ماں سے معاشرہ/تحریر/کلیم اللہ کاکڑماں وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں انسان اپنی زندگی کا آغاز سیکھنے سے کرتا ہے۔ اگر ماں باشعور، تعلیم یافتہ اور بااخلاق ہو تو اس کی آغوش سے ایسی نسل پروان چڑھتی ہے جو ایمان، علم اور کردار میں مضبوط بنیاد رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے، “تم مجھے ایک تعلیم یافتہ ماں دو، میں تمہیں ایک مہذب قوم دوں گا۔” اسلام نے ماں کو نہ صرف عزت بلکہ روحانی بلندی بھی عطا کی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: “الجنة تحت أقدام الأمهات” — “ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔” یہ حدیث ماں کے مقام کو واضح کرتی ہے کہ اس کی خدمت، تربیت اور خوشنودی ہی انسان کے لیے جنت کا راستہ ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: “وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا” (الاحقاف: 15) یعنی “ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔” یہ حسنِ سلوک ماں کے مقام، اس کی تربیت اور اس کے علم کے احترام تک پھیلا ہوا ہے، کیونکہ ماں ہی وہ چراغ ہے جو آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو روشنی عطا کرتا ہے۔ تعلیم یافتہ ماں نہ صرف اپنے بچوں کو علم دیتی ہے بلکہ ان میں سوچنے، سمجھنے اور اچھے انسان بننے کی تمنا بھی پیدا کرتی ہے۔ اسلام نے عورت کو صرف گھریلو ذمہ داریوں کی حد میں قید نہیں کیا بلکہ اُسے معاشرے کی بنیاد اور نسلوں کی معمار قرار دیا ہے۔ عورت اگر باعلم ہو تو وہ گھر کو سنوارتی ہی نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر بھی سنوارتی ہے۔
اسلام علم و شعور کا دین ہے۔ اس کی بنیاد ہی تعلیم پر رکھی گئی ہے۔ پہلی وحی کا پہلا لفظ “اقرأ” (پڑھو) تھا، جو مرد و عورت دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: “طلبُ العلمِ فریضةٌ علیٰ کلِّ مسلمٍ و مسلمۃٍ” (ابنِ ماجہ) یعنی “علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔” اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے عورت کو عزت، وراثت اور رائے کا حق دیا اور وہ ظلم ختم کیا جو دورِ جاہلیت میں رائج تھا—بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی رسم۔ قرآن نے اس ظلم پر انسانیت کو جھنجھوڑ دیا: “وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ، بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ” (التکویر: 8-9) “اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں قتل کی گئی؟” اسلام نے عورت کو ذلت کی گہرائیوں سے نکال کر عزت و وقار کی بلندیوں تک پہنچایا اور علم کو اس کی پہچان بنایا۔ یہ دین وہ انقلاب تھا جس نے جہالت کے اندھیروں میں روشنی کی شمع روشن کی، اور علم کو ایمان کا پہلا زینہ قرار دیا۔
پاکستان کے مختلف خطوں، قبائل اور دیہی علاقوں میں سفر کے دوران ایک افسوسناک مشاہدہ سامنے آتا ہے کہ آج بھی بہت سے بزرگ لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ “ہمارے باپ دادا لڑکیوں کو نہیں پڑھاتے تھے، ہم کیوں روایت بدلیں؟” یہ منطق دراصل روایت سے وابستگی نہیں بلکہ تضاد کی ایک شکل ہے۔ یہی لوگ جدید زندگی کی ہر سہولت کو بخوشی اپنا چکے ہیں — بجلی، موبائل فون، زرعی مشینیں، ٹرانسپورٹ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا — جن کا ان کے آبا و اجداد سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب ہم روزمرہ زندگی میں اتنی تبدیلیاں قبول کر سکتے ہیں تو پھر تعلیمِ نسواں سے انکار کیوں؟ درحقیقت یہ روایت کا دفاع نہیں بلکہ تبدیلی سے خوف ہے۔ اسلام نے تو علم کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: “قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ” (الزمر: 9) یعنی “کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟” علم ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے، اور اگر عورت سے یہ روشنی چھین لی جائے تو معاشرہ اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنی نصف آبادی کو جہالت میں رکھے۔ اسلام نے ہمیں علم کی روشنی عام کرنے کا حکم دیا ہے، نہ کہ اسے صنف کی بنیاد پر بانٹنے کا۔ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے: “اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد” یعنی “علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک۔” یہ حکم سب کے لیے ہے — مرد و عورت دونوں کے لیے۔ جو قوم اپنی بیٹیوں کو تعلیم سے محروم رکھتی ہے، وہ اپنی نسلوں کو اندھیروں کے سپرد کر دیتی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اسلام روایت نہیں بلکہ انقلاب تھا، اس نے عورت کو شعور دیا، وقار دیا اور امت کی تشکیل میں اس کا کردار تسلیم کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اسلام کی اسی اصل روح کو ازسرِنو زندہ کریں۔ اگر ہم نے اپنی بیٹیوں کو قلم سے محروم رکھا تو آنے والی نسلیں سوال کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں گی — اور جب سوال مر جاتے ہیں، تو قومیں بھی سوچنے کی قوت کھو دیتی ہیں۔