
عالمی یوم جمہوریت
پروفیسر عبد المعید زبیر
بین الپارلیمانی یونین (IPU) جو قومی پارلیمانوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، کے تحت دنیا بھر میں ہر سال 15 ستمبر کو عالمی یوم جمہوریت منایا جاتا ہے۔ بین الپارلیمانی یونین نے اس دن کو پہلی دفعہ 1997 کو اپنایا تھا۔ مگر دس سال بعد اس قرارداد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 8 نومبر 2007 کو منظور کیا۔ یوں عالمی سطح پر یہ دن پہلی مرتبہ 2008 میں منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں رائج جمہوری نظاموں پر غور و فکر کرنا، ان کو مزید بہتر کرنا اور جمہوری اصولوں کو فروغ دینے کے لیے مزید لائحہ عمل طے کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ اس نظام کو تقویت ملے اور معاشرے کی بحالی قائم رہ سکے۔ اس دن مختلف تقریبات، سیمینارز اور مباحث ہوتی ہیں تاکہ اس کی اہمیت و افادیت کا پہلو اجاگر کیا جا سکے۔ جمہوریت کسی ایک شخص کی طاقت کا نام نہیں اور نہ ہی ایسی جمہوریت کبھی دوام پا سکتی ہے بلکہ یہ تو افرادی قوت اور عوامی حمایت کا نام ہے۔ جس میں اپر طبقے سے لے کر نچلے طبقے تک کا ہر فرد اپنی زندگی اپنے اصولوں پر جیتا ہے۔
آمریت کے بر خلاف یہ ایک ایسا نظام ریاست ہے جس کے تحت عوام اپنی مرضی سے اپنا نمائندہ منتخب کرتی ہے۔ اقتدار کی اصل مالک عوام ہوتی ہے۔ وہ جسے چاہیں اسے اپنی رائے دینے میں بالکل آزاد اور خود مختار ہوتے ہیں۔ یہ ایسا نظام حکومت ہے جس میں سر گنے جاتے ہیں، تولے نہیں جاتے۔ تمام لوگ اپنی رائے دینے میں بالکل یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا تجربہ کار بوڑھا، پڑھا لکھا شخص ہو یا کوئی بالکل ان پڑھ ۔ جس طرف کثرت ہو گی، وہی ملک کے بھاگ دوڑ سنبھالنے کا مجاز ہو گا۔ اسی لیے جمہوریت کو عوام کی حکومت کہا جاتا ہے۔
جمہوری نظام میں تین کردار اہم ہوتے ہیں۔ پہلا مقننہ یعنی قانون سازی کرنے والے، یہ اختیار ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے، جو پارلیمان کے ممبر منتخب ہوتے ہیں۔ دوسرا کردار انتظامی امور کا اختیار ہوتا ہے، جس کا سربراہ صدر یا وزیر اعظم ہوتا ہے۔ تیسرا کردار عدلیہ کا ہوتا ہے، جس کا کام قانون کی تشریح اور تنازعات کا تصفیہ کرنا ہوتا ہے۔
انقلاب فرانس کے بعد اس نظام کا تصور پیش کرنے والوں میں ایک اہم نام ژاں ژاک روسو کا ہے۔ جس نے سب سے پہلے عمرانی معاہدہ کا تصور پیش کیا ۔ البتہ اس کی زندگی میں اسے عزت نہ مل سکی مگر اس کے موت کے بعد سیاسی تاریخ میں اس کتاب کو بڑی اہمیت حامل رہی۔ وہ جمہوریت کی تعریف یوں کرتا ہے کہ: افراد اور ریاست کے درمیان ایسا معاہدہ جس میں افراد اپنے کچھ اختیارات سے محروم ہو کر اجتماعی حکومت کو قبول کرتے ہیں اور حکومت اس کے بدلے عوام کی بہتری کے کام کرتی ہے”
یونانی مفکر ہیروڈوٹس کہتا ہے کہ: “جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں” جمہوریت کے بارے میں ڈابق امریکی صدر ابراہم لنکن کا کہنا ہے کہ: “عوام کی حاکمیت، عوام کے ذریعہ اور عوام کے لئے”
البتہ علماء کرام کے ہاں اس بارے میں رائے مختلف ہے، جس کی بنیادی وجہ نظام خلافت ہے۔ اس کا تصور ہی جمہوریت کے خلاف ہے کیوں کہ شریعت کی نظر میں ریاست کا معاملہ انتہائی حساس ہے، جس کے بارے میں اہل حل وعقد کی رائے کا اعتبار کیا جائے گا، نا کہ عام آدمی کا۔ شریعت کی رو سے مرد و عورت، نوجوان اور ایک تجربہ کار کی رائے کسی صورت برابر نہیں سکتی۔ ایک سلیم الفطرت اور مجنوں شخص اپنے رائے دینے میں کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ہر شخص سیاسی بصیرت نہیں رکھتا۔ لہذا رائے اسی کی معتبر ہو گی جو اس کا اہل ہو گا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے مشورہ کر لو۔ لوگوں سے رائے لو، انہیں اس معاملے میں شریک کر لو۔ یہی اصول نظام ریاست کے لیے بھی ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ رائے لینی کس سے ہے؟ کیا ہر ہر شخص سے رائے لینی ہے یا مخصوص افراد سے، تو اس کا قاعدہ بھی شریعت نے بتایا کہ مخلص، امانت دار اور تجربہ کار افراد سے مشورہ کیا جائے نا کہ حاسد، دھوکے باز اور بےوقوف سے۔ جب مشورہ ہو جائے تو پھر جس رائے کو بہتر جانا جائے، اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس پر ڈٹ جاؤ۔ لیکن اجتماعیت لازم پکڑنا، تفرقہ نہ ڈالنا۔
خلافت کا یہ نظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو عطا کیا گیا ہے۔ پھر خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے ادوار میں اس کا بہترین نمونے پیش کیا۔ اسی لیے آج مغرب عمر لاء کو فالو کرتی ہے۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہاں کے لیے بھی جمہوری نظام کو منتخب کیا گیا۔ مگر افسوس کہ ملک کے پہلے عام انتخابات 23 سال بعد 1970ء میں ہوئے اور اس کے نتائج بھی تسلیم نہ کیے گئے۔ جس بنا پر یہ ملک پہلی رائے دہی کے موقع پر ہی دو لخت ہو گیا۔ یہ ملک تو جمہوری ہے مگر یہاں جمہوریت کبھی پنپ بھی نہ سکی۔
اس کی بنیادی وجہ یہاں کی سیاسی لیڈر شپ نہیں بلکہ عام عوام ہے۔ جو ہمیشہ سے شخصیت پرستی، قومیت، لسانیت، صوبائیت جیسے تنازعات میں پڑی رہی۔ ان کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے آمروں نے جمہوریت پر شب و خون مارا۔ وہ الگ بات ہے کہ ان ادوار میں بہت سے ترقیاتی کام بھی ہوئے۔
پاکستان میں جمہوریت کا یہ حال ہے کہ جمہوری لیڈروں کو کبھی مکمل اختیارات حاصل نہیں رہے ۔ پاکستان کی اس اٹھتر سالہ تاریخ میں کتنی حکومتیں یا وزیر اعظم ایسے ہیں، جنہوں نے اپنا وقت پورا کیا ہو؟ یہاں جس نے کچھ الگ کرنے کا سوچا یا کیا، اسے اپنے ہر فیصلے کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ہی دیکھ لیجیے۔ جنہیں ہمارے سروں کا تاج ہونے چاہیے تھے وہ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار گئے۔
ہمیں اگر جمہوریت اور ملک کو مضبوط کرنا ہے تو تعصبات سے نکلتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہے نا کہ لیڈروں کے حقوق کے لیے۔ اقتدار کی ہوس میں مہرے بن کر آنے والے کبھی اس قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ کہ حکمران طبقہ مالدار اور عوام غریب سے غریب تر ہوتی جارہی ہے۔ لہذا اپنے ووٹوں کے ذریعے اپنی اپنی پارٹیوں کو اقتدار میں لانے کی بجائے تجربہ کار اہل لوگوں کو منتخب کرنا ہو گا۔ جو گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے ہیں، ان کا راستہ روکنا ہو گا۔ موروثیت، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ سب سے پہلے پاکستان کو سوچنا ہو گا۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ہم لیڈروں کی بجائے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے
پاکستان زندہ باد