
سمیع اللہ غزنوی
“ایک نظریہ دو مذہب”
اس کائنات میں بظاہر اتفاقی معلوم ہونے والے بعض چیزیں اتفاقی نہیں ہوتی۔ اگر غور سے ان کا مشاہدہ کیا جائے تو ان میں تاریخی و عقلی ربط ہوتا ہے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ اس میں قومیت، عصبیت، مذہبی امتیاز جیسے کسی چیز کی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی نک کٹا حبشی بھی اسلام قبول کرے تو کل کو مسلمانوں کی مسجد میں ان کا امام اور سیاست میں امیر المومنین بن سکتا ہے۔ اسلام کے علاوہ باقی جتنے بھی مذاہب ہیں ان میں ایک چیز قدر مشترک پائی جاتی ہے۔ ہر مذہب کے افراد اپنے آپ کو نسلی اور خونی اعتبار سے دوسری قوموں سے جدا اور ممتاز رکھنا چاہتی ہے۔ ان کی ظاہری اجتماعیت اگرچہ مذہب پر ہے۔ مگر جب دوسری قوم ان کا مذہب قبول کرے توان کو اپنا ہم پلہ قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ ان کی عصبیت ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ غالب ہو یا مغلوب ہر صورت الحال میں اپنی نسل پرستانہ سوچ کو برقرار رکھیں۔ ان کے ہاں فضیلت کا سبب عمل اور کردار نہیں بلکہ خون، ہڈی اور نسل جیسی غیر اختیاری اور مادی چیزیں ہیں۔
عصبیت کی انتہا کو پہنچی ہوئی دو قوموں میں کافی مناسبت ہے۔ پہلی ہندو درہم۔ ان میں برہمن جو اصل ہندو ہے۔ ان کے علاوہ ان کی باقی تین ذاتیں گشتری، شودر اور اچھوت یا وہ غیر ہندو جو شدی کر کے ہندو بنائے گئے ہو۔یہ کتنی ہی مذہبی ہوں لیکن وہ برہمن کی جگہ نہیں پا سکتے۔ انہیں قیامت کی صبح تک یہ جگہ حاصل نہیں ہو سکتی جو برہمن کو حاصل ہے۔برہمن کتنا ہی بے برکت، بد کردار،بدبودار ہو وہ ہندو دھرم میں اول درجے کی مخلوق ہے۔باقی کتنے ہی پکے ہندو ہو وہ دوسرے درجے کی مخلوق ہے۔ چونکہ یہ سامی نہیں بلکہ انسانی تخلیق کردہ مذہب ہے اسی لیے مذہبی جاگیرداری فقط ایک ذات کو حاصل ہے۔ اس جاہلانہ اور غیر انسانی نظریے کے حامل دوسری قوم یہود ہے۔ یہود ،ہنود جس میں لفظی مشابہت کے ساتھ نظریاتی اتحاد اتفاقی نہیں بلکہ تاریخی وعقلی ہے۔ یہود سامی مذاہب میں سے ہے ۔ایک کتاب کے پیروی کی مدعی ہے۔ ان کی مشہور مذہبی نشان” ستارہ داؤدی” ان کے مذہبی تعبیر ہے۔سیدھی اور الٹی دو مثلثوں سے بنی ہوئی چھ کونے خدا، انسان، دنیا ،وحی ،مخلوق، نجات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مگر یہ سب دعوے فقط دعوے ہے۔
دنیا میں ہر برائی کی پیچھے یہودی ذہن کار فرما ہے ۔یہود دنیا کو بے دینی،فحاشی و عریانی ،بےراہ روی اور خدا فراموشی میں مبتلا دیکھنا چاہتی ہے۔ کمیونزم جیسے دہریہ انقلاب ہو یا جمہوریت جیسی خدا بیزار طرز حکومت ہو، ہم جنس پرستی سے لے کر فحاشی و عریانی پھیلانے تک ہر برائی کی سرپرستی یہودیوں نے کی تاکہ دنیا پیٹ اور شرمگاہ کی تقاضوں کی تکمیل کے چکر میں پڑھ کر ان کی غلامی کرتی رہے اور کسی بلند مقصد زندگی کا تصور اس کی حاشیہ خیال میں بھی نہ آئے۔
یہود دنیا پر اپنا تسلط چاہتا ہے لیکن اس کی یہ صورت نہیں کہ نسل انسانی ان کا خدائی مذہب قبول کر لے ۔ اگر یہودیت میں نجات ہے تو اخروی نجات ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک اس کی شکل یہ ہے کہ سارے لوگ جانوروں کی طرح بے دین، ملحد ،لا مذہب اور دین بیزار و گمراہ ہو کر ان کی چاکری کریں۔ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ کوئی غیر یہودی یہودی ہو جائے۔ اگر کوئی دل و جان سے پورے اخلاص کے ساتھ یہودیت قبول کر لے تو بھی ان کے نزدیک یہودی نہیں بن سکتا۔
نسلی تفوق کو اپنے مذہب، ملت اور امت کی بنیاد بتانے کی شیطانی نظریے کے علاوہ یہود ہنود میں اور بھی مشترک باتیں ہیں۔ دونوں طبقے خود کو اللہ کے مقبول بندے سمجھتے ہیں مگر پھر بھی اللہ کے ساتھ لوگوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں تو کسی کو اوتار مانتے ہیں۔ ہندو اللہ کی اس قدر گستاخ ہے کہ اللہ کے ساتھ بندروں ،سانپوں اور چوہوں جیسی مخلوق کو شریک کرتے ہیں۔ یہودی انبیاء کرام اور اولیاء اللہ کے گستاخ ہیں۔ ان پر تہمت لگانے اور قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ایک بات ہے کہ دونوں مسلمانوں کے مقابلے میں احساس کمتری اور محرومی کا شکار ہے۔ ہنود کے دل میں اس بات کا قلق ہے کہ ہمارے خداؤں کو نہ ماننے والے کس طرح عرب و ہند میں ہم پر غالب آئے اور یہود کو اس بات کا غم ہےکہ ہمیں نبوت و قیادت سے محروم کر کے امی اور ان پڑ لوگوں کو کس طرح نبوت دی گئی اور دنیا کی علمی اور سیاسی قیادت پر منتخب کیا گیا۔ اس وقت دونوں قوموں میں مسلمانوں کے خلاف اتحاد “تخالف” کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم ہو یا فلسطینیوں کو سرزمین قدس سے بے دخل کرنی ہو، مسجد اقصی گرانی ہو یا بابری مسجد شہید کرنی ہو، مشرق وسطی میں اکھنڈ بھارت کا قیام ہو یا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ، پاکستان میں پانی چھوڑنا ہو یا فلسطینیوں کو قحط سے ہلاک کرنا ہو۔ سب چیزیں قدر مشترک دونوں میں پائی جاتی ہیں۔ مگر یاد رکھیے جس طرح بھارت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے اسی طرح اسرائیل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بھی پاکستانی ہے۔ یہود و ہنود کی نظر میں پاکستان اس لیے کھٹکتا ہے کہ روئی زمین پر دونوں کا واحد مقابل پاکستان ہے۔دونوں جانتے ہیں ان میں دین کا جذبہ، جہاد کا شوق اسلام کی نشاۃ ثانیہ بن سکتی ہے۔ شوق شہادت، جذبہ جہاد کیوں نہ ہو فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے آخر زمانے میں اللہ تعالی خراسان (پاکستان وافغانستان)اور اہل فلسطین کے مسلمانوں سے جہاد اور نصرت اسلام کے حوالے سے خوب کام لے گا۔ یہ امام مہدی کی مددگار حضرت عیسی علیہ السلام کے پیروکار بن کر دجال اکبر کا قلع قمع کریں گے ان شاءاللہ۔