Silent Mujahid/Tahrir/Hafiz Zeeshan Ahmed/Karachi 108

سوشل میڈیا اور علماء و عالمات پہ اٹھتے سوالات/تحریر/خدیجہ عبدالرحمن

🔖پردہ “” دل کا ہوتا ہے حجاب پہنو یا نہ پہنو ۔۔۔۔

🔖پردہ دار جو کرتی پھرتی ہیں توبہ اوپر سے پردہ اور اندر سے کرتوت ایسے ہم باز آئے ایسی منافقت سے ۔۔۔
🔖ہماری نظر پاک ہے نہ ہم دیکھتے ہیں کسی کو نہ کوئی ہمیں
🔖 توبہ تم اتنی گرمی میں دستانے بھی پہنتی ہو ۔۔۔ اتنا گہرا پردہ “” اسلام “” میں تو نہیں
🔖 اللہ غفور الرحیم ہے بس نیت اچھی رکھو ۔۔۔ نمازیں زیادہ نہ بھی پڑھو اللہ معاف کر دے گا
🔖 توبہ نمازیں پڑھنے والے اگر حقوق العباد پورے نہیں کرتے تو کیا فائدہ نمازوں کا
🔖 میں مسلمان ہوں بس میرا کوئی مسلک نہیں
🔖 توبہ میرا مذہب انسانیت ہے دینداروں کو بھی دیکھا ہے پگڑی داڑھی کے ساتھ توبہ ایسے ایسے کرتوت
🔖 داڑھی رکھ کے فلاں کام کرتا ہے ، برقعہ پہن کے فلان کام کرتی ہے
🔖 توبہ عالمہ بنی پھرتی ہے دیکھو شاعری کرتی ہے
🔖 توبہ اسلامی پوسٹ لگاتی ہے فیس بک پہ بھی ہر وقت قرآن و حدیث پوسٹ کر کے سمجھتی ہے بڑی دین کی ٹھیکیدار بن گئی ہے
🔖 توبہ ان اسلامی پوسٹ کرنے والی دیندار عالمات سے اللہ بچائے اخلاق نام کی تو کوئی چیز نہیں
میں تو ایڈ ہی نہیں کرتی
🔖 یہ جو ہر وقت پردہ پردہ کرتی ہیں کمپلیکس کی ماری ہوئی ہیں
🔖 بھئی بی بی اگر اتنی ہی پرہیز گار ہو تو سوشل میڈیا پہ کیوں ہو
🔖 سوشل میڈیا پہ موجود ہر عورت بےحیا ہے اور اگر وہ حیا کا دعوی کرے یہی اس کے بےحیا ہونے کی دلیل ہے
🔖 ہم ان کی پوسٹ کو فالو کرنے ہی لگتے ہیں کہ ان پہ اسلام کا دین کا بخار چڑھ جاتا ہے
🔖 دین تو رواداری سکھاتا ہے توبہ دین میں تو شدت نہیں
🌹عزیزی اخوات الصالحات ۔۔۔۔۔
یہ اور اس جیسی بہت سی پھکیاں، منجن ، مشہور ہونے اور مذہب کا لبادہ اتار پھینکنے کے لئے گاہے بہ گاہے لوگ استعمال کرتے ہیں ، یہ اصل میں کفر و الحاد کی محنت ہے
یہ سلوگن ، یہ چیزی لائنز ، یہ دلکش جملے کفر و الحاد کے باطن سے اٹھنے والی بدبو کے چند بھبکے ہیں ،
کبھی بھی اپنے پردے ، اپنی نماز ، اپنے دین کے ساتھ تعلق پہ شرمندگی محسوس نہ کریں ، ہم پردہ کرتی ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند ہے اللہ کا حکم ہے ، اس نے حوا کو پردے میں آدم علیہ السلام تک پہنچا کر عورت کے پردے کا اعلان فرمایا تھا ،
تم نے نماز پڑھنی ہے چاہے تمہاری نیت کوئی بھی ہو تمہارے اخلاق کیسے بھی ہوں کہ یہ حکم ربی ہے ، فرض ہے اک نماز چھوڑنے پہ اسی سال جہنم کی سزا ہے ، قرآن میں کم و بیش تین سو بار فرمایا اقیمو الصلاۃ ، تو نماز پڑھنی ہے فرض نہ چھوٹے ، جیسے جیسے نماز کی نیت درست ہوگی جیسے جیسے نماز طبیعت میں ڈھلتی جائے گی وہ نماز سکون کا باعث بنتی جائے گی نماز کی حقیقت نصیب ہوگی تو پوری زندگی مطہر ہوجائے گی یہ میرے محبوب ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
داڑھی پیارے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ، پگڑی عمامہ پیارے کی سنت ہے ، کردار تو معاشرہ بناتا ہے ، کردار تو معاشرے سے ڈیویلپ ہوگا ، ہم ظاہر کے مکلف ہیں ظاہر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم جیسا بنالو آج کے دور میں ظاہر بنانا بھی بہت ہی دشوار ہے اللہ اسی دشواری کے اجر میں باطن کو سنوارے گا ان شاءاللہ
تو دین کے راستے میں جتنا ہوسکے اتنا لگے رہیں جو ممکن نہیں اسکی کوشش جاری رہے ،، سوشل میڈیا کے اس طوفان بدتمیزی میں کسی کی ایسی پھکی کو کھانے کی ضرورت نہیں
ہمارا دین ہماری پہچان ہے جیسے اک گانا سننے والا گاڑی میں ہوگا تو گانا لگائے گا ، سوشل میڈیا پہ بھی ہر طرف اسی چیز کو پروموٹ کرے گا ،، واٹس اپ سٹیٹس گانا ، ف بک سٹیٹس گانا ، ٹویٹر اکاؤنٹ پہ گانا انسٹاگرام پہ گانا ، سنیپ چیٹ پہ گانا ،
تو اک قرآن سننے والا یا والی نعت سننے یا سننے والی یہ پوسٹ کیوں نہیں کر سکتی ،، ہر طرح کی باتیں لغو و فضول باتیں شئر ہوسکتی ہیں تو دین کا stuff شئر کیوں نہیں ہوسکتا ،، قرآن و حدیث کو شئر کیوں نہیں کر سکتے ،، یہ الگ موضوع ہے کہ authentic مواد شئر کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے ،
آپکے اخلاق ، آپکے پردے ، داڑھی ، نمازوں کو موضوع بناکے جتنے بھی باتوں کے تیر چلاتے ہیں چلانے دیجئے ، جٹنا ہدف ملامت بناتے ہیں بناتے رہئیے ،، بس اک بات یاد رکھیں اپ ے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی
قل آمنت باللہ ثم استقم
جتنے دین پہ عمل نصیب ہے استقامت سے ڈٹے رہیں قرآن تو ایمان والوں کی صفت میں بتاتا ہے
لا یخافون لومۃ لائم
وہ ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف ، ڈر نہیں رکھتے
ڈرنا تو ان نام نہاد مسلمانوں کو چاہئیے جو دین پہ عمل کرنے والوں پہ ملامت کرتے ہیں ۔۔۔
پہلے کافر مسلمانوں پہ ہنسا کرتے تھے آج کے مسلمان یہ کام کرتے ہیں
اللہ سورہ المطففین میں فرماتے ہیں اور یہ آیت روح تک سکون کی لہریں دوڑا دیتی ہے
🌷ان الذین اجرموا کانوا من الذین آمنوا یضحکون°
🌷واذا مروا بھم یتغامزون °
🌷واذا انقلبوا الی اھلھم انقلبوا فکھین °
پھر دو آیتوں کے بعد ان مسلمانوں پہ ہنسنے والوں کی سزا پہ اللہ فرماتے ہیں
🌷فالیوم الذین آمنوا من الکفار یضحکون
آج مسلمان جنت میں بیٹھے ان کافروں پہ ہنسیں گے ،
واہ کیا دل کو ٹھنڈا کیا ہے اللہ کریم نے
علماء و عالمات کیاشئرکر سکتے ہیں یا کیا نہیں یہ آپ کون ہوتے ہیں بتانے والے اگر عام لوگ منکرات میں ہوں تو علماء کا فرض ہے ان منکرات سے روکیں لیکن علماء پہ ھنسنا ، ان کے کردار کو موضوع بحث بنانا ان کی کردار کشی کرنا ، اس کا حق آپکو کس نے دیا ہے
یہ ہے الحاد کی محنت کہ پہلے دین و انسانیت کی بحث چھیڑ کر مذہب اور انسانیت کو الگ گیا پھر علماء کے کردار کو مشکوک بناکے عوام کا ان سے اعتماد ختم کردیا ، اگر علماء پہ اعتماد نہیں کریں گے تو پھر دین سیکھنے کے لئے کس طرف رجوع کریں گے ، خدارا ہوش کیجئے ،
اور علماء عالمات سے میری دست بستہ گزارش ہوگی کہ خدارا اپنے مقام و مرتبے کو مت بھولئے ، اپنے آپ کی قدر پہلے خود کیجئے ، اپنے ہر عمل پہ سوچئے یہ دین کی بدنامی کا باعث تو نہ بنے گا ، یہ میرے اساتذہ کی بدنامی کا باعث تو نہیں ہوگا ، دنیا چند روزہ ہے اسی چند روزہ زندگی میں تعیشات کا روزہ رکھ لیجئے دین کو مت داغدار کیجئے اور اپنے اوپر “” بولنے والوں”” تمسخر اڑانے والوں کی قطعا پرواہ مت کیجئے
اس صبر پہ بہت بڑا اجر ملے گا
اور باقی سب سے بھی گزارش ہے ہر معاملے میں اسوۂ نبی ﷺ کو دیکھا کیجئے کہ اس معاملے میں محبوب ﷺ کا طریقہ سنت کیا تھی ،،، اپنے الفاظ سے دوسروں کے دلوں پہ مرہم نہیں لگا سکتے تو زخم بھی مت لگائیے جانے دیجئے ،،، اگر آپ کو علماء و عالمات کا کردار پسند نہیں فاصلہ اختیار کیجئے یہ انبیاء کے وارث ہیں ، اور ان کا اللہ وارث ہے تو آپ لوگوں کی جنگ کو اللہ کی جنگ مت بنائیے ، اللہ فرماتا ہے نا۔ وھو یتولی الصالحین 🌹
تو ان علماء میں کتنے صلحاء ہوں کتنے اللہ والے ہوں آپ کو معلوم نہ ہو تو آپ ان کی کردار کشی کر کے اللہ کے ساتھ اعلان جنگ مت کریں ،
غمزدہ دل کے ساتھ کہتی ہوں جن کے بارے میں اپ سے قبر و حشر میں سوال نہیں ہونا ان معاملات میں پڑ کے اپنے قبر و حشر کا حشر نشر مت کیجئے ،
آپ خود اللہ کی کتنی فرمانبرادی کر رہے ہیں یہ آپ کا میرا ہم سب کا مسئلہ ہونا چاہئیے ،
اللہ کریم ہمیں اپنے فرمانبردار بندے بندیوں میں شامل فرمائے آمین
کسی کو کوئی بات بری لگی ہو تو پیشگی معذرت
آسانیاں تقسیم کیجئے ، آسانیاں پائیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں