89

شریعت کے لیے سیاسی جدوجہد کا شرعی طریقہ/تحریر/واجد علی تونسوی

سیاست دین کا ایک شعبہ ہے لیکن دین کا مقصود اصلی سیاست نہیں ،بلکہ اس کے ذریعے رضائے حق کا حصول ہے۔ ہر قسم کی سیاسی جدوجہد شرعی احکام کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے ۔سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دین کے کسی معمولی سے معمولی حکم یا تقاضے کو قربان کرنا جائز نہیں ہے۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب جدوجہد کرنے والا پورے اخلاص کے ساتھ صرف دین حق کی سربلندی اور باری تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے یہ جدوجہد کررہا ہو، محض جاہ و جلال کا حصول مطمع نظر نہ ہو اور وہ شدید نفسانی تقاضوں کے باوجود اپنے آپ کو شریعت کے تابع رکھنے پر قادر ہو،ورنہ سیاست ایسا خاردار ہے جس میں قدم قدم پر نام و نمود اور جاہ و جلال کے فتنے پیدا ہوتے ہیں ،نفس و شیطان کی تاویلات انسان پر یلغار کرتی ہیں اور بسا اوقات وہ ان تمام محرکات سے مغلوب ہو کر اسی راستے پر چل پڑتا ہے جس پر دنیا جا رہی ہے اور رفتہ رفتہ اس کی اسلامی سیاست کے بجائے لادینی سیاست ہو کر رہ جاتی ہے ۔اس جدوجہد کی شرط اول یہ ہے کہ انسان کے اعمال و اخلاق کا تزکیہ ہو چکا ہو اور اس کے جذبات و خیالات احساسات کے سانچے میں ڈھل چکے ہوں ،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیئیس سالہ عہد نبوت میں ابتدائی تیرہ سال اس طرح گزرے کہ ان میں کوئی جہاد ہے نہ حکومت و ریاست ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سیاسی جدجہد ہے۔ اگر کوئی اذیتیں دیتا ہے تو بھی جہاد کرنے کی بجائے صبر و تلقین کا حکم ہے، یہ سب اس لیے نہیں تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی کیونکہ تعداد تو مدینہ میں آنے کے بعد بھی عرب کے کفار کی بنسبت کم تھی اور اکثر جنگوں میں بھی صحابہ کرام علیہم اجمعین کی تعداد کم ہی ہوتی تھی ، یہ تیرہ سال تعلیم و تربیت اور تزکیہ اخلاق کے سال ہیں ،جب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کے اخلاق و اعمال صیقل ہو چکے تو اس کے بعد مدنی زندگی میں حکومت و سیاست اور جہاد و قتال کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اب اس سے معلوم ہوا کہ پہلے اپنے آپ کو اخلاقی اور روحانی اعتبار سے تیار کیا جائے تو اس کے بعد سیاسی جدوجہد سے شریعت کا نفاذ ممکن ہے ۔دوسری شرط یہ ہے کہ اسلامی سیاست میں جدوجہد کی تدبیروں کا شرعاً جائز ہونا بھی ضروری ہے لیکن آج کل عموماً سیاسی جدوجہد کے دوران یہ پہلو نظروں سے بالکل اوجھل ہو جاتا ہے جو تدبیریں لادینی سیاست کے علمبردار نے اختیار کیے ہوئے ہیں اور جن کا رواج عام ہوچکا ہے؛ انہیں یہ دیکھے بغیر اختیار کر لیا جاتا ہے کہ یہ تدبیریں اپنے تمام لوازمات کے ساتھ جائز ہیں بھی یا نہیں ؟مثلا حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جو ہڑتالوں کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے،وہ غیر شرعی ہوتا ہے جس میں اکثر لوگوں کی رضا مندی شامل نہیں ہوتی بلکہ زبردستی دکانیں بند کروا دی جاتی ہیں،سڑکوں کو بند کیا جاتا ہے ،لوگوں کو اذیتیں دی جاتی ہیں ،سنگباری اور آتشزدگی تو ہڑتال کا لازمی حصہ بن گئے ہیں ، چلتی ہوئی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جاتا ہے ، بسا اوقات کئی بے گناہ لوگ بھی اس دوران مارے جاتے ہیں، کئی مریض ہسپتالوں میں نہ پہنچنے کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور بہت سے غریب لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ تمام چیزیں آج کل ہڑتال کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں، ورنہ ان کے بغیر ہڑتال کو کامیاب نہیں سمجھا جاتا۔لہذا یہ تمام کام غیر شرعی ہیں۔اسی طرح مطالبات منوانے کے لیے ایک طریقہ بھوک ہڑتال کا بھی اختیار کیا جاتا ہے، اگر کوئی گرفتار ہو جائے تو وہ جیل جانے میں مقاطعہ جوعی کرتے ہیں یہاں تک کہ مرجاتے ہیں اور قوم میں ان کی مدح کی جاتی ہے جبکہ شرعیت میں ایسا کرنا خود کشی کے زمرے میں داخل ہے جو کہ حرام ہے۔شرعیت میں تو جان بچانا اس قدر فرض ہے کہ اگر حالت اضطرار میں مرنے کا اندیشہ ہو تو اگر مردار کھانا بھی ملے تو اس کا اتنا کھانا فرض ہے کہ اس کی جان بچ جائے چہ جائیکہ طعام حلال کا ترک۔ اس فعل کی مدح کرنے میں تو اندیشہ کفر بھی ہے کہ شریعت میں جس فعل کو مذموم کہا گیا اور یہ اس کو محمود کہتا ہے۔ لہذا یہ طریقہ بھی غیر شرعی ہے۔آج کل پروپیگنڈے کو بھی سیاست میں نہایت اہم مقام حاصل ہے۔اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والے حضرات بھی بسااوقات اس مروجہ ذرائع کو استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں،ان کے جائز وناجائز ہونے کی طرف دھیان نہیں جاتا یا پھر یہ نظر کار فرما ہوتا ہے کہ سیاست کی اصلاح ایک بلند مقصد ہے اور اس کے حصول کے لیے چھوٹے چھوٹے امور کی قربانی دی جاسکتی ہے ۔غلط بیانی تو حرام ہے ہی لیکن اس کے علاوہ ان کی غیبت کرنا ، بدگوئی ،ان پر بہتان و افتراء اور تحقیق کے بغیر افواہیں پھیلانا گناہ کبیرہ ہے لیکن یہ سب امور آج کل کی سیاست میں شعوری یا غیر شعوری طور پر داخل ہو گئی ہیں۔مغربی سیاست کے رواج عام کے سبب ہمارے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ احتجاج کا طریقہ ہڑتالوں ، جلوسوں اور مظاہروں ہی میں منحصر ہے ،حالانکہ ایک مسلمان کو احتجاج کرنے کا طریقہ بھی خود اپنے دین کے احکام ہی لینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں