قادیانیت: ایک فکری فتنہ یا عالمی استعماری سازش/تحریر/محمد اسامہ پسروری 0

قادیانیت: ایک فکری فتنہ یا عالمی استعماری سازش/تحریر/محمد اسامہ پسروری

قادیانیت: ایک فکری فتنہ یا عالمی استعماری سازش/تحریر/محمد اسامہ پسروری

اسلام ایک ہمہ گیر، مکمل اور محفوظ دین ہے جو صرف عبادات یا روحانی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ معیشت، سیاست، معاشرت، اخلاق، جہاد، تعلیم اور ریاست تک ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے، اس دین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نئے دعویدارِ نبوت کو قبول نہیں کرتا، عقیدۂ ختمِ نبوت قرآن سے ثابت، سنت سے مؤکد، اجماعِ امت سے مضبوط اور پوری دینی تاریخ سے غیر متنازع ہے، یہی عقیدہ اسلام کی حفاظت کی بنیادی ضمانت ہے کیونکہ اگر دروازۂ نبوت کھلا چھوڑ دیا جائے تو ہر فتنے، گمراہی اور انتشار کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی سب سے پہلا وار اسی بنیاد پر کیا گیا۔ قادیانیت اسی نوع کا فتنہ ہے جسے محض ایک دینی انحراف کہنا حقیقت سے چشم پوشی ہے، درحقیقت یہ ایک عالمی سازش کا آلہ ہے جو استعمار کے ایجنڈے کے تحت تخلیق ہوا، پروان چڑھا اور آج جدید ذرائع، عالمی طاقتوں اور میڈیا کے ذریعے دوبارہ سے اسلام پر حملہ آور ہے، قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی کوئی عام شخص نہ تھا، اس کی تحریریں، خود تضادی بیانات، پیش گوئیوں کی ناکامیاں اور انگریزوں کے لیے دعا و وفاداری اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ انگریز سامراج کا پیدا کردہ ایک پراجیکٹ تھا جس کا مقصد مسلمانانِ ہند میں “جہاد” کے نظریے کو مردہ کرنا، ان کے دینی شعور کو پست کرنا اور آزادی کی تحریکوں کو فکری زنجیروں میں جکڑنا تھا، مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ ہیں: “میں نے اپنے قلم سے اتنا جہاد کے خلاف لکھا ہے کہ انگریزی حکومت کی الماریوں کو بھر دیا ہے” یہ جملہ اس کے اصل کردار کو ننگا کرنے کے لیے کافی ہے۔ انگریزوں نے قادیانیت کو مذہبی اختلافات کی آڑ میں استعمال کیا تاکہ برصغیر میں مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جا سکے، مگر جب انہیں اندازہ ہوا کہ قادیانیت صرف ہند میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نفسیاتی اور فکری ہتھیار بن سکتی ہے تو انہوں نے اسے عالمی پراپیگنڈا کا حصہ بنانا شروع کر دیا، برطانیہ میں قادیانی جماعت کو “معتدل اسلام” کے نمائندے کے طور پر پیش کیا جانے لگا، اس گروہ کو ہر وہ پلیٹ فارم دیا گیا جہاں سے وہ مسلمانوں کے اس اجتماعی عقیدے پر سوال اٹھا سکے جو نہ صرف دینی ہے بلکہ سیاسی اور تہذیبی خود مختاری کی علامت بھی، اب امریکہ، یورپ، کینیڈا اور اقوام متحدہ میں قادیانی نمائندے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے عنوان پر مسلمانوں پر تنقید، پاکستان پر دباؤ اور اسلام کے بنیادی عقائد پر حملہ کرتے ہیں، ان کا اصل ہدف ختمِ نبوت کے دفاع میں کھڑی اسلامی دنیا، خاص طور پر پاکستان ہے۔ آج قادیانیت ایک بین الاقوامی مہم کا حصہ ہے جس میں کئی طاقت ور مغربی ممالک، صہیونی ادارے، لبرل میڈیا اور انسانی حقوق کے بعض ادارے بھی شریک ہیں، ان سب کا ہدف امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت، شکوک اور داخلی انتشار میں مبتلا کرنا ہے تاکہ کوئی متحدہ اسلامی بلاک تشکیل نہ پا سکے، مغرب نے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی ہے کہ جب تک مسلمان نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں ان کے لیے غلام بننا ناممکن ہے، چنانچہ انہوں نے ایسے فتنوں کو پروموٹ کرنا شروع کیا جو اسلام کا نام لے کر اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کریں، قادیانیت کو “پرامن”، “روشن خیال” اور “انسان دوست” اسلام کا چہرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام عقائد جن پر امت مسلمہ نے اجماع کیا ہے قادیانیت ان سب کی نفی کرتی ہے۔ قادیانیوں کے لیے مغربی میڈیا میں خصوصی کوریج، آزادی اظہار کے نام پر ان کی کھلی حمایت اور پاکستان کے خلاف ان کی شکایات کو اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروں میں سنجیدگی سے سنا جانا یہ سب اتفاقی نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے، پاکستان جو واحد ریاست ہے جو “ختمِ نبوت” کے تحفظ کے نام پر قائم ہوئی آج اسی عقیدے کے دفاع کی پاداش میں بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہے، اقلیتوں کے حقوق کا شور مچانے والے ان طاقتوں نے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ قادیانی “مسلمانوں کا نام” استعمال کر کے کس طرح خود اقلیتوں کے خلاف فکری جارحیت کرتے ہیں۔ ان عالمی سازشوں کے تناظر میں ہمیں قادیانیت کے خلاف اپنی جدوجہد کو محض مذہبی دفاع تک محدود نہیں رکھنا بلکہ ایک عالمی نظریاتی مزاحمت کے طور پر آگے بڑھانا ہو گا، ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، جامعات، مدارس اور میڈیا میں اس فتنے کے بین الاقوامی پہلوؤں کو بے نقاب کرنا ہو گا، نوجوانوں کو صرف مرزا قادیانی کی تحریری تضادات نہیں پڑھانے بلکہ یہ بھی سکھانا ہو گا کہ دنیا کس طرح “ری برانڈڈ اسلام” کے ذریعے مسلمانوں کی فکری خودمختاری چھیننا چاہتی ہے، قادیانیت اس نئی نوآبادیاتی سوچ کی نمائندہ ہے جو مسلمانوں کو ان کے اصل پیغامِ محمدی ﷺ سے دور کر کے ایک بے ضرر، مغرب پسند اور غلام ذہنیت کی قوم میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ آج جو نوجوان یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹی وی پر قادیانی لٹریچر کو “ماڈرن اسلام” سمجھ کر متاثر ہو رہے ہیں ان کے ذہنوں میں صرف قادیانی عقائد نہیں گھسے جا رہے بلکہ مغرب کے اس بیانیے کو راسخ کیا جا رہا ہے کہ “اصل اسلام” وہ ہے جو نہ سیاست میں بولے، نہ کفر کو للکارے، نہ جہاد کا تصور رکھے، نہ خلافت کا خواب دیکھے، نہ رسول ﷺ کی ختم نبوت پر اصرار کرے، یہ خطرناک ذہن سازی قادیانیت جیسے فتنوں کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج قادیانیت کی لڑائی صرف پاکستان کے آئین سے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی فکری، دینی اور تہذیبی بقاء سے ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اس فتنے کو صرف فرقہ وارانہ مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا یا صرف نعرے بازی اور جذباتی ردِ عمل پر اکتفا کیا تو آنے والے دنوں میں امت کا نظریاتی مستقبل شدید خطرے میں پڑ جائے گا، ہمیں چاہیے کہ ہم ختم نبوت کے عقیدے کو اپنی نئی نسل میں راسخ کریں، قادیانیت کے فریب کو بے نقاب کریں اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر علمی و فکری سطح پر اس کا مدلل رد کریں، ہمیں دنیا کو یہ باور کرانا ہو گا کہ قادیانی تحریک ایک “اقلیتی مسئلہ” نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایک منظم نظریاتی جنگ ہے جس میں باطل جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہو کر آیا ہے اور ہمیں اس کا مقابلہ سنتِ محمدی ﷺ، سیرتِ صحابہ، بصیرتِ علماء کے ساتھ کرنا ہو گا.
قادیانیت: ایک فکری فتنہ یا عالمی استعماری سازش/تحریر/محمد اسامہ پسروری
قادیانی کافر کیوں؟/تحریر/سیدہ فاطمہ طارق
بین الاقوامی سطح پر قادیانی سرگرمیاں/تحریر/محمد اسامہ پسروری
قادیانیوں کا بائیکاٹ کیوں ضروری ہے؟ /محمد انس معاویہ، رجانہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں