان
دنیا کے نقشے پر ایک نئے وطن کے طور پر اُبھرا، وسائل محدود، بنیادی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور بے شمار چیلنجز کے ساتھ۔ لاکھوں افراد صرف امید اور نئے وطن کے وعدے پر ایمان لیے ہجرت کر رہے تھے۔ وہ دن تھے جب اتحاد، قربانی اور عزم ہماری سب سے بڑی طاقتیں تھیں۔

مشکل حالات کے باوجود پاکستان آگے بڑھا۔ مختصر عرصے میں صنعتیں قائم ہوئیں، تعلیمی ادارے بنے، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا اور مضبوط دفاعی نظام قائم کیا گیا۔ ہم ایٹمی طاقت بنے، کھیل، فنون اور سائنس میں نمایاں ہوئے اور اپنی صلاحیتیں دنیا بھر میں منوائیں۔ آہستہ مگر مسلسل، ہم ترقی کرتے رہے، اگرچہ رفتار ہمیشہ ہماری خواہشات کے مطابق نہیں تھی۔

تاہم، کامیابیوں کے ساتھ ایک اور کہانی بھی موجود ہے — مسلسل شکایات کی کہانی۔ ہم اکثر کہتے ہیں، “اس ملک نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔ حکمران کرپٹ ہیں۔ نظام ناکام ہے۔” ان شکایات میں کچھ حقیقت ہے، لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی باقی ہے: کہ جو حکمران زمامِ امور میں بیٹھے ہیں، کیا وہ اجنبی ہیں؟ — وہ بھی اسی معاشرے اور اسی مٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں سے ہی پروان چڑھتے ہیں۔

ایک اور کمزوری یہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے بدلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ کہتے ہیں، جب حکمران بدلیں گے، جب نظام بہتر ہوگا، جب معاشرہ بدلے گا — تب میں بدلوں گا۔ لیکن تاریخ اور حکمت دونوں یہ سکھاتی ہیں کہ حقیقی تبدیلی کبھی دوسروں سے شروع نہیں ہوتی؛ یہ ہمیشہ میں سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر عظیم تحریک اُس وقت شروع ہوئی جب افراد نے سب سے پہلے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔

ہم اجتماعی کہانی میں اپنا حصہ ڈالنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ ہم کتابیں لکھنے، اپنے تجربات اور علم کو بانٹنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟ پاکستان کی مثبت تصویر کیوں نمایاں نہیں ہوتی؟ لوگ اکثر کہانی کے منفی پہلو ہی کیوں اجاگر کرتے ہیں؟ میڈیا اکثر اچھے کام کو اجاگر کرنے کے لیے بھاری بھرکم معاوضے کیوں لیتا ہے، اور بلیک اسپاٹس مسلسل بغیر معاوضے کیوں نمایاں کرتا ہے؟ کیا غلطیاں نکالنا ہی ہمارا قومی فریضہ ہے؟ قومی ترقی صرف حکومتوں سے نہیں بنتی؛ یہ تب ممکن ہے جب ہر فرد اپنی حکمت، تخلیق اور توانائی سے اپنا مثبت حصہ ڈالے۔ اگر ہر پروفیشنل، مصنف، استاد یا کاروباری شخص اپنے تجربات اور بصیرت بانٹنے کا فیصلہ کرے، تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے علم اور ترقی کی بھرپور روایت قائم کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی کہانی صرف ماضی یا حال کی نہیں، یہ اُس مستقبل کی بھی ہے جو ہم آج بنا رہے ہیں۔ شکایت کرنے کے بجائے ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا ہم سب سے پہلے خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم خلوص، ایمانداری اور محنت کے ساتھ اپنا حصہ دینے کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ ایک قوم صرف مطالبات سے نہیں، بلکہ خدمات اور کردار سے بڑھتی ہے۔

پاکستان کی کہانی صرف حکمرانوں کے لکھے ہوئے صفحات نہیں، بلکہ یہ ہم سب کے لکھے ہوئے صفحات ہیں.

پاکستان کی کہانی – میں بدلوں گا /تحریر/علی کاکڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں