عنوان: حقیقی ذہانت کا انتخابتحریر : ڈاکٹر عائشہ اسد
“داخلہ امتحانات میں سختی نہیں، شفافیت اور سوچ کی گہرائی درکار ہے۔”
پاکستان میں اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے مقررہ شرائط بظاہر میرٹ کے اصول پر مبنی ہیں، مگر درحقیقت یہ نظام ایک غیر متوازن دوڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نمبروں کو غیر معمولی وزن دے کر ہم نے اپنے طلبہ کو رٹہ بازی کے ایسے شکنجے میں جکڑ دیا ہے جہاں فہم و فراست، تجزیاتی سوچ اور عملی ذہانت ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ نتیجتاً، وہ طلبہ جو حقیقت میں اہل اور تخلیقی سوچ رکھتے ہیں، اکثر صرف چند نمبروں کے فرق سے اپنی منزل سے دور رہ جاتے ہیں۔
موجودہ میرٹ فارمولا زیادہ تر 10٪ میٹرک، 40٪ انٹرمیڈیٹ اور 50٪ داخلہ امتحان (مثلاً MDCAT یا ECAT) پر مشتمل ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبہ پنجاب میں 2024 کے MDCAT کے نتائج کے مطابق تقریباً 1,94,000 امیدواروں میں سے صرف 28 فیصد امیدوار 60 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کر سکے۔ اسی طرح ECAT (Engineering Colleges Admission Test) میں، جو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے تحت ہوتا ہے، 2024 کے امتحان میں تقریباً 42,000 امیدواروں میں سے صرف 26 فیصد نے 50 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف رٹا یا کتابی تیاری سے یہ امتحانات نہیں جیتے جا سکتے — بلکہ حقیقی فہم اور تجزیاتی صلاحیت ہی فیصلہ کن عنصر ہے۔
اس پس منظر میں یہ سوال ناگزیر ہے کہ جب MDCAT اور ECAT دونوں بنیادی طور پر “conceptual reasoning” اور “problem solving” کو جانچنے کے لیے بنائے گئے ہیں تو پھر ان دونوں کے میرٹ فارمولا میں یکسانیت کیوں نہیں؟ کیوں ایک امتحان میں انٹرمیڈیٹ مارکس کو زیادہ وزن دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے میں نسبتاً کم؟ تعلیم کے بنیادی اصول کے مطابق، پیشہ کوئی بھی ہو — چاہے وہ طب ہو یا انجینئرنگ — داخلے کا معیار طالب علم کی فہم، تجزیاتی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور منطقی طرزِ فکر پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ محض اسکول یا کالج کی ظاہری کارکردگی پر۔
بین الاقوامی سطح پر متعدد ممالک نے اسی نکتے پر اپنے نظامِ داخلہ کی اصلاح کی۔ بھارت میں NEET-UG کے ذریعے میڈیکل کالجوں میں داخلہ اب مکمل طور پر ٹیسٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جبکہ JEE (Joint Entrance Examination) انجینئرنگ اداروں کے لیے الگ مگر تقریباً مساوی ماڈل کے طور پر رائج ہے۔ دونوں میں بورڈ امتحانات محض اہلیت (eligibility) کے لیے استعمال ہوتے ہیں، میرٹ کے لیے نہیں۔ 2023 کے اعداد کے مطابق NEET-UG میں 23 لاکھ امیدواروں میں سے 11.5 لاکھ اہل قرار پائے، جبکہ JEE-Advanced میں 2.5 لاکھ میں سے صرف 43,000 طلبہ کامیاب ہوئے۔ دونوں ٹیسٹ طلبہ کی “conceptual clarity” پر مبنی ہیں، نہ کہ محض یادداشت پر۔
پاکستان میں بھی یہی منصفانہ ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اگر MDCAT اور ECAT دونوں کے لیے ایک متحدہ فارمولا متعارف کر دیا جائے — مثلاً ٹیسٹ کے لیے 80 فیصد وزن اور انٹرمیڈیٹ مارکس کے لیے صرف 20 فیصد — تو اس سے رٹہ کلچر کا بوجھ کم ہوگا، اور طلبہ کو علم کی گہرائی اور تصوراتی سمجھ کی طرف راغب کیا جا سکے گا۔
مزید برآں، موجودہ بورڈ امتحانات میں بھی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پرچے اب بھی یادداشت پر مبنی ہیں، جبکہ دنیا بھر میں امتحانات کو “competency-based assessment” کی سمت منتقل کیا جا چکا ہے۔ اگر ہم واقعی میرٹ کو درست معنوں میں بحال کرنا چاہتے ہیں تو اسکول اور کالج سطح پر بھی سوالات کو تصوراتی (conceptual) بنانا ہوگا، مختصر جوابات، ملٹی پل چوائس (MCQs) کے ساتھ منفی مارکنگ (negative marking) اور “sliding scale scoring” جیسے جدید عناصر متعارف کرانے ہوں گے تاکہ محض یاد کرنے کے بجائے سمجھنے کی صلاحیت کو فروغ ملے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ داخلہ امتحانات کو مزید جامع اور تجزیاتی بنایا جائے — سوالات کو مختلف سطحوں پر تقسیم کیا جائے: 40 فیصد بنیادی علم، 40 فیصد اطلاقی فہم، اور 20 فیصد تجزیاتی و منطقی استدلال پر مبنی ہوں۔ اس سے امتحان صرف رٹہ یاد کرنے والوں کے لیے مشکل نہیں بلکہ سوچنے والوں کے لیے انعام بن جائے گا۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2023 میں پنجاب میں MDCAT کا اوسط اسکور تقریباً 49 فیصد رہا، جب کہ بورڈ امتحانات میں اوسط کامیابی کی شرح 85 فیصد سے زیادہ تھی۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ اسکول و کالج کے نمبرز حقیقی علمی صلاحیت کے عکاس نہیں — بلکہ نظام کے اندر گریڈ انفلیشن (grade inflation) موجود ہے، جہاں ہر سال اوسط نمبر بڑھتے جا رہے ہیں مگر معیار کم ہوتا جا رہا ہے۔
اگر ہم ایک متحدہ ماڈل اپنا لیں — مثلاً MDCAT اور ECAT دونوں کے لیے ایک ہی طرح کا وزن، ایک ہی طرح کی difficulty scaling، اور ایک ہی معیار پر مبنی conceptual testing — تو یہ نہ صرف میرٹ کو شفاف بنائے گا بلکہ پورے تعلیمی ڈھانچے میں اصلاح کی بنیاد رکھے گا۔ اس ماڈل سے صوبوں کے درمیان تفاوت (disparity) بھی کم ہوگی، کیونکہ موجودہ نظام میں ایک صوبے کے بورڈ کے نمبر دوسرے صوبے کے مقابلے میں زیادہ “inflated” ہوتے ہیں، جس سے بعض امیدوار بلاوجہ نقصان میں جاتے ہیں۔
آخرکار، ہمارا مقصد صرف امتحانات کو سخت بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں منصفانہ، شفاف اور فہم پر مبنی بنانا چاہیے۔ میرٹ کا اصل مقصد یہی ہے کہ وہ ذہانت اور قابلیت کو پرکھے، نہ کہ امتحان میں زیادہ رٹے گئے مواد کو۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کو بھی ایسے نصاب اور تدریسی طریقے اختیار کرنے ہوں گے جو تجزیاتی، سائنسی اور منطقی سوچ کو فروغ دیں، تاکہ جب طلبہ امتحان گاہ میں بیٹھیں تو وہ صرف یاد کی ہوئی باتیں نہ دہرا رہے ہوں بلکہ اپنی سمجھ کو استعمال کر رہے ہوں۔
اگر یہ اقدامات بروقت اٹھائے جائیں تو پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ رٹا کلچر کی جگہ فہم اور تحقیق کا کلچر آئے گا، طلبہ نمبرات کے پیچھے بھاگنے کے بجائے علم کے پیچھے جائیں گے، اور داخلے کا میرٹ درحقیقت ذہانت اور قابلیت کا عکاس بنے گا — جیسا کہ ہونا چاہیے۔