0

قادسیہ کا میدان جنگ /تحریر/ محمد طلحہ تسلیم

نام:- محمد طلحہ تسلیم
شہر:- کراچی

*قادسیہ کا میدان جنگ*

ایک آدمی عین میدان جنگ شراب پی لیتا ہے…! سعد بِن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ جو مسلمان فوج کے سپہ سالار تھے۔۔۔ ان کو اس بات کی خبر ہوتی ہے، فرمایا: اس کو زنجیروں میں جکڑ دو، اور میدان جنگ سے واپس بلا لو۔
ایک کمانڈر نے کہا: حضور میدان جنگ ہے، غلطی ہو گئی اس سے، دلیر آدمی ہے، بہادر آدمی ہے، چھوڑ دیجئے، اللّٰه تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرے گا کسی کو مارے گا یا شہید ہو جائے گا، اس کو زنجیروں میں جکڑنے کی ضرورت کیا ہے؟

سعد بِن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ نے جواب دیا: رسول پاک صلی اللّٰه علیہ و سلم کا صحابی تلواروں اور بازوؤں پر بھروسہ نہیں کرتا، اللّٰه کی رحمت پر بھروسہ کرتا ہے۔ میں اس شرابی کو لڑنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا۔ اس کی وجہ سے کہیں میرے رب کی رحمتیں مُنہ ہی نہ موڑ لیں، جاؤ اسے زنجیریں پہنا دو۔

سپہ سالار کے حکم پر اسے زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور خیمے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اب وہ مسلمان قیدی زنجیروں میں جکڑا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے کہ میدان جنگ خوب گرم ہے۔ بے بسی اور لاچارگی سے میدانِ جنگ کی جانب دیکھ کر تڑپ اُٹھتا ہے۔

ہائے کوئی میری زنجیروں کو کھول دو، میں نے اپنے رب سے اپنے گناہوں سے معافی مانگ لی ہے۔ ہائے مجھے کوئی کھولنے والا نہیں اور مسلسل آہ و بکا کرنے لگتا ہے۔ سعد بِن ابی وقاص کی زوجہ محترمہ دوسرے خیمے کے اندر موجود ہیں، زنجیروں میں جکڑے قیدی نے دوسرے خیمے میں ان کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے پکار کر کہا۔۔۔ اے سپہ سالار کی زوجہ! میری زنجیروں کو کھولنے میں میری مدد کریں۔

مجھ سے مسلمانوں کا گِرتا ہوا خون دیکھا نہیں جارہا ہے۔ وہ بدستور پردے میں رہتے ہوئے کہتی ہیں، تم نے گناہ کِیا اور سپہ سالار نے تمہیں زنجیروں میں جکڑنے کا حکم دیا ہے۔
قیدی کہنے لگا: خدا کی قسم اگر زندہ رہا تو خود آ کر زنجیریں پہن لوں گا، خدارا مجھے رہا کر دیں۔ میں نے اپنے اللّٰه سے معافی مانگ لی ہے۔

اُدھر مسلمانوں کے لشکر پر شکست کے آثار گہرے ہوتے جا رہے تھے، کافروں نے ایک ایک صف پر حملے کئے، صفیں اُلٹنے لگیں۔ ابو محجن ثقفی رضی اللّٰه عنہ کی آہوں اور سسکیوں کو دیکھ کر سعد رضی اللّٰه عنہ کی زوجہ محترمہ کا دل بھر آیا۔

انہوں نے نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس کی زنجیروں کو کھول دیا۔ ابو محجن ثقفی رضی اللّٰه عنہ نے اپنی زرہ بھی نہیں پہنی، بکتر بند نہیں پہنا، ننگے جسم کافروں کی صفوں پر ٹوٹ پڑے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ ان دنوں سخت بیمار تھے اور ایک بلند جگہ پر میدان جنگ کا نقشہ دیکھ رہے تھے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی ہر ایک صف درہم برہم ہوتی جارہی ہے، لیکن یکایک ایک تنہاء آدمی آتا ہے۔ کافروں کی صفوں کو اُلٹ کر رکھ دیتا ہے اور وہ جس طرف بھی جاتا ہے، بجلی بن کر گِرتا ہے اور خرمنوں کو جلاتا ہوا چلا جاتا ہے۔ جس طرف مُڑتا ہے، کافر کَٹ کَٹ کر گِرتے چلے جاتے ہیں،

سعد رضی اللّٰه عنہ ٹیلے پر بیٹھے ہوئے اپنا سر سجدے میں رکھ دیتے ہیں۔ کہنے لگے: اے الله! اگر یہ فرشتہ نہیں ہے تو میں اپنی تلوار اس کی نذر کرتا ہوں۔
اس نے کافروں کی صفوں کو اُلٹ کر رکھ دیا۔ اسی مجاہد کی ہمت اور شجاعت کی بدولت اللّٰه پاک نے مومنوں کو فتح عطاء فرما دی۔ مسلمان واپس ہوئے، کمانڈر نیچے اُترے، تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ وہ نوجوان کون تھا؟

اب وہ صفوں میں نظر نہیں آ رہا تھا، پوچھا وہ کون تھا! جو اس بے جگری سے لڑ رہا تھا۔ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا دیتا بھی کیسے وہ تو اچانک ہی غائب ہوگیا تھا بہت ڈھونڈا، تلاش کِیا، وہ وہاں ہوتا تو ملتا۔
خیمے سے بیوی آواز دیتی ہیں: اے سپہ سالار جس کو آپ ڈھونڈ رہے ہیں، اس نے اب زنجیریں پہن رکھی ہیں۔
سعد بن ابی وقاص پلٹے اور کہنے لگے، بیوی کیا کہتی ہو؟ کہنے لگیں: صحیح کہتی ہوں، یہ ابو محجن ثقفی ہے۔۔۔ جس نے شراب سے توبہ کی اور تلوار تھام کے میدان جنگ میں چلا گیا۔ اس نے مجھ سے وعدہ کِیا تھا کہ اگر زندہ لوٹا تو خود زنجیریں پہن لوں گا، اب یہ زنجیریں پہن چکا ہے۔

سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ اپنی چَھڑی کو ٹیکتے ہوئے اُٹھے۔ ساتھیوں نے سہارا دینا چاہا، کہنے لگے! چھوڑ دو مجھے، میں اس شخص کے پاس اپنے پیروں پر چل کر جانا چاہتا ہوں۔ جس کی توبہ نے اللّٰه کی رحمت کو آسمانوں سے زمین پر نازل کر دیا…!!!

نوٹ:-
ہمیشہ توبہ و استغفار کرتے رہیں کیا پتہ کون سی توبہ اللّٰه کو پسند آ جائے اور ہمارا بیڑہ پار ہوجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں