0

ولی اللہ معروف یا اللہ کا ولی/تحریر/شہباز اکبر الفت

80ء ـ کی دہائی کے وسط میں جب ہم لوگ کوٹ عبد المالک آئے تو روز ہی کسی نہ کسی بچے کی گمشدگی کا اعلان سن کر کلیجہ دہل جاتا تھا ۔ اللہ غریق رحمت کرے میری امی تو ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھیں اس کے باوجود کم از کم دو مرتبہ کوٹ عبد المالک اور ایک بار بادامی باغ میں ۔ میں بھی اغواء ہوتے ہوتے بچا

ولی اللہ معروف یا اللہ کا ولی/تحریر/شہباز اکبر الفت

آج کل ایک صاحب ولی اللہ معروف سوشل میڈیا کے ذریعے گم شدہ افراد کو ان کے اہل خانہ تک پہنچانے کے لیے بڑی محنت کر رہے ہیں ۔ یہ ایک قابلِ تعریف اور قابل تقلید عمل ہے جس کو سراہا جانا بہت ضروری ہے۔ وہ اس معاملہ میں اس حد تک ذمہ دار ہیں کہ فریقین کے بارے میں تحقیقات کرتے ہوئے ڈی این اے تک کروانے سے بھی نہیں چوکتے تاکہ بچھڑے ہوؤں کو ملاتے وقت کوئی کمی کوتاہی نہ ہو۔ اللہ پاک اجر عظیم عطا فرمائے آمین ثم آمین
ان کے پیج پر بڑی دلسوز کہانیاں پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ ایسے ایسے واقعات کہ جگر چھلنی ہو جائے۔ حلق نمکین، آنکھیں بھر آتی ہیں ۔ سچ پوچھیے تو میرے جیسے حساس بندے کے لیے اپنوں سے جدائی کا تصور ہی سوہان روح سے کم نہیں ۔ مجھے یاد ہے ۔ 80ء کی دہائی کے وسط میں جب ہم لوگ کوٹ عبد المالک آئے تو روز ہی کسی نہ کسی بچے کی گمشدگی کا اعلان سن کر کلیجہ دہل جاتا تھا ۔ اللہ غریق رحمت کرے میری امی تو ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھیں اس کے باوجود کم از کم دو مرتبہ کوٹ عبد المالک اور ایک بار بادامی باغ میں ۔ میں بھی اغواء ہوتے ہوتے بچا۔ پہلی مرتبہ اسکول سے واپس آتے ہوئے ایک عجیب و غریب حلیے والے بابے نے جس کے ہاتھ میں کھلی ہوئی بوری تھی۔ مجھے دور سے آواز دے کر رکنے کو کہا جس پر میں ڈر کر بھاگا تو اس نے بھی میرے پیچھے دوڑ لگا دی تاہم اسی وقت آبادی شروع ہو گئی اور وہ واپس پلٹ گیا۔ دوسری بار ابو کی نسوار لینے لکڑی کے ٹال پر گیا تو ٹال والے نے مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ اندر جا کر لے آؤ لیکن میں نے ڈر کر دوڑ لگا دی اور سیدھا آکر ابو کو بتایا جنہوں نے وہاں جاکر خوب ہنگامہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد ہی وہ ٹال بھی ختم ہوگیا اور ٹال والے بھی کہیں اور چلے گئے۔ تیس ، چالیس برس ہونے کو آئے۔ ہمارے خاندان کی تیسری نسل بچوں والی ہوگئی ہے ۔ ہم لوگ بچوں کے معاملے میں ایک لمحے کی کوتاہی نہیں کرتے۔ آج ہمارا گھر گلی کے بالکل آخر میں ہے۔ 20,25 سال سے سب لوگ اکٹھے رہ رہے۔ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں اس کے باوجود میری نظر ہمیشہ دروازے پر رہتی ہے اور جونہی شعیب لمحہ بھر کے لیے دروازے سے باہر۔ آنکھوں سے اوجھل ہو ۔ میں تڑپ جاتا ہوں اور ساری دردیں بھول کر دروازے کی طرف لپک جاتا ہوں۔
ولی اللہ معروف کی خدمات دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے یہ ولی اللہ واقعی اللہ کا ولی ہے، اللہ تعالیٰ ان کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے۔
اللہ پاک کسی کو اپنوں سے جدائی کا دکھ نہ دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں