والدین کے حقوق وآداب/تحریر/محمد عثمان انیس درخواستی 0

والدین کے حقوق وآداب/تحریر/محمد عثمان انیس درخواستی

والدین کے حقوق وآداب/تحریر/محمد عثمان انیس درخواستی

اللہ تبارک و تعالی نے دنیا میں جن لوگوں کے دلوں میں سچی محبت رکھی وہ ہستیاں” ماں باپ” کی ہیں، جن کی محبت کی گہرائی سمندر کی گہرائی سے زیادہ، جن کے ارادوں کی بلندی ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ، جن کی محبت ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح ہوتی ہے، اور بے لوث بغیر معاوضہ کے ہوتی ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں والدین کے حقوق وآداب بیان کیے گئے ہیں “اگر وہ (یعنی ماں باپ) تیرے سامنے (یعنی تیری زندگی میں) بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو چاہے ایک ان میں سے پہنچے یا دونوں (اور بڑھاپے کی بعض باتیں جوانوں کو بوجھ ہونے لگتی ہیں اور اس وجہ سے ان کی کوئی بات تجھے مشکل بھی لگے)تب بھی ان سے کبھی “ہوں”بھی مت کرنا اور نہ ان سے جھڑک کر بولنا، ان سے خوب ادب سے بات کرنا، ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اور یوں دعا کرتے رہنا کہ “اے ہمارے پروردگار تو ان پر رحمت کر جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے” اور صرف ظاہر ہی نہیں بلکہ دل سے ان کا احترام کرنا، تمہارا رب تمہارے دل کی بات خوب جانتا ہے اگر تم سعادت مندہو۔
سورہ لقمان میں ارشاد باری تعالی ہے: “ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے اس کی ماں نے بوجھ پر بوجھ اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے، یہ کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اور اگر تجھ پر وہ دونوں اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی والی زندگی گزارو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالی کی رضامندی ماں باپ کی رضامندی میں ہے اور اللہ تعالی کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے”(شعب الایمان)
حضرت وہب بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اے موسی!اپنے والدین کی عزت کرو، بے شک جو اپنے والدین کی عزت کرتا ہے میں اس کی عمر بڑھا دیتا ہوں اور اس کو ایسا بیٹا عطا کرتا ہوں جو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔ (مستدرک حاکم)۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اے نوجوان! کیا اہل و عیال میں سے تمہارا کوئی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! میری والدہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (کی خدمت) کو لازم پکڑو اس کے قدموں کے پاس جنت ہے. (کنز العمال)۔ والدین کی خدمت بہت بڑی سعادت ہے اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خدمت کرنی چاہیے، اپنی ضرورت سے زیادہ ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور ان کی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کھجور کے ایک درخت کی قیمت ہزار درہم تک پہنچ گئی حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے درخت بیچنے کے بجائے اندر سے کھود کر درخت سے مغز(گودا) نکال کر اپنی والدہ کو کھلا دیا۔ لوگوں نے کہا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا میں اپنی والدہ کی خواہش کو پورا کرتا ہوں اس کی برکت سے اللہ تعالی مجھے اس سے زیادہ عطا کرتا ہے۔ (حیات الصحابہ اردو)۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی والدہ ان سے پانی مانگتی جب ان کے لئے پانی لے کر آتے تو وہ نیند میں جا چکی ہوتیں اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ والدہ کے سرہانے پانی لے کر کھڑے رہتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔ (فضل بر الوالدین)۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ ایک بڑی عمر کے شخص بھی تھے آپ نے پوچھا! تیرے ساتھ یہ کون ہے؟ اس نے کہا یہ میرے والد ہیں۔ تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: (باپ کے اکرام و احترام کا خیال رکھ) ہرگز ان کے آگے مت چلنا، ان سے پہلے مت بیٹھنا، ان کا نام لے کر مت بلانا، ان کی وجہ سے کسی کو گالی مت دینا۔ (درمنثور)۔۔
قرآن و حدیث میں والدین کے فضائل اور ان کے متعلق حقوق اور آداب کو بے شمار مقامات پر بیان کیا گیا ہے ہے جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ والدین کی خدمت کی وجہ سے عرش الہی کا سایہ نصیب ہوگا، ان سے اچھا سلوک کرتے رہنا، گنہگار کی توبہ کا ذریعہ ہے، جہنم سے حفاظت کا سبب ہے، لمبی زندگی ملتی ہے اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے، ان کی خدمت کرنا حج و عمرہ اور جہاد سے افضل ہے، ان کی فرمانبرداری ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لاتی ہے، ان کی دعاؤں کی وجہ سے انسان آفات و بلیات سے محفوظ رہتا ہے، ان کو ایسی جگہ سے پاکیزہ رزق ملتا ہے جہاں سے اس کا وہم و خیال تک نہیں ہوتا، والدہ کی خدمت کی وجہ سے انسان کو کو نبیوں کی رفاقت ملتی ہے، اور مشکلات سے نجات ملتی ہے، انسان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، موت کے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے۔ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کو والد کی دعا کی وجہ سے اسلام کی دولت ملی، ان کی بیوی کو بھی اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، شجاعت اور جرأت وبہادری میں سے وافر حصہ ملا اور دشمن سے حفاظت ہوتی تھی ۔(صور من حیات الصحابہ) امام بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ کو والدہ کی دعا کی وجہ سے بینائی کی نعمت ملی، حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ کو بلند مقام ملنے کی وجہ والدہ کی خدمت گزاری تھی، حضرت حسان محمد ابو الولیدنیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ الاسلام سلیم بن ایوب رحمتہ اللہ علیہ، حضرت سلطان بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت محمد بن قاسم رحمہ اللہ علیہ، سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بہاؤ الدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید رحمۃ اللّٰہ علیہ و غیرہ۔ والدین کی دعاؤں کی وجہ سے بلند مقام تک پہنچے۔۔
اس لیے والدین کی بے ادبی، توہین ، تنقیص، تنقید، گستاخی اور نافرمانی سے بچنا چاہیے، ہمیشہ ان کا ادب و احترام کرنا چاہئے، چہرے کی بشاشت سے بات کرنی چاہیے، اچھے طریقے سے نصیحت کرنی چاہیے اگر قبول نہ کریں تو پھر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے، ناراض ہوئے بغیر ان کی بات ماننی چاہیے، اگر بھوک لگے تو خوشی سے کھانا کھلائیں، اگر کپڑے نہ ہو تو کپڑے پہنائیں، ان کےلیے رحمت و مغفرت کی دعائیں کریں، ان کی خطاؤں سے درگزر کریں، ان کے سامنے تکبر سے پیش نہ آئیں، اونچی آواز میں بات نہ کریں، ایسے کام کریں جو ان کی خوشی کا ذریعہ ہوں، ان کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کریں، ان سے دعائیں لیں، ان سے مشورہ کرتے رہیں، ان کے نام اور کام کو روشن کرنے کی طرف متوجہ ہوں، ان کو نرمی و ادب سے پیارو محبت سے سمجھائیں، ۔وفات کے بعد ان کے لیے ایصال ثواب کرتے رہیں، ان کے دوست احباب سے اخلاق سے پیش آتے رہیں، ہر جمعہ ان کی قبر پر جاتے رہیں،
اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو اپنے والدین کے حقوق و آداب ادا کرنے کی توفیق عطا کریں آمین ثم آمین

والدین کے حقوق وآداب/تحریر/محمد عثمان انیس درخواستی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں